کاش ہم اپنی سوچوں کو مہمیز کرتے

ہماری فکر کا مرکز و محور یاتو تاریخی اختلافات ہوتے ہیں یا پھر فروعی اختلافات اس کے آگے ہماری سوچ کام ہی نہیں کرتی یا پھر یہ کہ لیں کہ اس زیادہ مواد ہمارے دماغ میں ہوتاہی نہیں ہے ۔ تاریخی اختلافات جسے مشاجرات بزگاں بھی کہا جاتا ہے آپ ہم چاہے اس پر ایک لاکھ کتابیں لکھ لیں ، ایک دوسرے کو گالیاں دے لیں لیکن اس میں کچھ فرق نہیں پڑنے والا زیادہ سے زیادہ ہم آپ بھی لکیر کے فقیر بن کر کچھ حوالاجات نقل کرلیں گے اور خوش ہوجائیں گے ۔ کون حق پر تھا کون خطا پر اس سے نہ ہمارا بھلا ہوسکتاہے اور نہ ہی ہماری قوم کا ۔ حق اور باطل کا فیصلہ خدا کی بارگاہ میں ہونا ہے اور اس فیصلے کا ایک دن طے ہے تو پھر کیوں اس میں سر کھپایا جائے ۔

گیسٹ کالم

 کاش ہم اپنی سوچوں کو مہمیز کرتے 

ہماری فکر کا مرکز و محور یاتو تاریخی اختلافات ہوتے ہیں یا پھر فروعی اختلافات اس کے آگے ہماری سوچ کام ہی نہیں کرتی یا پھر یہ کہ لیں کہ اس زیادہ مواد ہمارے دماغ میں ہوتاہی نہیں ہے ۔ تاریخی اختلافات جسے مشاجرات بزگاں بھی کہا جاتا ہے آپ ہم چاہے اس پر ایک لاکھ کتابیں لکھ لیں ، ایک دوسرے کو گالیاں دے لیں لیکن اس میں کچھ فرق نہیں پڑنے والا زیادہ سے زیادہ ہم آپ بھی لکیر کے فقیر بن کر کچھ حوالاجات نقل کرلیں گے اور خوش ہوجائیں گے ۔ کون حق پر تھا کون خطا پر اس سے نہ ہمارا بھلا ہوسکتاہے اور نہ ہی ہماری قوم کا ۔ حق اور باطل کا فیصلہ خدا کی بارگاہ میں ہونا ہے اور اس فیصلے کا ایک دن طے ہے تو پھر کیوں اس میں سر کھپایا جائے ۔ 

 

اسی طرح جو فرعی اختلافات ہیں اس پر بھی چاہے جس قدر لکھ لیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔ نہ ہی وہ اختلافات اسلام ہیں اور نہ اسلام کا رکن ہیں ۔ پھر جس کو جو ماننا ہے وہ وہی مانے گا دوسروں کی  پختہ سے پختہ دلیل کے لیے تاویل نکال لے گا اور اپنی  بات پر ہزاروں دلائل پیش کردے گا ۔ بہت زیادہ ہوگا تو ہم اپنے دلائل پر خوش ہو لیں گے اور دوسرے کی دلیلوں کا مذاق اڑا لیں گے ۔ اس کے سوا بہت تیر ماریں گے تو کسی کو اس کے مسلک سے برگشتہ کردیں گے ۔ لیکن اسلام کس کا زیادہ معتبر ہے وہ خدا ہی جانتا ہے اور اس کے لیے بھی ایک دن معین ہے۔  

 

پھر کیا کیا جائے ؟ یہ سوال بڑا اہم ہے ۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ " فیس بک پر اپنے حریف کی مسلم ماں بہن کی عزت اتارنے والے ایک گالی باز ادوست سے جب انہوں نے کہا کہ گالی کیوں دیتے ہو ؟ اس نے جو جواب دیا اس سے  ہمارے مدرسیائ تعلیم کی سطحیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اس نے کہا بھائ ! ہم لوگوں کے پاس  تو دلائل ہیں نہیں کہ دلیل سے بات کریں گے اس لیے گالی دے کر اپنے دل کا ارمان پورا کرلیتے ہیں "  اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے مدارس دین ومذہب کی تعلیم اور اچھے اخلاق کے نام پر اپنی قوم کے نونہالوں اور قوم کی مستقبل کے دینی لیڈر کو کیا پلا رہے ہیں؟ ۔  

 

