غربت وجہالت کاوائرس اور ہماری ذمہ داریاں

محترم قارئین!ہمارےجسم میںجب کبھی کوئی وائرس داخل ہوجاتا ہے/کوئی زخم نکل آتاہے تو ہمارے جسم کاایک ایک حصہ اُس کے درد سےبےچین ہواُٹھتا ہے،ہم فوراً علاج و معالجہ اور صحت وشفاکے لیےماہرڈاکٹروں سے رابطہ کرتے ہیںاوراُن کی طرف سےجوبھی ہدایتیں ملتی ہیںبڑی پابندی سے ہم اُن پرعمل کرتےہیں اور صحت وتندرستی کے تعلق سے اُن کے تمام مشوروں کو اَپنے معمولات میں شامل بھی کرلیتے ہیں۔اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم نہ صرف وائرس /زخم سے نجات پالیتےہیں بلکہ اُس کے درد سےہمارے جسم کاہرحصہ بھی محفوظ رہتا ہے اورہم بڑے ہی اِطمینان وسکون کےساتھ اپنی منزل کی طرف آگے بڑھنے لگتے ہیں۔لیکن اِس کے برخلاف اگر جسم میں موجود وَائرس /زَخم کا بروقت علاج و معالجہ نہیں ہوپاتاہے، تو پھر یہی وائرس /زخم ایک دن ہمارے جسم کے لیےناسورکی شکل اختیار کرلیتا ہے اوریوںہم زِندگی بھر اُس کی ٹیس محسوس کرتے رہتے ہیں۔اِس پس منظر میں اگر ہم اپنے ملک ومعاشرے کا جائزہ لیںتو واضح طورپر معلوم ہوتاہےکہ ہمارے آس-پاس ہرطرف غربت وجہالت کے وائرس کا ایک مضبوط جال پھیلا ہوا ہے مگر اَفسوس کہ اِس طرف ہماری کوئی توجہ نہیں ہے۔بلکہ حالت تو یہ ہےکہ ہم سامنے والے کی غربت وجہالت کا مذاق اُڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

گیسٹ کالم

غربت وجہالت کاوائرس اور ہماری ذمہ داریاں

جس طرح ہم پر تعلیم وتعلّم واجب ہےاُسی طرح زکاۃ کی مددسے معاشی اِستحکام میں حصہ لینابھی ہم پرواجب ہے

محترم قارئین!ہمارےجسم میںجب کبھی کوئی وائرس داخل ہوجاتا ہے/کوئی زخم نکل آتاہے تو ہمارے جسم کاایک ایک حصہ اُس کے درد سےبےچین ہواُٹھتا ہے،ہم فوراً علاج و معالجہ اور صحت وشفاکے لیےماہرڈاکٹروں سے رابطہ کرتے ہیںاوراُن کی طرف سےجوبھی ہدایتیں ملتی ہیںبڑی پابندی سے ہم اُن پرعمل کرتےہیں اور صحت وتندرستی کے تعلق سے اُن کے تمام مشوروں کو اَپنے معمولات میں شامل بھی کرلیتے ہیں۔اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم نہ صرف وائرس /زخم سے نجات پالیتےہیں بلکہ اُس کے درد سےہمارے جسم کاہرحصہ بھی محفوظ رہتا ہے اورہم بڑے ہی اِطمینان وسکون کےساتھ اپنی منزل کی طرف آگے بڑھنے لگتے ہیں۔لیکن اِس کے برخلاف اگر جسم میں موجود وَائرس /زَخم کا بروقت علاج و معالجہ نہیں ہوپاتاہے، تو پھر یہی وائرس /زخم ایک دن ہمارے جسم کے لیےناسورکی شکل اختیار کرلیتا ہے اوریوںہم زِندگی بھر اُس کی ٹیس محسوس کرتے رہتے ہیں۔اِس پس منظر میں اگر ہم اپنے ملک ومعاشرے کا جائزہ لیںتو واضح طورپر معلوم ہوتاہےکہ ہمارے آس-پاس ہرطرف غربت وجہالت کے وائرس کا ایک مضبوط جال پھیلا ہوا ہے مگر اَفسوس کہ اِس طرف ہماری کوئی توجہ نہیں ہے۔بلکہ حالت تو یہ ہےکہ ہم سامنے والے کی غربت وجہالت کا مذاق اُڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

 

 

پھراَگر ہم سے کوئی یہ کہتا ہےکہ آئیں ہم سب مل کراَپنےملک ومعاشرے سے غربت وجہالت کے وائرس کاخاتمہ کریں تو ہم بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ حالاںکہ جس دین اِسلام کو ہم مانتے ہیں اُس میں موجود نظام زکاۃ اوراَوّلین وحی کی شکل میں سورۂ اِقرانازل ہونے سےاِس بات کی تائید بخوبی ہوتی ہے کہ جس طرح ہم پر تعلیم وتعلّم واجب ہے۔اُسی طرح نظام زکاۃ کو سختی سے اَپناتے ہوئے ملک ومعاشرے کے معاشی اِستحکام میں حصہ لینابھی ہم پرواجب ہے۔ورنہ بصورت دیگر ہم چاہے جتنی بھی اِنفرادی ترقی حاصل کرلیںاِجتماعی سطح پر بنیادی ترقی سے محروم ہی رہیںگے، لہٰذااَگرہم چاہتےہیں کہ اِنفرادی ترقی کے ساتھ اِجتماعی اور بنیادی ترقی سے جڑے رہیں تو ہمارے اُوپرلازم ہےکہ زکاۃ کی ادائیگی میں ایمانداری سے کام لیں اور حقیقی مستحقین تک اُس کو پہنچائیں اور اَپنےآس-پاس موجود اَیسے بچوںکی تعلیم وتعلّم کا ذمہ بھی اَپنے اُوپر لازم کرلیں جن کی تعلیم وتربیت کا معقول اِنتظام نہیں ہوپاتا ہے، نتیجتاً وہ ناخواندہ رَہ جاتے ہیں، ملک و معاشرے کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیںاور ایک ناسور بن جاتے ہیں۔ اگر ہم زکاۃ اَدا توکرتےہیں لیکن حقیقی مستحقین تک اُس کو نہیںپہنچاپاتےہیں، تو یاد رَکھیںکہ ہماری زکاۃ تواَدا ہوجائےگی مگر زکاۃ کا وہ مقصدحاصل نہیں ہوپائےگاجو اَللہ سبحانہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ومرغوب ہے، اور یہ بھی یاد رَکھیں کہ زکاۃ کے مقاصد حاصل نہ ہونے پر ’’قیامت کے دن ہم سے سوال ہوگاکہ اَپنے ماتحتوں کے تعلق سے ہم نے کیا ذمہ داری اَدا کی؟‘‘(صحیح بخاری، حدیث:893)

