قرآن کریم کی حفاظت کرنے والا خود اللہ ہے: مولانا ارشدمدنی

قرآن کریم کی حفاظت کرنے والا خود اللہ ہے: مولانا ارشدمدنی

وطن سماچار ڈیسک

ہم نے خود اتاراہے یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں (قرآن)
قرآن کریم کی حفاظت کرنے والا خود اللہ ہے: مولانا ارشدمدنی

 
ہررمضان کے مبارک مہینہ میں جبرئیل امین اور رسول اللہ ﷺ اتنی مقدارمیں دورکیاکرتے تھے کہ پورے مہینہ میں ایک قرآن مکمل ہوجاتاتھا، جو آخری رمضان گزراہے اس میں دودورہوئے،23/سالہ دورنبوت میں جبرئیل امین کے ساتھ 24مرتبہ قرآن کا دورہواہے۔


اللہ کی کتابیں جو اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے دنیا میں اتاری ہیں اور وہ پڑھی پڑھائی جاتی بھی ہیں تین ہیں: ’’تورات‘‘ ’’انجیل‘‘ اور قرآن شریف، چوتھی کتاب جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ ’’زبور‘‘ ہے؛ لیکن اب اس کو پڑھنے پڑھانے والی کوئی امت لگتا ہے کہ زمین پر نہیں ہے، جس طرح ’’تورات‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور ’’انجیل‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی اسی طرح ’’قرآن کریم‘‘ حضرت محمد علی نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام کو دیا گیا، پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگرچہ تینوں مذکورہ کتابیں اللہ کی بھیجی ہوئی کتابیں ہیں اور ’’یہود‘‘ ’’عیسائی‘‘ اور مسلمان تینوں امتیں ان کو اپنے سر اور آنکھوں پر رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں کو جتنا والہانہ تعلق اورشغف اپنی کتاب قرآن شریف سے ہے ’’یہود‘‘ اور ’’عیسائی‘‘ امتوں کو اپنی کتاب سے نہیں ہے؛ چنانچہ دنیا میں صرف قرآن ہی کے حافظ مسلمان ملتے ہیں تورات وانجیل کے حافظ یہود ونصاریٰ نہیں۔
دوسری کتابوں کے مقابلہ میں قرآن کریم کا امتیاز یہ بھی ہے کہ تورات وانجیل لکھی لکھائی کتابیں اتاری گئیں؛ لیکن قرآن حسب ضرورت ایک ایک دو دو آیتیں حضرت محمد ﷺپر حکمتِ خداوندی کے مطابق ۲۳؍ سال میں اتارا گیا ہے، اور آپ ﷺکچھ متعین صحابہ کو جو لکھنا جانتے تھے ان کو بلا کر لکھا دیتے تھے جو ایک جگہ اللہ کے نبی ﷺ کی ہدایت پر محفوظ رہتا تھا لیکن چونکہ وحی آنے کا اور اللہ کی طرف سے قرآن کریم لانے کا کوئی وقت متعین نہیں تھا، سفر میں رہتے ہوئے بھی قرآن کی آیتیں اور احکام آتے رہتے تھے اس لئے کسی ایک چیز پر لکھا ہوا نہیں تھا، کچھ قرآن سفید پتھروں پر، کچھ کھجور کے درخت کے پھٹوں پر اور کچھ سوکھی جھلی پر لکھا ہوا تھا جہاں جس وقت جو چیز میسر ہو گئی اس پر لکھ کر محفوظ کر لیا گیا۔
پھر چونکہ قرآن کی آیتیں نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس فرشتہ لے کر آتا تھا اس لئے وہ آپ کے سینہ میں محفوظ رہتا تھا آپ کے سوا کوئی اور اس کو نہیں جانتا تھا اس لئے قرآن کے سب سے پہلے معلم اور پڑھانے والے آپ ہی تھے اور ابتداء ً صحابہ نے آپ ہی سے قرآن اور اس کے معانی سیکھے اور آپ ہی نے پڑھائے، کچھ صحابہ ایسے ماہر ہو گئے کہ خود نبی کریم علیہ السلاۃ والسلام نے ان کی مہارت کا اعلان کر دیا گویا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اس طرف متوجہ فرما دیا کہ میرے بعد یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے ماہر ہیں جن کو قرآن سیکھنا ہے ان سے سیکھیں، یہ لوگ بھی قرآن کے الفاظ اور معنیٰ کو جاننے میں میرے معتمد علیہ ہیں۔
یہ بے شمار صحابہ جنھوں نے قرآن خود اللہ کے رسول ﷺ سے سیکھا تھا نمازوں میں اور خاص طور پر رات کی تاریکی اور اندھیری میں حضرت محمد ﷺ کی تعلیم اور طریقہ کے مطابق پڑھا کرتے تھے اور روزانہ جہری نمازوں میں حضرت محمد ﷺکی زبان مبارک سے قرآن سنا کرتے تھے، اور خاص طور پر رمضان کے مبارک مہینہ میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خود نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا قرآن شریف پڑھنا بہت زیادہ بڑھ جاتا تھا، بلکہ ہر رمضان کے مہینہ میں جبرئیل امین ’’فرشتہ‘‘ رسول اللہ ﷺکے پاس روزانہ آتا تھا اور رسول اللہ ﷺکے ساتھ دونوں قرآن کی اتنی مقدار کا دور کیا کرتے تھے کہ پورے مہینہ میں ایک قرآن مکمل ہو جاتا تھا اور جو آخری رمضان گزرا ہے اس میں دو دور ہوئے اور دو قرآن ختم ہوئے، جس کا مطلب ہے کہ ۲۳؍ سالہ دور نبوت میں جبرئیل امین کے ساتھ چوبیس مرتبہ دور ہوا ہے، یہ سارا پروگرام اللہ کی طرف سے اللہ کے اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے کیا جارہا
تھا جس کو سورۃ نمبر 15؍ کی آیت نمبر9؍ میں کیا گیا تھا۔
’’ہم نے خود اتارہے یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں (قرآن)
‘‘۔
یہاں ایک اور چیز بھی قابل توجہ ہے کہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کا جو طبقہ اپنے دلوں میں سب سے زیادہ خشیتِ خداوندی رکھنے والا ہے سب سے زیادہ اسلام پر مرنے مٹنے والا ہے سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺسے محبت رکھنے والا ہے اور براہ راست بلا واسطہ رسول خدا سے قرآن اور دین کو لینے والا اور سمجھنے والا ہے وہ طبقۂ صحابہ ہے رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب آج چودہ سو سال کے بعد دنیا کی محبت کا مارا مسلمان اللہ کی کتاب قرآن سے بمقابلہ دوسری کتب خداوندی کو ماننے والوں کے بہت زیادہ شغف اور عقیدت رکھتا ہے تو اُس زمانہ میں صحابہؓ کو قرآن سے کتنا شغف اور محبت ہوگی جس قرآن کے آج پوری دنیا میں کروڑوں مسلمان حافظ ہیں تو اس وقت کتنے صحابہ قرآن کے حافظ ہوں گے اور رات دن قرآن کی تلاوت کرکے رحمت خداوندی کی قربت حاصل کرتے ہوں گے؟۔
