Hindi Urdu

بے ایمانی کرے دھن ہوئے بیس، پچیس اور تیس...

وزیراعظم نریندر مودی کو اٹل بہاری واجپئی کی اس تقریر کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار سننا چاہئے اور انہیں اپنے اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی شخصیت کو آگے رکھ کر موازنہ کرنا چاہئے، تو انہیں خود سمجھ میں آجائے گا کہ ایک طرف وہ سپوت ہے جسکا باپ ملک کے لئے شہید ہوگیا او ر دوسرے طرف مودی جو اس سپوت کے باپ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی اقتدار کے پانچ سال صرف پنڈت نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی شخصیت کو مسخ کرنے میں گذار دیئے؟ وزیراعظم خود ملک کو یہ بتائیں کہ آخر ان کے اقتدار میں گاندھی کے قاتل گوڈسے کیلئے مندر تعمیر کرنے کی آواز سڑک تو سڑک ایوان میں موجو د لوگوں نے کیوں اٹھائی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار میں اختلافات کی مکمل گنجائش ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہئے۔

گیسٹ کالم
فائل فوٹو

طارق انور

لوک سبھا انتخابات اپنے آخری پڑاؤ پر ہے۔ چھ مرحلہ کی پولنگ ختم ہوچکی ہے اور ساتویں مرحلہ کی پولنگ ہونی باقی ہے۔ اب تک کم وبیش 500سیٹوں پر انتخابات ہو چکے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے پوروانچل کو چھوڑ کر تقریباً یہاں سبھی سیٹوں پر چناؤ ہو چکے ہیں اور کہا یہی جارہا ہے کہ یہاں فرقہ پرست بری طرح ہار رہے ہیں۔ اسی طرح بنگال کی کچھ سیٹوں پر بھی چناؤ ہونے باقی ہیں۔ اس پورے انتخاب میں ایک چیز جو سب سے اہم رہی وہ یہ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے کیا گلا شکوہ کیا جائے جب خود اس پارٹی سے آنے والے وزیراعظم نے تمام اخلاقی حدود چاق کرد یئے اور ان کی دھجیاں اڑا دیں جن کے بارے میں کبھی خواب وخیال میں تصور بھی نہیں کیا گیا ہوگا کہ بھار ت میں ایک وقت ایسا آئے گا جب اس کی باگ ڈور کسی ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہوگی جو زندوں تو زندوں وطن کیلئے شہید ہونے والے لوگوں کا بھی مذاق اڑائے گا۔ اس پورے الیکشن کو اگر آپ باریکی سے دیکھیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ پورے الیکشن میں بھکت مودی مودی چلا رہے تھے اور مودی راجیو راجیو، راہل راہل چلا رہے تھے۔ جو لوگ پارلیمنٹری تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ یہ جانتے ہوں گے کہ نریندر مودی کے ہی گرو لال کرشن اڈوانی کے ساتھی اور مودی سے پہلے پانچ سال تک ملک کے اقتدار کی میعاد پوری کرنے والے بی جے پی سے آنے والے اکلو تے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے پارلیمنٹ میں زور دے کر کے کہاتھاکہ جب میں پارلیمنٹ میں پہلی بار آیا تو میں نیا نیا تھا مجھے پیچھے جگہ ملی تھی۔ چونکہ پارلیمنٹری سسٹم اسی بات کا متقاضی ہے۔ آگے اٹل جی کہتے ہیں کہ کئی بار مجھے بولنے کے لئے ہاؤس سے واک آؤٹ کرنا پڑتا تھا، جب میں ساؤ تھ بلاک آتا جاتا تھا جو میں دیکھتا تھا کہ وہاں پنڈت نہرو کی ایک تصویر لگی ہوتی تھی لیکن میرے وزیرخارجہ بننے کے بعد میں نے ایک دن دیکھا کہ وہ تصویر وہاں سے غائب ہے۔ میں نے افسروں سے پوچھا کہ وہ تصویر کہاں گئی تو کوئی جواب نہیں ملا اس کے بعد میں نے حکم دیا اور وہ تصویر دوبارہ وہاں لگا دی گئی۔ اٹل جی خود کہتے ہیں کہ کیا آج کے پارلیمنٹری سسٹم میں اس جذبے کی قدر ہے۔ کیا ایسے خیالات کو فروغ نہیں ملنا چاہئے۔ اٹل جی نے ہاؤس میں زور دے کر کے اس بات کو کہاکہ میں نے نہرو جی پر سخت سے سخت حملے بھی کئے اور ایک بار میں نے پارلیمنٹ میں یہاں تک اپنے ایک خطاب کے دوران کہہ دیا کہ آپ(پنڈت نہرو) میں چرچل بھی ہے اور چمبرلین بھی ہے۔ پولیٹیکل سائنس کے اسٹوڈنٹ اس بات سے بہ خوبی واقف ہوں گے کہ چرچل اور چمبرلن ندی کے دو الگ کنارے ہیں۔ اٹل جی خود کہتے ہیں کہ میرے اتنے سخت حملے کے بعد بھی پنڈت نہرو ناراض نہیں ہوئے۔ شام کو کسی بینکویٹ میں ملاقات ہوگئی بولے آج تو بڑا زور دار خطاب تھا اور ہنستے ہوئے چلے گئے۔ آج کل ایسی تنقید کا مطلب ہے دشمنی کو دعوت دینا اور لوگ بولنا بند کردیں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی کو اٹل بہاری واجپئی کی اس تقریر کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار سننا چاہئے اور انہیں اپنے اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی شخصیت کو آگے رکھ کر موازنہ کرنا چاہئے، تو انہیں خود سمجھ میں آجائے گا کہ ایک طرف وہ سپوت ہے جسکا باپ ملک کے لئے شہید ہوگیا او ر دوسرے طرف مودی جو اس سپوت کے باپ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی اقتدار کے پانچ سال صرف پنڈت نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی شخصیت کو مسخ کرنے میں گذار دیئے؟ وزیراعظم خود ملک کو یہ بتائیں کہ آخر ان کے اقتدار میں گاندھی کے قاتل گوڈسے کیلئے مندر تعمیر کرنے کی آواز سڑک تو سڑک ایوان میں موجو د لوگوں نے کیوں اٹھائی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار میں اختلافات کی مکمل گنجائش ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہئے۔ اگر جمہوریت میں سبھی کی رائے یکساں ہو تو میرے خیال میں وہ جمہوریت نہیں بلکہ تاناشاہی ہوگی اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے۔ کب کس کے دماغ سے کون سے آئیڈیا ملک اور سماج کی تعمیر و ترقی کیلئے کلک ہو جائے کہانہیں جاسکتاہے، لیکن ان سچائیوں کو مسخ کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے پورے پانچ سال صرف پنڈت نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے کئے ہوئے تمام کاموں کا نام بدل کر کریڈیٹ لینے کی کوشش کی۔

