پٹنہ بم دھماکہ معاملہ: استغاثہ نے حتمی بحث مکمل کرلی

دفاعی وکلاء نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ حتمی بحث کرنے سے انکار کیا، عدالت نے درخواست منظور کی

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

پٹنہ بم دھماکہ معاملہ: استغاثہ نے حتمی بحث مکمل کرلی


دفاعی وکلاء نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ حتمی بحث کرنے سے انکار کیا، عدالت نے درخواست منظور کی


ممبئی 30اپریل: بہارکی راجدھانی پٹنہ میں ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ استغاثہ نے بحث مکمل کرلی ہے لیکن دفاعی وکلاء نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ حتمی بحث کرنے سے انکار کیا جس کے بعد عدالت نے انہیں عدالت کے روبرو حاضر ہوکر بحث کرنے کی اجازت دی، 3 / مئی کو عدالت دفاعی وکلاء کو بحث کرنے کا حکم دیا ہے۔

 

 


 یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمد نی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دیتے ہوئے مزید بتایاکہ23/ اکتوبر2013ء کو پٹنہ کے مشہور تاریخی گاندھی میدان میں بم دھماکہ ہوا تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے،اس بم دھماکہ میں 6/لوگ ہلاک اور 90/ افراد زخمی ہوئے تھے۔ بم دھماکوں کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی NIA کے سپرد کی گئی جس نے بہار، جھاکھنڈ اور آس پاس کی دیگر ریاستوں سے10/ اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 307,326,212,121(A), 120(B), 34، دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3, 5 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 16,18,20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جس کے بعد ملزمین کی پیروی کے لئے جمعیۃ علماء کی جانب سے، ایڈوکیٹ سید عمران غنی،ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان ودیگر کو مقرر کیا گیا ہے جو ملزمین کا دفاع کررہے ہیں۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ لاک ڈاؤن سے قبل اس مقدمہ میں فریقین کی بحث شروع ہوچکی تھی لیکن اسی درمیان خصوصی جج کا تبادلہ بھی ہوگیا اور کرونا وبا ء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا نفاذ ہوا جس کے بعد خصوصی عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت نہیں ہوسکی لیکن نئے جج گرویندر سنگھ ملہوتراکی تقرری ہونے کے بعد استغاثہ نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ بحث کی۔

 

 


استغاثہ کی بحث کے بعد عدالت نے دفاعی وکلاء کو بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ بحث کرنے کا حکم دیا لیکن دفاعی وکلاء نے اس سے انکار کردیا اور عدالت کوکہا کہ کیونکہ یہ کوئی معمولی مقدمہ نہیں اور اس میں ہفتوں تک بحث چلے گی جو بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ممکن نہیں ہے لہذا انہیں عدالت کے روبرو بحث کرنے کی اجازت دی جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

 

 


اس ضمن میں ایڈوکیٹ واصف رحمان خان نے بتایا کہ لاک ڈاؤن سے قبل وہ حتمی بحث شروع کرچکے تھے لیکن اس درمیان اچانک لاک ڈاؤن لگا دیا گیا اور جج کا تبادلہ بھی ہوگیا جس کی وجہ سے معاملے کی سماعت ملتوی ہوگئی تھی لیکن اب جبکہ خصوصی جج نے انہیں حکم دیا ہے حتمی بحث کرنے کے لیئے وہ تیار ہیں لیکن وہ بجائے ویڈیو کانفرنسنگ کے عدالت کے روبرو حاضرہوکر بحث کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ عدالت استغاثہ کی جانب سے تحقیقات میں کی گئی خامیاں اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

 

 


انہوں نے کہا کہ ملزمین کی بھی خواہش ہیکہ ان کی موجودگی میں حتمی بحث ہو اس کے لیئے آن لائن بحث کرنے سے ہم نے معذرت کرلی تھی جسے خصوصی جج نے منظور بھی کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ملزمین امتیاز انصاری کمال الدین، حیدر علی عالم انصاری،نعمان سلطان انصاری،مجیب اللہ جابر انصاری،عمیر شفیع صدیقی، اظہر الدین شکیل الدین قریشی، احمد حسین سید قریشی، فخرالدین غلام مرتضی، محمد فیروز اسلم اور محمد افتخار محمد مصطفی کو اس معاملے میں ملزم بنایا گیاہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.