 

 

اِس کے باوجود اَگر ہم اَپنے ملک اور معاشرے میں موجود غربت وجہالت کے وائرس کی فکر نہیںکرتے، تو اِس کا خمیازہ یقیناً ہمیںبھگتناہوگاکہ ہرطرح کی سہولیات میسرہونےکے باوجود اِجتماعی اور قومی ترقی نہ ہونےکے سبب نہ اطمینان حاصل ہوگا اور نہ ہی چین وسکون،بلکہ آئے دن اِس کی مثالیں دیکھنے کو بھی ملتی ہیںجنھیں ہم سمجھ نہیں پاتےہیں یا پھر اُن سے اَنجان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حال اُن مسلمانوں کا ہےجو پابندی سے زکاۃ اَدا کرتے ہیں، اَلبتہ!وہ اَصل مستحقین تک زکاہ کونہیں پہنچاپاتے ہیں۔ لیکن ہمارے درمیان کچھ ایسے مسلمان بھی ہیں جوصاحب حیثیت ہونے کے باوجود زَکاۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں اور اِس تعلق سے بالکل سنجیدہ نہیں ہوتے،بلکہ اَیسے افراد ایک تخمینے سے کچھ رقوم بطورِ زکاۃ نکال دیتے ہیں اور محتاجوں اور مسکینوں میں تقسیم کرنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اُنھوں نے فرض زکاۃ ادا کردیا،جب کہ ایسے افراد خاطر خواہ رقوم تقسیم کرنے کے بعد بھی سخت نقصان میںہوتے ہیں، کیوں کہ ایک تو یہ کہ اُن کی زکاۃ ادا نہیں ہوتی اور دوسرے یہ کہ وہ شریعت کے مجرم ٹھہرتے ہیں۔پھر آج ہم جواَپنے ملک ومعاشرے میںہراِعتبار سےاِنتہائی نچلے پائیدان پر ہیں، تو اِس کاواحد اور بنیادی سبب یہی ہےکہ ہمارے صاحبان حیثیت نےنظام زکاۃ کوطاق پر رکھ دیاہے اورتعلیم وتعلّم کو محض اپنے خاندان اوراَپنےاہل خانہ کے لیے خاص کرلیا ہے۔

 

 

مثلاًایک طرف حکم شرع کےبجائےاپنی مرضی سےزکاۃ نکالتے ہیں اوردوسری طرف اَپنے بچوں کی تعلیم و تعلّم پر بےدریغ خرچ کرتے ہیں بلکہ لاکھوں لاکھ پانی کی طرح بہادیتے ہیں مگرجہاں کہیں غریب ومحتاج بچوں کی تعلیم و تعلّم پر خرچ کرنے کے لیے کہا جاتا ہےتو اُن کی جان نکل جاتی ہے۔ چناںچہ اِس کا نقصان یہ ہوتا ہےکہ زکاۃ کی ادائیگی کے باوجود ہماری شرح غربت میں کسی طرح سےکمی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے اور تمام طرح کی سہولیات و آسائش کے ہوتے ہوئے بھی ہماری شرح تعلیم میں اضافہ نہیں ہوپارہا ہے، اور نتیجتاً ہمارا ملک و معاشرہ دن بہ دن غربت و جہالت کے وائرس کے شکنجے میں کستا چلا جارہا ہے اورہم جدید ترقیات سے کوسوں دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔

 

یہ پہلو ہم سب کے لیے قابل غور ہے۔

خلاصۂ کلام یہ کہ آج ہمارے درمیان ایک مبارک مہینہ سایہ فگن ہے توہمارے صاحبان حیثیت اِس مبارک مہینے کا بھرپور فائدہ اُٹھائیں، اَپنی تمام مالیت کا پورا حساب وکتاب کریںاور پائی پائی کی زکاۃ نکالیںاور پھراُس کو اَصل مستحقین تک پہنچائیں، نیزیہ عہد کریں کہ ہم ہرسال اَپنے ملک ومعاشرےکے کم سے کم ایک/دو بچوں کی تعلیمی کفالت کریںگے۔اگراَیسا ہوجاتا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارے بیچ موجود غربت و جہالت کا وائرس ختم ہوجائےگا اور پھر ہمیںدینی ودنیوی دونوںسطحوں پر کامیاب وکامراں ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔(ان شاءاللہ) (ایڈیٹر ماہنامہ حضرراہ، الہ آباد)

 

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.