مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

جہاد کی غلط تشریح اور بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت

جموں و کشمیر میں بنیاد پرستی کے خاتمے کیلئے سری نگر میں ایک حالیہ اقدام کے دوران ، متعدد مذہبی رہنماؤں ، خواتین اور نوجوانوں نے جہاد کی ’’ناقص‘‘ تشریح کو بے قصور اور معصوم افراد کے قتل کیلئے اسلام کی ’وکالت‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔جبکہ اسلام اور قرآن نے ’’پر امن بقائے باہم‘‘ کی تعلیم دی ہے۔ مقررین نے روشنی ڈالی کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں کویہ تعلیم ہرگز نہیں دی کہ وہ پڑوسی انسانوں کی جان لیں یا ان کو نقصان پہنچائیں بلکہ اسلام لوگوں کو ایک ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے ، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے ہوں۔ جہاد کا مطلب واقعتا اپنی نفسانی خواہشات سے لڑنا ہے۔ دینی کتابوں کا تفصیل سے اور سمجھ بوجھ کر مطالعہ نہ کرنے سے اسلام کی غلط تاویل کی جاتی ہے اس لئے تمام مفتیان عظام اورعلمائے کرام کو اپنے خطبہ جمعہ کے ذریعہ قرآن کریم اور اسلامی کتب کی صحیح ترجمانی اور لوگوں میں امن ، ہم آہنگی اور ہمدردی کی وکالت کرنی چاہئے اورانھیں سماج میں زندگی گزارنے کا طریقہ بتانا چاہئے۔

وطن سماچار ڈیسک

جہاد کی غلط تشریح اور بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت

مکرمی!

جموں و کشمیر میں بنیاد پرستی کے خاتمے کیلئے سری نگر میں ایک حالیہ اقدام کے دوران ، متعدد مذہبی رہنماؤں ، خواتین اور نوجوانوں نے جہاد کی ’’ناقص‘‘ تشریح کو بے قصور اور معصوم افراد کے قتل کیلئے اسلام کی ’وکالت‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔جبکہ اسلام اور قرآن نے ’’پر امن بقائے باہم‘‘ کی تعلیم دی ہے۔ مقررین نے روشنی ڈالی کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں کویہ تعلیم ہرگز نہیں دی کہ وہ پڑوسی انسانوں کی جان لیں یا ان کو نقصان پہنچائیں بلکہ اسلام لوگوں کو ایک ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے ، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے ہوں۔ جہاد کا مطلب واقعتا اپنی نفسانی خواہشات سے لڑنا ہے۔  دینی  کتابوں کا تفصیل سے اور سمجھ بوجھ کر مطالعہ نہ کرنے سے اسلام کی غلط تاویل کی جاتی ہے اس لئے تمام مفتیان عظام اورعلمائے کرام کو اپنے خطبہ جمعہ کے ذریعہ قرآن کریم اور اسلامی کتب کی صحیح ترجمانی اور لوگوں میں امن ، ہم آہنگی اور ہمدردی کی وکالت کرنی چاہئے اورانھیں سماج میں زندگی گزارنے کا طریقہ بتانا چاہئے۔

 

 

مقرریننے خواتین کو تعلیم دلانے اور انہیں روزگار کے مواقع کی پیش کش پر بھی زور دیا تاکہ وہ اپنے نونہالوں کو بنیاد پرستی کی دنیا میں جانے سے روک سکیں۔ یہ خاندان کا اولین فرض ہے اورخاص طور پر ماؤںکو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کوبنیاد پرستی سے بچانے کیلئے غلط تشریحات کیخلاف انھیں صحیح معلومات فراہم کریں۔ علمائے کرام اور اسکالرز کوچاہئے کہ رضاکارانہ طور پر تشدد پھیلانے والی غلط تشریحات کیخلاف اسلام کی صحیح تصویر پیش کریں اور مدرسہ کی تعلیم کو جدید اور سائنسی بنانے کی سمت میںکام کریں۔ سبھی مقررین کا خیال تھا کہ ذاتی مفادات کیلئے اسلام کی غلط تشریح کرنیوالے نام نہاد علماء کیخلاف صحیح روشنی پر  کام کیاجائیکیونکہ روزگار کے مواقع کی عدم دستیابی کی وجہ سے نوجوان ان کی غلط تشریح کا شکار ہوکر تشدد پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

 

 

علمائے کرام اوراسلامی اسکالروں کواسلام کے نام پر پھیلائی جانے والی بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے میں عملی کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ علمائے کرام ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کی بڑی تعداد پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔جموں و کشمیرمیں بنیاد پرستی کیخلاف عوامی بیداری کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا جس نے عام لوگوں کی حوصلہ افزا ردعمل کو جنم دیا ہے ۔ اسی طرح ملک بھر میںعلمائے کرام کو ایسی کوششوں سے قوم پرستی کو تقویت دینے اور ہندوستان کی ہم آہنگ ثقافت کو قوت بہم پہنچانے کی ضرورت ہے۔

 

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.