کیا آپ اپنے امام کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں... ؟

محمدا حمد (فائونڈنگ ایڈیٹر وطن سماچار)

محمد احمد

 

کیا آپ اپنے امام کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں... ؟

محمدا حمد (فائونڈنگ ایڈیٹر وطن سماچار)

آج ملک جس مشکل دور سے گذر رہا ہے اس سے ہر آدمی فکر مند ہے۔گذشتہ کچھ سالوں میں جس طرح مذہب کے نام پر ہندو مسلم کے بیچ ہمارے سیاستدانوں نے دوریاں پیدا کی تھیں، ابھی اس کا گھائو جاری ہی تھا کہ قدرت کی طرف سے ایک ایسی وباء آئی جس نے انسانوں کے درمیان ہی دوریاں پیدا کر دیں اور آج انسان انسان سے ہی خوف کھانے لگا۔ کاش ہمارے سیاستدانوں کو اب اگر کچھ سمجھ آجاتی اور وہ مستقبل میں ایسا کرنے سے باز آجاتے تو بہتر ہوتا، جس کے آثار بہر حال بہت کم ہیں ،لیکن اس کورونا کی وباء کے بعد ایک چیز جس کی اہمیت سب سےزیادہ سمجھ میں آئی وہ ہمارا مذہبی تعلیمی ڈھانچہ ہے۔ گذشتہ سال غیر متوقع لاک ڈائون کے بعد تروایح سے لے کر عید کی نماز میں جو دقتیں آئیں اس کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا کہ ایک بار پھر رمضان آتے ہیں ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں کورونا کی سنگینیوں کو دیکھتے ہوئے کچھ جگہوں پر لاک ڈائو ن لگ گیا تو کچھ جگہوں پر لاک ڈائون کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔

غیب کے پردے میں کیا ہے یہ تو رب محمد کو پتہ ہے ،لیکن اس مہلک بیماری نے ان انسانوں کو ضرور سوچنے کیلئے مجبور کردیا جو بات بات پر علماء ،ائمہ اور دعاۃ کا کوسنے کا کام کرتے تھے۔میں یہ ہر گزنہیں کہتا کہ سارے کے سارے امام منہاج نبوۃ پر کاربند ہیں ، لیکن کیا آپ اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ سارے کے سارے انجینئر، ڈاکٹر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ طریق محمدی پر کاربند ہیں ؟کیونکہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اپنا ہر عمل رضاء الہی کیلئےکرتے ہیں تو دوسری طرف کچھ ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو اپنا کچھ عمل پیٹ بھرنے کیلئے بھی کرتے ہوں گے ، لیکن وہ ایسا کیوںکیوں کرتے ہیں ،کہیں ہم ہی تو اس کیلئے بھی تو ذمہ دار نہیں ہیں ؟اس کیلئے بھی ہمیں ہی سوچنا ہوگا، اگر ہمارا دعویٰ خیر امت کا ہے تو ورنہ ... ۔

ایسے میں میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ ائمہ ودعاۃ کو کو سنے سے قبل آپ اپنا بھی محاسبہ کریں ، کیا یہ درست نہیں ہے کہ آپ اپنے بچے کو ٹیوشن 500اور 1000روپیہ گھنٹہ دے کر پڑھاتے ہیں؟ اگر یہ سچ ہے اور رب کا شکر ہے کہ آپ اپنے بچے کی تعلیم پر ماہانہ ہزاروں اور کچھ لوگ تو لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور اپنے گھر کی تزئین اور اے سی، فریج ، کولکر اور دوسری چیزوں کے رکھ رکھائوپر ہر حال میں اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتے ہیں تو کیا ہم اپنے پاس پڑوس کی مسجد اور اس کے امام پر بھی اسی طرح یا اس کا ایک فیصد بھی خرچ کرتے ہیں ؟