 پچھلے کئی سال سے  عیسائ ، یہودی اور برہمن گروپ میں خاموشی کے ساتھ اسلام پر ہونے والے اعتراضات بھی دیکھتا رہا  اور مسلم مسالک کے گروپ کا بھی جائزہ لیتا رہا ہوں ۔ اب اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ ایک ایسا طبقہ بھی انٹر نیٹ کی دنیا سے ہمارے بیچ کام کرتاہے جن کا مقصد صرف یہ ہے کہ " مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اپنا وقت صرف انہی اختلافات میں برباد کرے ، وہ کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوجائے ۔ اس کی نظر دوسروں کی برائ پر تو ہو لیکن خود کے اسلام مخالف اعمال اسے اسلام ہی لگیں ۔ مسلمانوں کے اعمال کے ذریعہ اسلام کو بدنام کیا جائے ۔جب بھی ان کو ایسا لگتا ہے کہ " اب اس قوم میں بیداری آرہی ہے یا اس قوم  کا ایک طبقہ اپنے دماغ کا صحیح استعمال کرنے کی پلاننگ کررہاہے تو اپنے افراد کے ذریعہ وہ کوئ اختلافی مسئلہ اچھال کر ساری پلاننگ تتر بتر کر دیتے ہیں" ۔اس قوم  کے بڑے طبقے میں اسلام کو عملی طور پر فرسودہ نظام بنانے کی درپے ہیں ۔ اس قوم کی معیشت کیسے برباد کی جائے ایک ماہر طبقہ اس پر کام کرتاہے ۔ مسلمانوں کے درمیان سے  اسلام کو کیسے ختم کیا جائے یا مسلمانوں کو کن مسائل میں الجھا کر اصل اسلام سے دور کیا جائے اس پر بھی ایک طبقہ کام کرتاہے ۔ مقصد ہے اسلام کو پس پشت ڈال کر انسانیت کو دوبارہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا ۔کیونکہ جب اسلام اپنی تعلیمات کے ساتھ عام ہوگا اور اس کی روحانی قدریں ظلمت کدہ کفر کا شیش محل توڑیں گی تو انسانیت اسلام کے دامن میں پناہ گزیں ہوکر ایسی تمام قید و بند کی سازشوں کے جال توڑ دے گی ۔ مسلمان جس قدر جذبات میں آکر کوئ قدم بڑھاتے ہیں ان سازش کاروں  کا فایدہ ہوتا ہے ۔ یہ قوم جب تک اختلافات کی دیوار تعمیر کرتی رہے گی ان کا بھلا ہوتا رہے گا ۔ اختلافات سے تعلق رکھیں لیکن بس علم کی حد تک ۔ علم کا کون سا شعبہ ہے جس میں اختلافات نہیں ہیں  لیکن کسی بھی شعبے میں ترقی کا سارا راز اختلافات میں مضمر نہیں مانا جاتا۔  

 

 افراد کے اعتبار سے دنیا کی دوسری سب سے  بڑی قوم جس کے پاس مادی وسائل کی کمی نہیں ہے آج سب سے زیادہ پس ماندہ ہے ۔ معاشی اعتبار اس قوم کی اکثریت روڈ پر کھڑی ہے ۔ جس قوم کے نوے فیصد افراد (آنے والے وقت کے حساب سے ) مزدوری کی منتظر ہے ۔ فکری اعتبار سے اگر پوری قوم کا جائزہ لیں تو دلتوں سے بھی بدتر صورت حال ہے ۔ عالمی سیاست میں دوسروں کے محتاج ۔ تعلیمی میدان میں کہیں ٹھہرنے کے قابل نہیں ۔ معاشی اعتبار سے کسی قطار میں کھڑے ہونے کے قابل نہیں ۔ صبح سے لے کر شام تک صرف ایک دوسرے کو گالیاں دینا ۔ کوسنا ، برا بھلا کہنا اور یہ امید رکھنا کہ انہی حالات میں حضرت مہدی آجائیں گے اور پھر سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا عقلی پس ماندگی کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔فیس بک ایک نعمت ہے   ۔ اس کے ذریعہ قوم کے جوانوں کی ذہن سازی کا کام بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے ۔ جو کام یہ قوم صدیوں میں نہیں کرسکتی تھی اگر آج کے زمانے میں کرنا چاہے تو سالوں میں بآسانی کرسکتی ہے۔  وہ کام ہے افراد سازی اور افراد کی ذہن سازی   ۔لیکن یہ قوم  نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس کے نام نہاد مذہبی  اور دنیاوی لیڈر ایسا کرنا چاہتے ہیں  ۔ جانتے ہیں کیوں ؟ "اس لیے کہ اس قوم کے دوست بے وقوف ہیں اور دشمن بہت شاطر ہے ۔ بے وقوف دوست اپنی حماقت کو عقل مندی گردانتا ہے جب کہ چالاک دوست ہر محاذ پر اسے چاروں خانے چت کرکے بھی خوشی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اس کا افسوس کرتاہے کہ یہ کامیابی بڑی نہیں ہے" ۔  آپسی اختلافات ، گالی گلوج ، ہلڑ بازی ،من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو ، اشخاص پرستی اور مشخصانہ اسلام کی  پیروی کی ضد سے اگر کبھی کوئ فایدہ ہوا ہو تو کوئ بتایا جائے ؟  ۔ جب کہ اس سے  نسل انسانی کو بے شمار نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔  اسلامی روحانیت کی قدریں اپنی زندگی میں داخل کرنی ہونگی پھر اسلام اور مسلمان کا بھلا ہوپائے گا ۔ 