محدثین لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۱۱ ؁ھ جنگ یمامہ میں حفاظ صحابہ کم وبیش ۷۰۰؍ شہید ہوئے ہیں جس کے بعد اللہ نے سب سے پہلے حضرت عمرؓ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اگر اسی طرح حفاظ قرآن اسلام کی بقاء کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے تو قرآن کا محفوظ رہنا کہیں مشکل نہ ہو جائے تب انھوں نے خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ سے فرمایا کہ قرآن کی حفاظت اگرچہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے زمانہ میں کرادی ہے اور وہ مختلف چیزوں پر لکھا ہوا آپ کے در دولت میں محفوظ بھی ہے لیکن اس کو مزید حفاظت کے پیش نظر کتابی شکل میں جمع کرادینا زیادہ ضروری معلوم ہو رہا ہے، یہ سجھاؤ اولِ وہلہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ نے قبول نہیں کیا اور یہ فرماتے رہے کہ جو کام رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ میں نہیں کیا اس کو ابو بکر کیسے کرے، لیکن حضرت عمرؓ کے دل کو اللہ نے اس چیز کے لئے منشرح فرما دیا تھا؛ اس لئے وہ برابر اصرار کرتے رہے یعنی دلائل کو پیش فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے خلیفۂ اول کے مبارک سینہ کو بھی خلیفہ ثانی کی رائے پر منشرح فرما دیا پھر ان دونوں نے حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کو اصرار کرکے رسول اللہ ﷺ کے در دولت میں جمع کردہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں یکجا جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول کا آپ پر کلی اعتماد اور بھروسہ تھا کیونکہ آپ کاتب وحی تھے اللہ کے نبی پر فرشتہ جو قرآن کی آیتیں لاتا تھا رسول اللہ ﷺ زیادہ تر اس کو آپ سے لکھواتے تھے اس لئے ہم بھی آپ پر اعتماد کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بے شمار صحابہؓ کے سینوں میں قرآن کریم موجود ہے اور جو لوگ لکھنا جانتے ہیں وہ اس کو لکھ کر بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے؛ چنانچہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی یاداشت اور صحابہ ؓ کے سینوں میں محفوظ اور مختلف چیزوں پر لکھا ہوا نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے در دولت میں محفوظ رکھے ہوئے قرآن کو ملا کر اور صحابہ سے ایک ایک آیت کو سن سن کر پوری احتیاط کے ساتھ کتابی شکل میں جمع کر دیا۔
اس وقت تک قرآن کریم کے حافظ اگرچہ بے شمار صحابہ اور تابعین تھے لیکن کتابی شکل میں لکھا ہوا پورے قرآن کا یہی ایک نسخہ تھا جو حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی زیر نگرانی رسول اللہ ﷺکے جمع کرائے ہوئے قرآن سے اور صحابہ کے سینوں میں محفوظ ایک ایک آیت کو اس سے ملا کر محفوظ کیا گیا تھا اور 23؍ سال تک جس کو رسول اللہ کی زبان مبارک سے سنتے سناتے اور خود پڑھتے پڑھاتے آرہے تھے۔
اس کتابی شکل میں اصل سے نقل کئے ہوئے نسخہ کو پھر اللہ کے نبی کے در دولت میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ کر دیا گیا، باقی قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ ان قرآن کے حافظ ہزاروں صحابہ اور تابعین سے چلتا رہا جنھوں نے قرآن کی تعلیم ہی کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنایا تھا اور اسی کو وہ اپنی دنیا اور آخرت کا سب سے مبارک اور مقبول مشغلہ جانتے تھے؛ کیونکہ اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ یہ پیغام دے کر دنیا سے گئے تھے۔
’’تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو پڑھا اور پڑھایا‘‘۔
اس لئے ایک جماعت نے قرآن کے پڑھنے اور پڑھانے ہی کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا تھا یہاں تک کہ کم وبیش دو سال اور ۶؍ ماہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا دور خلافت گذرا اور اس کے بعد کم وبیش ۱۰؍ سال حضرت عمرؓ کا دور خلافت گذرا اور اسی طرح مسلمان لاکھوں کی تعداد میں قرآن سیکھتے اور سکھاتے رہے یہاں تک کہ حضرت عثمان غنیؓ کا زمانہ آیا اور ان کی خلافت کا زمانہ کم وبیش ۱۲؍ سال ہے انھوں نے اپنے زمانہ میں اسکندریہ، سابور، افریقہ، قبرص، روم، کے ساحلی علاقے، فارس، خوزستان، طبرستان، کرمان، سجستان وغیرہ کو فتح کیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام کی تعلیمات اور مسلمانوں کے معاملات اور اخلاق کو دیکھ کر اور برت کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے تو مختلف اسباب کے پیش نظر اس کی ضرورت پڑی کہ قرآن کے مختلف نسخے دنیا کے مختلف ملکوں کو بھیجے جائیں تاکہ وہاں کے مسلمان قرآن کو سیکھ سکیں کیونکہ اسلام کی بنیاد یہی کتاب الہٰی ہے انسان اس کو زندگی میں اتارے بغیر مکمل اللہ کی بندگی کا نمونہ نہیںبن سکتا؛ چنانچہ کم وبیش 18؍ یا 19؍ سال کے بعد حضرت عثمانؓ نے قرآن شریف کے اس پرانے نسخہ کو جو نبی کریم ﷺ کے در دولت میں محفوظ تھا ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منگوایا، اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ ہی کو یہ ذمہ داری دو بارہ دی کیونکہ انھوں نے پہلی مرتبہ کتابی شکل میں قرآن کو جمع کرنے میں جو نہایت محتاط طریقہ اپنایا تھا وہ بہت قابل اعتماد تھا اور بالخصوص امت محمدیہ میں سب سے بلند وبرتر یعنی ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کا پسندیدہ طریقہ تھا، اور ان کے ساتھ مزید تین قریشی صحابہ کو بھی لگایا تاکہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام جس طرح قرآن کی تلاوت فرماتے تھے اسی طرح جمع کرنے میں ان کی مدد کریں، انھوں نے اس مرتبہ بھی قرآن کو کتابی شکل دینے میں وہی طریقہ دوبارہ اپنایا جو پہلے اپنا یا تھا۔