یقیناً اکثریت سے بھی زیادہ لوگوں کا جواب نفی میں ہوگا۔ جب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مسجد کا امام لائق و فائق ہو ۔ عربی اور انگریزی اچھی طرح جانتا ہوں۔ دین و دنیا کی سمجھ رکھتا ہوں، تو کیا یہ 5اور 10ہزار روپیہ ماہانہ میں ممکن ہے؟ہم اپنے امام پر رعب جماتے ہیں ۔کیا ہمارے نبی اپنے صحابہ پر رعب جماتے تھے؟ آقانے تو غلام کو بھی کبھی نہیں ڈانٹا اور معاذ اللہ ہم اپنے امام کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں اور اگر مسجد کی نظامت مل گئی تو معاذ اللہ ہم میں سے کئی لوگ تو فرعون بن جاتےہیں اور اگر کسی دن مسجد صاف ستھری نہ ہو تو امام کو کیا کچھ نہیں کہہ دیتے کیا۔ کبھی اپنی بیوں سے بھی ایسے لہجہ میں بات کرنے کی ہمت جٹاپاتے ہیں؟ بس سوچئے گا ،کیونکہ عقل والے ہی عبرت حاصل کرتے ہیں ۔

 اگر ہم ایک ڈاکٹر کو مشورے کیلئے پانچ سو سے لیکر پانچ ہزار اور اس سے زیادہ فیس ایک بار میں ادا کرتے ہیں تو کیا ہم اپنے امام سے کسی مسئلہ کے استفسار کیلئے کوئی فیس ادا کرتے ہیں ؟ ہم میں سے اکثر کا جواب  نفی میں ہوگا ۔ اس لئے میری آپ سے التجا ہے کہ اپنے امام کو کوسنے اور ان پر رعب و دبدبہ جمانے کےبجائے ان کی خدمت کریں ، ان کی تکریم و تعظیم کریں ۔ یہ نہ بھولیں کہ منہج رسول پر چلنے والے ائمہ و دعاۃ ہی اصلی وارث انبیاء ہیں ، اور ان کی تکریم و تعظیم رب کعبہ کے یہاں کامیابی کی ضمانت ہے ویسے تو تکریم ہر فرد بشر کی ہونی چاہئے ۔

آج کے موجودہ پس منظر میں مسلک سلف صالح اور منہاج نبوت پر کام کرنے والے بہت سے ادارے ہیں اور وہ کام بھی کررہے ہیں ، لیکن کچھ ایسے ادارے ہیں جن کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اسی میں سے ایک ادارہ جامعہ عارفیہ بھی ہے۔ جو صاحب ثروۃ یا اہل خیر حضرات سے کچھ لینے کے بجائے ان کو پہلے اپنے یہاں آنے کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ تمام مسالک و مکاتب کے اہل خیر حضرات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ پہلے اس کے کاموں کا محاسبہ کریں۔ اس کے بعد اگر مناسب سمجھیں تو تعاون کریں۔اگر نہیں بھی تعاون کرتے ہیں تو ان کی تکریم و تعظیم میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ اگر جن کویقین نہ ہو وہ ایک بار جامعہ عارفیہ کا ضرور دورہ کریںاور کھلی آنکھوں سے اللہ کے بندوں کی زیارت کریں ،جہاں ان کو ایسے لوگ مل جائیں گے جو ہر حال میں اللہ کے دین اور انسانیت کی خدمت کے عظیم معمار ہیں ۔ یہ شایدملک کی پہلی ایسی درسگاہ ہوگی جہاں صوفی، سنی ، سلفی ، دیوبندی ، بریلوی، شیعہ ، ہندو کسی کیلئے بھی نو انٹری کا بورڈ نہیں ہے۔ ورنہ بیشتر ادارے آج بھارت میں آپ کو مسلک کی تعلیم دیتے ہوئے مل جائیں گے، لیکن کم ایسے ادارے ہوں گے جو مذہب کی تعلیم دیتے ہوںاور الحمد للہ انہیں میں سے ایک جامعہ عارفیہ بھی ہے ۔

