پرائیویٹ اسکولوں اور اساتذہ کے مسائل حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری: ڈائریکٹر مرکزی تعلیمی بورڈ

”اساتذہ ملک و ملت کے معمار ہوتے ہیں، لہٰذ ا ان کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد کی ہے۔وبا کے اس دور میں پرائیویٹ اسکولوں کے مالی حالات ابتر بنے ہوئے ہیں، تنخواہیں نہ ملنے کے سبب ٹیچرس پریشانیوں میں گزر بسر کررہے ہیں۔ایسے حالات میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ٹیچرس کی مشکلات کو محسوس کریں اور رمضان کے اس مبارک مہینہ میں ان کے لئے کچھ ایسا انتظام کریں کہ ٹیچرس بھی خوشی خوشی عید منا سکیں اور اپنی بنیادی معاشی ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔مثال کے طور پر ان کے لئے کچھ فنڈ قائم کئے جائیں جیسا کہ گزشتہ سال بعض ریاستوں میں سرکاری ٹیچرس نے پرائیویٹ ٹیچرس کے لیے ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اس فنڈ کے ذریعہ پرائیویٹ اسکولس کے ٹیچرس کی مدد کی گئی تھی۔“ یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے ڈائریکٹر سید تنویر احمد نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے پرائیویٹ اسکولوں کے مالی حالات

وطن سماچار ڈیسک

پرائیویٹ اسکولوں اور اساتذہ کے مسائل حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری:  ڈائریکٹر مرکزی تعلیمی بورڈ 

 

نئی دہلی، 24 اپریل: ”اساتذہ ملک و ملت کے معمار ہوتے ہیں، لہٰذ ا ان کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد کی ہے۔وبا کے اس دور میں پرائیویٹ اسکولوں کے مالی حالات ابتر بنے ہوئے ہیں، تنخواہیں نہ ملنے کے سبب ٹیچرس پریشانیوں میں گزر بسر کررہے ہیں۔ایسے حالات میں  ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ٹیچرس کی مشکلات کو محسوس کریں اور رمضان کے اس مبارک مہینہ میں ان کے لئے کچھ ایسا انتظام کریں کہ ٹیچرس بھی خوشی خوشی عید منا سکیں اور اپنی بنیادی معاشی ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔مثال کے طور پر ان کے لئے کچھ فنڈ قائم کئے جائیں جیسا کہ گزشتہ سال بعض ریاستوں میں سرکاری ٹیچرس نے پرائیویٹ ٹیچرس کے لیے ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اس فنڈ کے ذریعہ پرائیویٹ اسکولس کے ٹیچرس کی مدد کی گئی تھی۔“ یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے ڈائریکٹر سید تنویر احمد نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے پرائیویٹ اسکولوں کے مالی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”وبا کے اس دور میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے زیادہ شدید مسائل کا شکار ہیں، ان اداروں کی ایک بڑی تعداد معاشی مسائل کی بنا پربندبھی ہوچکی ہے۔ مسائل کے شکاران اداروں میں ملت کی جانب سے چلائے جانے والے اداروں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، چونکہ اکثر ملی ادارے، غریبیا کم متوسط طبقے کے طلبہ کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں،اِن اداروں کا انفراسٹریکچربھی کم معیاری ہوتا ہے، اس لیے ان کو آن لائن کلاسز کا اہتمام کرنا بھی آسان نہیں ہوتاجس کی بنا پر والدینکی بڑی تعداد ان اداروں کی تعلیمی فیس ادا نہیں کر تی۔ ممکن ہے اِن میں سے بعض والدین معاشی مسائل سے دوچار ہوں مگر اکثریت کا فیس ادا نہ کرناافسوس ناک ہے، جس سے اداروں کے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں نتیجے میں تعلیمی ادارے اپنے ٹیچرس کی تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔ ان حالات میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے انہیں کم تنخواہ کا دیا جانا یا وقت پر تنخواہ کا نہ دیا جانا ان کے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ایسے ماحول میں  ان اساتذہ کے بارے میں سوچنا اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا ملت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تنظیموں اور انجمنوں کے ذمہ داران سے بھی اس سمت میں قدم بڑھانے کی اپیل کی ہیں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.