اس بات کو یہاں ذہن نشین کرنا چاہئے کہ رسول اللہﷺ کو دنیا سے گئے ہوئے اگرچہ کم وبیش ۲۰؍سال گزر گئے تھے لیکن اسلام جنگل کی آگ کی طرح دنیا میں پھیل رہا تھا، پوری پوری قومیں اور ملک حلقہ بگوش اسلام ہو رہے تھے، بڑے بڑے صحابہ اور تابعین جگہ جگہ قرآن پڑھا رہے تھے اور لاتعداد لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور لاکھوں ایسے لوگوں کے سینوں میں قرآن محفوظ تھا جنھوں نے خود نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے قرآن سیکھا تھا یا ان کے شاگردوں سے قرآن پڑھا تھا اور اپنی زندگی میں اتارا تھا، ایسے ماحول میں حضرت عثمان غنیؓ نے قرآن شریف کے چند نسخے نہایت محتاط انداز میں تیار کرائے اور ان کو شام، کوفہ، بصرہ وغیرہ میں بھیج دیا اور ایک نسخہ مدینہ منورہ میں محفوظ رکھا گیا اور جو پہلا نسخہ تھا اس کو ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو واپس کر دیا گیا۔
یہ قرآن کریم کی حفاظت کی ایک مختصر سی تاریخ ہے جو بخاری شریف وغیرہ معتبر حدیث کی کتابوں سے لی گئی تو کیا قرآن سے گرویدگی کے اس ماحول میں اور امت کے سب سے زیادہ معتبر لوگوں کی موجودگی میں کوئی آدمی دعویٰ کر سکتا ہے کہ قرآن شریف میں حضرت عثمان غنیؓ نے کمی اور زیادتی کی ہے، اگر یہ دعویٰ لچر بوگس اور بے بنیاد نہیںہے تو پھر کیا ہے؟
یہ سوچنا چاہئے کہ آج جب کہ دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے سینوں میں قرآن محفوظ ہے اگر آج اسلام کا کوئی دشمن قرآن میں کمی زیادتی کر ڈالے، کسی ایک آیت کی جگہ اپنی طرف سے بنا کر دوسری آیت رکھدے یا قرآن کی آیت کی جگہ کو تبدیل کر دے تو کیا وہ کامیاب ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں ہو سکتا اور یقینا نہیں ہو سکتا تو اس زمانہ میں کیسے ہو سکتا تھا جب کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زندہ تھے اور رسول اللہﷺ پر اتاری ہوئی اللہ کی کتاب پر زندگی کو ڈھالنا اور پڑھنا پڑھانا ان کا سب سے پسندیدہ عمل تھا۔
حضرت عثمانؓ پر قرآن کریم میں کمی زیادتی کا الزام لگانے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ الزام صحیح مانا جائے تو اول تو اللہ پر الزام آتا ہے کہ اس نے جو وعدہ سورۃ نمبر۱۵؍ آیت نمبر۹؍ میں قرآن کی حفاظت کا کیا تھا وہ اس کو پورا نہ کر سکا، اور حضرت عثمان کے سامنے اللہ بے بس ہوگیا۔ (العیاذ باللہ)
دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ اور بعد کے اماموں کا زمانہ آتا ہے جو اسی قرآن کو پڑھتے پڑھاتے رہے اور قرآن کی تصحیح نہیں کر سکے، میں نہیں سمجھتا کہ اہل بیتؓ پر اس سے بڑا کوئی الزام لگایا جا سکتا ہے، اس لئے قرآن کریم میں نہ کوئی تغیر ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہوگا، کمی زیادتی کا دعویٰ کرنے والا اپنی جہالت کا ثبوت دے رہا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں… اسی کو 12؍ اپریل 2021میں سپریم کورٹ کی تین ججوں کی بینچ نے ABSOLUTELY FRIVOLOUS لچر اور بے بنیاد کہا ہے۔
(مضمون مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علما ہند کی کتاب
’’قرآن کی کسی آیت یالفظ کو قرآن سے نکالنے کا دعویٰ سپریم کورٹ کی نظر میںABSOLUTELY FRIVOLOUSبے بنیاد لچر ہے‘‘ سے ماخوذ)
فضل الرحمان قاسمی پریس سیکرٹری جمعیت علمائے ہند

ہم نے خود اتاراہے یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں (قرآن)
قرآن کریم کی حفاظت کرنے والا خود اللہ ہے: مولانا ارشدمدنی
ہررمضان کے مبارک مہینہ میں جبرئیل امین اور رسول اللہ ﷺ اتنی مقدارمیں دورکیاکرتے تھے کہ پورے مہینہ میں ایک قرآن مکمل ہوجاتاتھا، جو آخری رمضان گزراہے اس میں دودورہوئے،23/سالہ دورنبوت میں جبرئیل امین کے ساتھ 24مرتبہ قرآن کا دورہواہے۔


اللہ کی کتابیں جو اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے دنیا میں اتاری ہیں اور وہ پڑھی پڑھائی جاتی بھی ہیں تین ہیں: ’’تورات‘‘ ’’انجیل‘‘ اور قرآن شریف، چوتھی کتاب جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ ’’زبور‘‘ ہے؛ لیکن اب اس کو پڑھنے پڑھانے والی کوئی امت لگتا ہے کہ زمین پر نہیں ہے، جس طرح ’’تورات‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور ’’انجیل‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی اسی طرح ’’قرآن کریم‘‘ حضرت محمد علی نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام کو دیا گیا، پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگرچہ تینوں مذکورہ کتابیں اللہ کی بھیجی ہوئی کتابیں ہیں اور ’’یہود‘‘ ’’عیسائی‘‘ اور مسلمان تینوں امتیں ان کو اپنے سر اور آنکھوں پر رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں کو جتنا والہانہ تعلق اورشغف اپنی کتاب قرآن شریف سے ہے ’’یہود‘‘ اور ’’عیسائی‘‘ امتوں کو اپنی کتاب سے نہیں ہے؛ چنانچہ دنیا میں صرف قرآن ہی کے حافظ مسلمان ملتے ہیں تورات وانجیل کے حافظ یہود ونصاریٰ نہیں۔