 

بے قصور مسلمانوں کو مقدمے تحت فسانے کا سلسلہ جاری ہے آج کسی اور کا تو  کل آپ کا یا ہمارا نمبر بھی آسکتا ہے ۔ ہزاروں  بے قصور جوان  سلاخوں کے پیچھے سسکیاں لے رہے ہیں ۔  اس قوم کے زیادہ تر افراد اچھی تعلیم اور اچھی سروس میں نہ آنے پائیں اس کی نگرانی کی جارہی ہے ۔ تجارت کو نقصان پہونچانے کی ہمیشہ پلاننگ ہوتی ہے جہاں بھی اس قوم کے افراد تجارت  میں کچھ اچھا کرتے ہیں تجارتی مراکز کو پری پلان تباہ کردیا جاتا ہے ۔  ہماری قوم صرف مسلک مسلک اور مسئلہ مسئلہ ہی نہیں کھیلتی ہے ۔ کبھی موقع ملے تو اس قوم کی بڑی آبادی میں کوئ رہ کر دیکھے ، کیس،  مقدمہ ،  جھگڑا فساد اور نہ جانے کیا کیا کرنے کی خبر مل جائے گی ۔  ایک دوسرے کو طعنہ دینے کے بجائے اپنی گردن میں لگے پھانسی کے پھندے کو بھی غور سے دیکھیں جو ہماری آنے والی نسل کی گردن ناپنے کے نہایت قریب ہے ۔ " آنے والے طوفان سے آنکھیں بند کرنا اور بچوں کی طرح آپسی اختلافات کے کھیل کود میں مشغول یوجانا ہوشیار قوم کا شیوہ نہیں ہے" ۔ہم آپ تو ایک دوسرے کو گالی دے زندگی جی کر چلے جائیں گے لیکن اپنی نسل کو کیا دے کر جائیں گے؟  کبھی اس پر بھی غور کریں ۔ سیاسی غلامی ، ذہنی غلامی ، علمی غلامی اور فکری اپاہیج پن ۔ اس کے علاوہ بھی ہماری موجودہ روش ہماری نسل کو کچھ دے سکتی ہے ؟  یاد رکھئے جب طوفان آتا ہے تو غریب کے جھونپڑے کے ساتھ امیروں کے محلات بھی خس وخاشاک کی طرح بہ جاتے ہیں ۔ ریگزار کی تباہی کے ساتھ ہرے بھرے چمن زاروں پر بھی قیامت ٹوٹتی ہے ۔

 

یہ قوم  ملکی سیاست میں جتنا بھولا بھالا ہے اسی قدر آپس کی سیاست میں شاطر بھی ہے ۔ اگر اس قوم کی شاطرانہ سیاست دیکھنی ہو تو کسی مسجد ، مدرسہ یا کسی علاقائ وملکی تنظیم کے ممبر بن جائیے ۔پھر دیکھئے کہ ہماری قوم کے عقل مند ترین لوگ کیسی کیسی ماہرانہ اور شاطرانہ سیاست کرتے ہیں ۔ کچھ ہی دنوں میں یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ قوم کی بھلائی کے نام پر ہماری قوم میں سیاست کرنے والے کس قدر میر باقر وقاسم اور کردوغلو آج سیاست کے عروج پر  ہیں ۔ اس پست ذہنیت سے یہ قوم کس طرح باہر آئے گی اس پر سنجیدگی سے صرف پانچ فیصد طبقہ غور کرنا شروع کردے تو بہت جلد اچھے نتائج آسکتے ہیں اگر نہ سمجھ میں آئے اندرونی حالت دیکھ کر  یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قوم اس صدی میں اور اگلی صدی میں بھی یہی سب کرتی رہے گی ۔

 

محمد رضی احمد مصباحی ۔

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.