 جامعہ عارفیہ ایک ایسا ادارہ ہے جو ہمہ وقت آپ کے ایک ایک پائی کا آپ کو حساب دینے کیلئے تیار ہے ۔ جو عصری اورمذہبی دونوں علوم میں اپنے بچوں کو ایکسپرٹ بنا رہا ہے ۔ جس کے بچے عرب وعجم ، جامعات او ر یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں ۔ جس کا اپنا ریسرچ اور دعوۃ سینٹر ہے۔ جس کے کیمپس میں سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول کے نام سے عصری علوم کی ایک عظیم الشان درسگاہ ہے۔ جس کے دامن میں میڈیسن اور ریسرچ سینٹر کیساتھ ساتھ، تحقیق و تصنیف کا جس کا اپنا منفرد منہج ہے۔جس کا اپنا آرگن ہے ، لیکن اس میں محبین اور معترضین دونوں کیلئے برابر کی جگہ ہے۔ اس کے علاوہ ایسی عالیشان مسجد ہے جو عموماً مدارس و جامعات میں آپ کو عنقاء نظر آئے گی۔ جس کا مستبقل کا قریب میں ایک عالیشان اسپتال بھی کھولنے کا ارادہ ہے ۔کورونا کی اس مہاماری میں اسپتالوں کی اہمیت ہم سب کیلئے واضح ہوچکی ہے۔

اگر آپ کے اندر انا ہے توجامعہ عارفیہ میں آکر کے ضرور ان شاء اللہ فناء ہوجائے گی ۔ رب کے ہونے کا احساس ہوگا۔ توحید میں یقین کامل ہوگا۔ دنیا کی محبت ختم ہوگی اور رب کی محبت میں اضافہ ہوگااور اگر آپ اپنے امام کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں تو آپ کی اصلاح بھی ہوگی اور ایسے ائمہ و دعاۃ اور شیخ کامل کا دیدار ہوگا جن کو دیکھ کر کے اللہ کی یاد آئے گی ۔ یقین نہ ہو تو آکر کے دیکھ لیں ۔

 میری آپ سے التجا ء ہے کہ آپ اس ماہ خیر و برکت میں جہاں بہت سی چیزوں کیلئے امداد دے رہے ہوں گے وہیں جامعہ عارفیہ کو بھی یاد رکھیں ۔ یقین جانیں کہ جب آپ جامعہ کا مشاہدہ کریں گے تو آپ کو یقین ہوجائے گا ان شاء اللہ کہ یہ تحریر آپ کے عملی مشاہدے کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔’تعاونو ا علی البر والتقوی‘  آپ بھلائی اور خیر کے کام میں اس ادارے کی مدد کریں تاکہ آپ کو یہ لگے کہ آپ کا پیسہ اس سے بہتر جگہ پر استعمال ہوا ہے، جہاں آپ کرنا چاہتے تھے ۔

 

 

 

محمد احمد

 

 

 

 

 

Kindly transfer / deposit your Zakat, Sadqa, Fitrah, Kaffara and Donation in any of the following bank account & oblige or call the undersigned for collection of cash from your end:

....................................................

Bank: BANK OF BARODA

A/c. Name: Shah Safi Memorial Trust

A/c. No.: 48810100001475

IFSC Code : BARB0RASKOI

A/c. Type : Saving

Branch: Koilaha, Kaushambi - 4881 U.P. India

.........................

Bank: HDFC BANK

A/c. Name : Shah Safi Memorial Trust

A/c. No.: 22631450000101

IFSC Code : HDFC0002263

A/c. Type : Saving

Branch: Akbarpur, Sallahpur, Kaushambi, U.P. INDIA.

.................................

Bank: STATE BANK OF INDIA

A/c. No.: Shah Safi Memorial Trust

A/c. No.: 30201703659

IFSC Code : SBIN0002576

A/c. Type : Saving

Branch: Manauri Bazar, Kaushambi, U.P. INDIA, 

.........................................

Bank: ALLAHABAD BANK

A/c. Name : Shah Safi Memorial Trust

A/c. No.: 20268864285

IFSC Code : ALLA0210351

A/c. Type : Current

Branch: Kalyani Devi, Allahabad, U.P.  INDIA, 

.........................................

For further details, kindly visit us at:

www.shahsafimemorialtrust.com or www.jamiaarifia.com.

.....................................

Kindly enjoy learning Islam by subscribing to our YouTube channel "Alehsan Media".

 

Sajid Sayeedi: +91 9628482614

...................................

S. Javed: +91 9322865066

--

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.