دوسری کتابوں کے مقابلہ میں قرآن کریم کا امتیاز یہ بھی ہے کہ تورات وانجیل لکھی لکھائی کتابیں اتاری گئیں؛ لیکن قرآن حسب ضرورت ایک ایک دو دو آیتیں حضرت محمد ﷺپر حکمتِ خداوندی کے مطابق ۲۳؍ سال میں اتارا گیا ہے، اور آپ ﷺکچھ متعین صحابہ کو جو لکھنا جانتے تھے ان کو بلا کر لکھا دیتے تھے جو ایک جگہ اللہ کے نبی ﷺ کی ہدایت پر محفوظ رہتا تھا لیکن چونکہ وحی آنے کا اور اللہ کی طرف سے قرآن کریم لانے کا کوئی وقت متعین نہیں تھا، سفر میں رہتے ہوئے بھی قرآن کی آیتیں اور احکام آتے رہتے تھے اس لئے کسی ایک چیز پر لکھا ہوا نہیں تھا، کچھ قرآن سفید پتھروں پر، کچھ کھجور کے درخت کے پھٹوں پر اور کچھ سوکھی جھلی پر لکھا ہوا تھا جہاں جس وقت جو چیز میسر ہو گئی اس پر لکھ کر محفوظ کر لیا گیا۔
پھر چونکہ قرآن کی آیتیں نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس فرشتہ لے کر آتا تھا اس لئے وہ آپ کے سینہ میں محفوظ رہتا تھا آپ کے سوا کوئی اور اس کو نہیں جانتا تھا اس لئے قرآن کے سب سے پہلے معلم اور پڑھانے والے آپ ہی تھے اور ابتداء ً صحابہ نے آپ ہی سے قرآن اور اس کے معانی سیکھے اور آپ ہی نے پڑھائے، کچھ صحابہ ایسے ماہر ہو گئے کہ خود نبی کریم علیہ السلاۃ والسلام نے ان کی مہارت کا اعلان کر دیا گویا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اس طرف متوجہ فرما دیا کہ میرے بعد یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے ماہر ہیں جن کو قرآن سیکھنا ہے ان سے سیکھیں، یہ لوگ بھی قرآن کے الفاظ اور معنیٰ کو جاننے میں میرے معتمد علیہ ہیں۔
یہ بے شمار صحابہ جنھوں نے قرآن خود اللہ کے رسول ﷺ سے سیکھا تھا نمازوں میں اور خاص طور پر رات کی تاریکی اور اندھیری میں حضرت محمد ﷺ کی تعلیم اور طریقہ کے مطابق پڑھا کرتے تھے اور روزانہ جہری نمازوں میں حضرت محمد ﷺکی زبان مبارک سے قرآن سنا کرتے تھے، اور خاص طور پر رمضان کے مبارک مہینہ میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خود نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا قرآن شریف پڑھنا بہت زیادہ بڑھ جاتا تھا، بلکہ ہر رمضان کے مہینہ میں جبرئیل امین ’’فرشتہ‘‘ رسول اللہ ﷺکے پاس روزانہ آتا تھا اور رسول اللہ ﷺکے ساتھ دونوں قرآن کی اتنی مقدار کا دور کیا کرتے تھے کہ پورے مہینہ میں ایک قرآن مکمل ہو جاتا تھا اور جو آخری رمضان گزرا ہے اس میں دو دور ہوئے اور دو قرآن ختم ہوئے، جس کا مطلب ہے کہ ۲۳؍ سالہ دور نبوت میں جبرئیل امین کے ساتھ چوبیس مرتبہ دور ہوا ہے، یہ سارا پروگرام اللہ کی طرف سے اللہ کے اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے کیا جارہا
تھا جس کو سورۃ نمبر 15؍ کی آیت نمبر9؍ میں کیا گیا تھا۔
’’ہم نے خود اتارہے یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں (قرآن)
‘‘۔
یہاں ایک اور چیز بھی قابل توجہ ہے کہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کا جو طبقہ اپنے دلوں میں سب سے زیادہ خشیتِ خداوندی رکھنے والا ہے سب سے زیادہ اسلام پر مرنے مٹنے والا ہے سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺسے محبت رکھنے والا ہے اور براہ راست بلا واسطہ رسول خدا سے قرآن اور دین کو لینے والا اور سمجھنے والا ہے وہ طبقۂ صحابہ ہے رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب آج چودہ سو سال کے بعد دنیا کی محبت کا مارا مسلمان اللہ کی کتاب قرآن سے بمقابلہ دوسری کتب خداوندی کو ماننے والوں کے بہت زیادہ شغف اور عقیدت رکھتا ہے تو اُس زمانہ میں صحابہؓ کو قرآن سے کتنا شغف اور محبت ہوگی جس قرآن کے آج پوری دنیا میں کروڑوں مسلمان حافظ ہیں تو اس وقت کتنے صحابہ قرآن کے حافظ ہوں گے اور رات دن قرآن کی تلاوت کرکے رحمت خداوندی کی قربت حاصل کرتے ہوں گے؟۔
محدثین لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۱۱ ؁ھ جنگ یمامہ میں حفاظ صحابہ کم وبیش ۷۰۰؍ شہید ہوئے ہیں جس کے بعد اللہ نے سب سے پہلے حضرت عمرؓ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اگر اسی طرح حفاظ قرآن اسلام کی بقاء کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے تو قرآن کا محفوظ رہنا کہیں مشکل نہ ہو جائے تب انھوں نے خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ سے فرمایا کہ قرآن کی حفاظت اگرچہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے زمانہ میں کرادی ہے اور وہ مختلف چیزوں پر لکھا ہوا آپ کے در دولت میں محفوظ بھی ہے لیکن اس کو مزید حفاظت کے پیش نظر کتابی شکل میں جمع کرادینا زیادہ ضروری معلوم ہو رہا ہے، یہ سجھاؤ اولِ وہلہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ نے قبول نہیں کیا اور یہ فرماتے رہے کہ جو کام رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ میں نہیں کیا اس کو ابو بکر کیسے کرے، لیکن حضرت عمرؓ کے دل کو اللہ نے اس چیز کے لئے منشرح فرما دیا تھا؛ اس لئے وہ برابر اصرار کرتے رہے یعنی دلائل کو پیش فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے خلیفۂ اول کے مبارک سینہ کو بھی خلیفہ ثانی کی رائے پر منشرح فرما دیا پھر ان دونوں نے حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کو اصرار کرکے رسول اللہ ﷺ کے در دولت میں جمع کردہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں یکجا جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول کا آپ پر کلی اعتماد اور بھروسہ تھا کیونکہ آپ کاتب وحی تھے اللہ کے نبی پر فرشتہ جو قرآن کی آیتیں لاتا تھا رسول اللہ ﷺ زیادہ تر اس کو آپ سے لکھواتے تھے اس لئے ہم بھی آپ پر اعتماد کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بے شمار صحابہؓ کے سینوں میں قرآن کریم موجود ہے اور جو لوگ لکھنا جانتے ہیں وہ اس کو لکھ کر بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے؛ چنانچہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی یاداشت اور صحابہ ؓ کے سینوں میں محفوظ اور مختلف چیزوں پر لکھا ہوا نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے در دولت میں محفوظ رکھے ہوئے قرآن کو ملا کر اور صحابہ سے ایک ایک آیت کو سن سن کر پوری احتیاط کے ساتھ کتابی شکل میں جمع کر دیا۔
اس وقت تک قرآن کریم کے حافظ اگرچہ بے شمار صحابہ اور تابعین تھے لیکن کتابی شکل میں لکھا ہوا پورے قرآن کا یہی ایک نسخہ تھا جو حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی زیر نگرانی رسول اللہ ﷺکے جمع کرائے ہوئے قرآن سے اور صحابہ کے سینوں میں محفوظ ایک ایک آیت کو اس سے ملا کر محفوظ کیا گیا تھا اور 23؍ سال تک جس کو رسول اللہ کی زبان مبارک سے سنتے سناتے اور خود پڑھتے پڑھاتے آرہے تھے۔
اس کتابی شکل میں اصل سے نقل کئے ہوئے نسخہ کو پھر اللہ کے نبی کے در دولت میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ کر دیا گیا، باقی قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ ان قرآن کے حافظ ہزاروں صحابہ اور تابعین سے چلتا رہا جنھوں نے قرآن کی تعلیم ہی کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنایا تھا اور اسی کو وہ اپنی دنیا اور آخرت کا سب سے مبارک اور مقبول مشغلہ جانتے تھے؛ کیونکہ اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ یہ پیغام دے کر دنیا سے گئے تھے۔
’’تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو پڑھا اور پڑھایا‘‘۔
اس لئے ایک جماعت نے قرآن کے پڑھنے اور پڑھانے ہی کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا تھا یہاں تک کہ کم وبیش دو سال اور ۶؍ ماہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا دور خلافت گذرا اور اس کے بعد کم وبیش ۱۰؍ سال حضرت عمرؓ کا دور خلافت گذرا اور اسی طرح مسلمان لاکھوں کی تعداد میں قرآن سیکھتے اور سکھاتے رہے یہاں تک کہ حضرت عثمان غنیؓ کا زمانہ آیا اور ان کی خلافت کا زمانہ کم وبیش ۱۲؍ سال ہے انھوں نے اپنے زمانہ میں اسکندریہ، سابور، افریقہ، قبرص، روم، کے ساحلی علاقے، فارس، خوزستان، طبرستان، کرمان، سجستان وغیرہ کو فتح کیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام کی تعلیمات اور مسلمانوں کے معاملات اور اخلاق کو دیکھ کر اور برت کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے تو مختلف اسباب کے پیش نظر اس کی ضرورت پڑی کہ قرآن کے مختلف نسخے دنیا کے مختلف ملکوں کو بھیجے جائیں تاکہ وہاں کے مسلمان قرآن کو سیکھ سکیں کیونکہ اسلام کی بنیاد یہی کتاب الہٰی ہے انسان اس کو زندگی میں اتارے بغیر مکمل اللہ کی بندگی کا نمونہ نہیںبن سکتا؛ چنانچہ کم وبیش 18؍ یا 19؍ سال کے بعد حضرت عثمانؓ نے قرآن شریف کے اس پرانے نسخہ کو جو نبی کریم ﷺ کے در دولت میں محفوظ تھا ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منگوایا، اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ ہی کو یہ ذمہ داری دو بارہ دی کیونکہ انھوں نے پہلی مرتبہ کتابی شکل میں قرآن کو جمع کرنے میں جو نہایت محتاط طریقہ اپنایا تھا وہ بہت قابل اعتماد تھا اور بالخصوص امت محمدیہ میں سب سے بلند وبرتر یعنی ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کا پسندیدہ طریقہ تھا، اور ان کے ساتھ مزید تین قریشی صحابہ کو بھی لگایا تاکہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام جس طرح قرآن کی تلاوت فرماتے تھے اسی طرح جمع کرنے میں ان کی مدد کریں، انھوں نے اس مرتبہ بھی قرآن کو کتابی شکل دینے میں وہی طریقہ دوبارہ اپنایا جو پہلے اپنا یا تھا۔
اس بات کو یہاں ذہن نشین کرنا چاہئے کہ رسول اللہﷺ کو دنیا سے گئے ہوئے اگرچہ کم وبیش ۲۰؍سال گزر گئے تھے لیکن اسلام جنگل کی آگ کی طرح دنیا میں پھیل رہا تھا، پوری پوری قومیں اور ملک حلقہ بگوش اسلام ہو رہے تھے، بڑے بڑے صحابہ اور تابعین جگہ جگہ قرآن پڑھا رہے تھے اور لاتعداد لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور لاکھوں ایسے لوگوں کے سینوں میں قرآن محفوظ تھا جنھوں نے خود نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے قرآن سیکھا تھا یا ان کے شاگردوں سے قرآن پڑھا تھا اور اپنی زندگی میں اتارا تھا، ایسے ماحول میں حضرت عثمان غنیؓ نے قرآن شریف کے چند نسخے نہایت محتاط انداز میں تیار کرائے اور ان کو شام، کوفہ، بصرہ وغیرہ میں بھیج دیا اور ایک نسخہ مدینہ منورہ میں محفوظ رکھا گیا اور جو پہلا نسخہ تھا اس کو ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو واپس کر دیا گیا۔
یہ قرآن کریم کی حفاظت کی ایک مختصر سی تاریخ ہے جو بخاری شریف وغیرہ معتبر حدیث کی کتابوں سے لی گئی تو کیا قرآن سے گرویدگی کے اس ماحول میں اور امت کے سب سے زیادہ معتبر لوگوں کی موجودگی میں کوئی آدمی دعویٰ کر سکتا ہے کہ قرآن شریف میں حضرت عثمان غنیؓ نے کمی اور زیادتی کی ہے، اگر یہ دعویٰ لچر بوگس اور بے بنیاد نہیںہے تو پھر کیا ہے؟
یہ سوچنا چاہئے کہ آج جب کہ دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے سینوں میں قرآن محفوظ ہے اگر آج اسلام کا کوئی دشمن قرآن میں کمی زیادتی کر ڈالے، کسی ایک آیت کی جگہ اپنی طرف سے بنا کر دوسری آیت رکھدے یا قرآن کی آیت کی جگہ کو تبدیل کر دے تو کیا وہ کامیاب ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں ہو سکتا اور یقینا نہیں ہو سکتا تو اس زمانہ میں کیسے ہو سکتا تھا جب کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زندہ تھے اور رسول اللہﷺ پر اتاری ہوئی اللہ کی کتاب پر زندگی کو ڈھالنا اور پڑھنا پڑھانا ان کا سب سے پسندیدہ عمل تھا۔
حضرت عثمانؓ پر قرآن کریم میں کمی زیادتی کا الزام لگانے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ الزام صحیح مانا جائے تو اول تو اللہ پر الزام آتا ہے کہ اس نے جو وعدہ سورۃ نمبر۱۵؍ آیت نمبر۹؍ میں قرآن کی حفاظت کا کیا تھا وہ اس کو پورا نہ کر سکا، اور حضرت عثمان کے سامنے اللہ بے بس ہوگیا۔ (العیاذ باللہ)
دوسرہم نے خود اتاراہے یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں (قرآن)
قرآن کریم کی حفاظت کرنے والا خود اللہ ہے: مولانا ارشدمدنی
ہررمضان کے مبارک مہینہ میں جبرئیل امین اور رسول اللہ ﷺ اتنی مقدارمیں دورکیاکرتے تھے کہ پورے مہینہ میں ایک قرآن مکمل ہوجاتاتھا، جو آخری رمضان گزراہے اس میں دودورہوئے،23/سالہ دورنبوت میں جبرئیل امین کے ساتھ 24مرتبہ قرآن کا دورہواہے۔


اللہ کی کتابیں جو اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے دنیا میں اتاری ہیں اور وہ پڑھی پڑھائی جاتی بھی ہیں تین ہیں: ’’تورات‘‘ ’’انجیل‘‘ اور قرآن شریف، چوتھی کتاب جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ ’’زبور‘‘ ہے؛ لیکن اب اس کو پڑھنے پڑھانے والی کوئی امت لگتا ہے کہ زمین پر نہیں ہے، جس طرح ’’تورات‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور ’’انجیل‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی اسی طرح ’’قرآن کریم‘‘ حضرت محمد علی نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام کو دیا گیا، پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگرچہ تینوں مذکورہ کتابیں اللہ کی بھیجی ہوئی کتابیں ہیں اور ’’یہود‘‘ ’’عیسائی‘‘ اور مسلمان تینوں امتیں ان کو اپنے سر اور آنکھوں پر رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں کو جتنا والہانہ تعلق اورشغف اپنی کتاب قرآن شریف سے ہے ’’یہود‘‘ اور ’’عیسائی‘‘ امتوں کو اپنی کتاب سے نہیں ہے؛ چنانچہ دنیا میں صرف قرآن ہی کے حافظ مسلمان ملتے ہیں تورات وانجیل کے حافظ یہود ونصاریٰ نہیں۔
دوسری کتابوں کے مقابلہ میں قرآن کریم کا امتیاز یہ بھی ہے کہ تورات وانجیل لکھی لکھائی کتابیں اتاری گئیں؛ لیکن قرآن حسب ضرورت ایک ایک دو دو آیتیں حضرت محمد ﷺپر حکمتِ خداوندی کے مطابق ۲۳؍ سال میں اتارا گیا ہے، اور آپ ﷺکچھ متعین صحابہ کو جو لکھنا جانتے تھے ان کو بلا کر لکھا دیتے تھے جو ایک جگہ اللہ کے نبی ﷺ کی ہدایت پر محفوظ رہتا تھا لیکن چونکہ وحی آنے کا اور اللہ کی طرف سے قرآن کریم لانے کا کوئی وقت متعین نہیں تھا، سفر میں رہتے ہوئے بھی قرآن کی آیتیں اور احکام آتے رہتے تھے اس لئے کسی ایک چیز پر لکھا ہوا نہیں تھا، کچھ قرآن سفید پتھروں پر، کچھ کھجور کے درخت کے پھٹوں پر اور کچھ سوکھی جھلی پر لکھا ہوا تھا جہاں جس وقت جو چیز میسر ہو گئی اس پر لکھ کر محفوظ کر لیا گیا۔
پھر چونکہ قرآن کی آیتیں نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس فرشتہ لے کر آتا تھا اس لئے وہ آپ کے سینہ میں محفوظ رہتا تھا آپ کے سوا کوئی اور اس کو نہیں جانتا تھا اس لئے قرآن کے سب سے پہلے معلم اور پڑھانے والے آپ ہی تھے اور ابتداء ً صحابہ نے آپ ہی سے قرآن اور اس کے معانی سیکھے اور آپ ہی نے پڑھائے، کچھ صحابہ ایسے ماہر ہو گئے کہ خود نبی کریم علیہ السلاۃ والسلام نے ان کی مہارت کا اعلان کر دیا گویا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اس طرف متوجہ فرما دیا کہ میرے بعد یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے ماہر ہیں جن کو قرآن سیکھنا ہے ان سے سیکھیں، یہ لوگ بھی قرآن کے الفاظ اور معنیٰ کو جاننے میں میرے معتمد علیہ ہیں۔
یہ بے شمار صحابہ جنھوں نے قرآن خود اللہ کے رسول ﷺ سے سیکھا تھا نمازوں میں اور خاص طور پر رات کی تاریکی اور اندھیری میں حضرت محمد ﷺ کی تعلیم اور طریقہ کے مطابق پڑھا کرتے تھے اور روزانہ جہری نمازوں میں حضرت محمد ﷺکی زبان مبارک سے قرآن سنا کرتے تھے، اور خاص طور پر رمضان کے مبارک مہینہ میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خود نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا قرآن شریف پڑھنا بہت زیادہ بڑھ جاتا تھا، بلکہ ہر رمضان کے مہینہ میں جبرئیل امین ’’فرشتہ‘‘ رسول اللہ ﷺکے پاس روزانہ آتا تھا اور رسول اللہ ﷺکے ساتھ دونوں قرآن کی اتنی مقدار کا دور کیا کرتے تھے کہ پورے مہینہ میں ایک قرآن مکمل ہو جاتا تھا اور جو آخری رمضان گزرا ہے اس میں دو دور ہوئے اور دو قرآن ختم ہوئے، جس کا مطلب ہے کہ ۲۳؍ سالہ دور نبوت میں جبرئیل امین کے ساتھ چوبیس مرتبہ دور ہوا ہے، یہ سارا پروگرام اللہ کی طرف سے اللہ کے اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے کیا جارہا
تھا جس کو سورۃ نمبر 15؍ کی آیت نمبر9؍ میں کیا گیا تھا۔
’’ہم نے خود اتارہے یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں (قرآن)
‘‘۔
یہاں ایک اور چیز بھی قابل توجہ ہے کہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کا جو طبقہ اپنے دلوں میں سب سے زیادہ خشیتِ خداوندی رکھنے والا ہے سب سے زیادہ اسلام پر مرنے مٹنے والا ہے سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺسے محبت رکھنے والا ہے اور براہ راست بلا واسطہ رسول خدا سے قرآن اور دین کو لینے والا اور سمجھنے والا ہے وہ طبقۂ صحابہ ہے رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب آج چودہ سو سال کے بعد دنیا کی محبت کا مارا مسلمان اللہ کی کتاب قرآن سے بمقابلہ دوسری کتب خداوندی کو ماننے والوں کے بہت زیادہ شغف اور عقیدت رکھتا ہے تو اُس زمانہ میں صحابہؓ کو قرآن سے کتنا شغف اور محبت ہوگی جس قرآن کے آج پوری دنیا میں کروڑوں مسلمان حافظ ہیں تو اس وقت کتنے صحابہ قرآن کے حافظ ہوں گے اور رات دن قرآن کی تلاوت کرکے رحمت خداوندی کی قربت حاصل کرتے ہوں گے؟۔
محدثین لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۱۱ ؁ھ جنگ یمامہ میں حفاظ صحابہ کم وبیش ۷۰۰؍ شہید ہوئے ہیں جس کے بعد اللہ نے سب سے پہلے حضرت عمرؓ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اگر اسی طرح حفاظ قرآن اسلام کی بقاء کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے تو قرآن کا محفوظ رہنا کہیں مشکل نہ ہو جائے تب انھوں نے خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ سے فرمایا کہ قرآن کی حفاظت اگرچہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے زمانہ میں کرادی ہے اور وہ مختلف چیزوں پر لکھا ہوا آپ کے در دولت میں محفوظ بھی ہے لیکن اس کو مزید حفاظت کے پیش نظر کتابی شکل میں جمع کرادینا زیادہ ضروری معلوم ہو رہا ہے، یہ سجھاؤ اولِ وہلہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ نے قبول نہیں کیا اور یہ فرماتے رہے کہ جو کام رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ میں نہیں کیا اس کو ابو بکر کیسے کرے، لیکن حضرت عمرؓ کے دل کو اللہ نے اس چیز کے لئے منشرح فرما دیا تھا؛ اس لئے وہ برابر اصرار کرتے رہے یعنی دلائل کو پیش فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے خلیفۂ اول کے مبارک سینہ کو بھی خلیفہ ثانی کی رائے پر منشرح فرما دیا پھر ان دونوں نے حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کو اصرار کرکے رسول اللہ ﷺ کے در دولت میں جمع کردہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں یکجا جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول کا آپ پر کلی اعتماد اور بھروسہ تھا کیونکہ آپ کاتب وحی تھے اللہ کے نبی پر فرشتہ جو قرآن کی آیتیں لاتا تھا رسول اللہ ﷺ زیادہ تر اس کو آپ سے لکھواتے تھے اس لئے ہم بھی آپ پر اعتماد کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بے شمار صحابہؓ کے سینوں میں قرآن کریم موجود ہے اور جو لوگ لکھنا جانتے ہیں وہ اس کو لکھ کر بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے؛ چنانچہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی یاداشت اور صحابہ ؓ کے سینوں میں محفوظ اور مختلف چیزوں پر لکھا ہوا نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے در دولت میں محفوظ رکھے ہوئے قرآن کو ملا کر اور صحابہ سے ایک ایک آیت کو سن سن کر پوری احتیاط کے ساتھ کتابی شکل میں جمع کر دیا۔
اس وقت تک قرآن کریم کے حافظ اگرچہ بے شمار صحابہ اور تابعین تھے لیکن کتابی شکل میں لکھا ہوا پورے قرآن کا یہی ایک نسخہ تھا جو حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی زیر نگرانی رسول اللہ ﷺکے جمع کرائے ہوئے قرآن سے اور صحابہ کے سینوں میں محفوظ ایک ایک آیت کو اس سے ملا کر محفوظ کیا گیا تھا اور 23؍ سال تک جس کو رسول اللہ کی زبان مبارک سے سنتے سناتے اور خود پڑھتے پڑھاتے آرہے تھے۔
اس کتابی شکل میں اصل سے نقل کئے ہوئے نسخہ کو پھر اللہ کے نبی کے در دولت میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ کر دیا گیا، باقی قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ ان قرآن کے حافظ ہزاروں صحابہ اور تابعین سے چلتا رہا جنھوں نے قرآن کی تعلیم ہی کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنایا تھا اور اسی کو وہ اپنی دنیا اور آخرت کا سب سے مبارک اور مقبول مشغلہ جانتے تھے؛ کیونکہ اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ یہ پیغام دے کر دنیا سے گئے تھے۔
’’تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو پڑھا اور پڑھایا‘‘۔
اس لئے ایک جماعت نے قرآن کے پڑھنے اور پڑھانے ہی کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا تھا یہاں تک کہ کم وبیش دو سال اور ۶؍ ماہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا دور خلافت گذرا اور اس کے بعد کم وبیش ۱۰؍ سال حضرت عمرؓ کا دور خلافت گذرا اور اسی طرح مسلمان لاکھوں کی تعداد میں قرآن سیکھتے اور سکھاتے رہے یہاں تک کہ حضرت عثمان غنیؓ کا زمانہ آیا اور ان کی خلافت کا زمانہ کم وبیش ۱۲؍ سال ہے انھوں نے اپنے زمانہ میں اسکندریہ، سابور، افریقہ، قبرص، روم، کے ساحلی علاقے، فارس، خوزستان، طبرستان، کرمان، سجستان وغیرہ کو فتح کیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام کی تعلیمات اور مسلمانوں کے معاملات اور اخلاق کو دیکھ کر اور برت کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے تو مختلف اسباب کے پیش نظر اس کی ضرورت پڑی کہ قرآن کے مختلف نسخے دنیا کے مختلف ملکوں کو بھیجے جائیں تاکہ وہاں کے مسلمان قرآن کو سیکھ سکیں کیونکہ اسلام کی بنیاد یہی کتاب الہٰی ہے انسان اس کو زندگی میں اتارے بغیر مکمل اللہ کی بندگی کا نمونہ نہیںبن سکتا؛ چنانچہ کم وبیش 18؍ یا 19؍ سال کے بعد حضرت عثمانؓ نے قرآن شریف کے اس پرانے نسخہ کو جو نبی کریم ﷺ کے در دولت میں محفوظ تھا ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منگوایا، اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ ہی کو یہ ذمہ داری دو بارہ دی کیونکہ انھوں نے پہلی مرتبہ کتابی شکل میں قرآن کو جمع کرنے میں جو نہایت محتاط طریقہ اپنایا تھا وہ بہت قابل اعتماد تھا اور بالخصوص امت محمدیہ میں سب سے بلند وبرتر یعنی ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کا پسندیدہ طریقہ تھا، اور ان کے ساتھ مزید تین قریشی صحابہ کو بھی لگایا تاکہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام جس طرح قرآن کی تلاوت فرماتے تھے اسی طرح جمع کرنے میں ان کی مدد کریں، انھوں نے اس مرتبہ بھی قرآن کو کتابی شکل دینے میں وہی طریقہ دوبارہ اپنایا جو پہلے اپنا یا تھا۔
اس بات کو یہاں ذہن نشین کرنا چاہئے کہ رسول اللہﷺ کو دنیا سے گئے ہوئے اگرچہ کم وبیش ۲۰؍سال گزر گئے تھے لیکن اسلام جنگل کی آگ کی طرح دنیا میں پھیل رہا تھا، پوری پوری قومیں اور ملک حلقہ بگوش اسلام ہو رہے تھے، بڑے بڑے صحابہ اور تابعین جگہ جگہ قرآن پڑھا رہے تھے اور لاتعداد لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور لاکھوں ایسے لوگوں کے سینوں میں قرآن محفوظ تھا جنھوں نے خود نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے قرآن سیکھا تھا یا ان کے شاگردوں سے قرآن پڑھا تھا اور اپنی زندگی میں اتارا تھا، ایسے ماحول میں حضرت عثمان غنیؓ نے قرآن شریف کے چند نسخے نہایت محتاط انداز میں تیار کرائے اور ان کو شام، کوفہ، بصرہ وغیرہ میں بھیج دیا اور ایک نسخہ مدینہ منورہ میں محفوظ رکھا گیا اور جو پہلا نسخہ تھا اس کو ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو واپس کر دیا گیا۔
یہ قرآن کریم کی حفاظت کی ایک مختصر سی تاریخ ہے جو بخاری شریف وغیرہ معتبر حدیث کی کتابوں سے لی گئی تو کیا قرآن سے گرویدگی کے اس ماحول میں اور امت کے سب سے زیادہ معتبر لوگوں کی موجودگی میں کوئی آدمی دعویٰ کر سکتا ہے کہ قرآن شریف میں حضرت عثمان غنیؓ نے کمی اور زیادتی کی ہے، اگر یہ دعویٰ لچر بوگس اور بے بنیاد نہیںہے تو پھر کیا ہے؟
یہ سوچنا چاہئے کہ آج جب کہ دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے سینوں میں قرآن محفوظ ہے اگر آج اسلام کا کوئی دشمن قرآن میں کمی زیادتی کر ڈالے، کسی ایک آیت کی جگہ اپنی طرف سے بنا کر دوسری آیت رکھدے یا قرآن کی آیت کی جگہ کو تبدیل کر دے تو کیا وہ کامیاب ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں ہو سکتا اور یقینا نہیں ہو سکتا تو اس زمانہ میں کیسے ہو سکتا تھا جب کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زندہ تھے اور رسول اللہﷺ پر اتاری ہوئی اللہ کی کتاب پر زندگی کو ڈھالنا اور پڑھنا پڑھانا ان کا سب سے پسندیدہ عمل تھا۔
حضرت عثمانؓ پر قرآن کریم میں کمی زیادتی کا الزام لگانے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ الزام صحیح مانا جائے تو اول تو اللہ پر الزام آتا ہے کہ اس نے جو وعدہ سورۃ نمبر۱۵؍ آیت نمبر۹؍ میں قرآن کی حفاظت کا کیا تھا وہ اس کو پورا نہ کر سکا، اور حضرت عثمان کے سامنے اللہ بے بس ہوگیا۔ (العیاذ باللہ)
دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ اور بعد کے اماموں کا زمانہ آتا ہے جو اسی قرآن کو پڑھتے پڑھاتے رہے اور قرآن کی تصحیح نہیں کر سکے، میں نہیں سمجھتا کہ اہل بیتؓ پر اس سے بڑا کوئی الزام لگایا جا سکتا ہے، اس لئے قرآن کریم میں نہ کوئی تغیر ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہوگا، کمی زیادتی کا دعویٰ کرنے والا اپنی جہالت کا ثبوت دے رہا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں… اسی کو 12؍ اپریل 2021میں سپریم کورٹ کی تین ججوں کی بینچ نے ABSOLUTELY FRIVOLOUS لچر اور بے بنیاد کہا ہے۔
(مضمون مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علما ہند کی کتاب
’’قرآن کی کسی آیت یالفظ کو قرآن سے نکالنے کا دعویٰ سپریم کورٹ کی نظر میںABSOLUTELY FRIVOLOUSبے بنیاد لچر ہے‘‘ سے ماخوذ)
فضل الرحمان قاسمی پریس سیکرٹری جمعیت علمائے ہندی بات یہ بھی قابل غور ہے کہ حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ اور بعد کے اماموں کا زمانہ آتا ہے جو اسی قرآن کو پڑھتے پڑھاتے رہے اور قرآن کی تصحیح نہیں کر سکے، میں نہیں سمجھتا کہ اہل بیتؓ پر اس سے بڑا کوئی الزام لگایا جا سکتا ہے، اس لئے قرآن کریم میں نہ کوئی تغیر ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہوگا، کمی زیادتی کا دعویٰ کرنے والا اپنی جہالت کا ثبوت دے رہا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں… اسی کو 12؍ اپریل 2021میں سپریم کورٹ کی تین ججوں کی بینچ نے ABSOLUTELY FRIVOLOUS لچر اور بے بنیاد کہا ہے۔
(مضمون مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علما ہند کی کتاب
’’قرآن کی کسی آیت یالفظ کو قرآن سے نکالنے کا دعویٰ سپریم کورٹ کی نظر میںABSOLUTELY FRIVOLOUSبے بنیاد لچر ہے‘‘ سے ماخوذ)
فضل الرحمان قاسمی پریس سیکرٹری جمعیت علمائے ہند

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.