اگر وزیراعظم کثرت میں وحدت کے فارمولے پر عمل کرتے اور اختلاف برائے تعمیر کوئی کام کرتے تو بہتر ہوتا،لیکن انہوں نے پورے پانچ سال صرف اور صرف اختلاف برائے تخریب کام کیا۔ ایک بچہ (راہل گاندھی) جب چودہ سال کا تھا اور ایک بچی (پرینکا گاندھی) جب بارہ سال کی تھی اس وقت ان کے والد (راجیو گاندھی) ملک کے حفاظت کے لئے اس مٹی کو اپنا خون دے گئے اور انہوں نے اپنے والد کی جلتی چتاکو بچپن میں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اگر آج نریندر مودی ان کے سامنے ان کے والد کو ان کے دادا، پردادا ان کی دادی کو گالی دیں گے تو ان کے کلجے پر کیا گذرے گی؟خود آپ اس کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ آپ رویش کمار کے اس انٹرویو کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار دیکھئے کہ جب انہوں نے راہل گاندھی سے وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ راجیو گاندھی، اندرا گاندھی اور پنڈت نہرو کو دی جانے والی مغلظات کے سلسلہ میں پوچھا تو اس وقت راہل گاندھی نے کہاکہ وہ ہمیں گالی دیں گے لیکن ہم ان کو محبت سے ہرائیں گے،تاہم اس وقت ان کے لہجے میں جو سسک تھی اور جو درد تھا وہ صرف محسوس کرنے والے ہی محسوس کرسکتے ہیں کہ وزیراعظم کے حملوں سے ان کے دلوں کو کتنی چوٹ پہونچی ہے۔ مزید تکلیف تب ہوئی جب وزیراعظم کو دنیا نے بتایاکہ آپ غلط ٹریک پر جارہے ہیں ایسا مت کیجئے اس کے بعد انہوں نے ایک اور جھوٹ کے ذریعہ سے راجیو گاندھی کی کردار کشی کی۔جب تنازعہ بڑھا تو انہوں نے افسوس اور دکھ ظاہر کرنے کے بجائے کہاکہ کانگریس کو چاہئے کہ ان کے نام پر اگلے دو مرحلہ کا الیکشن لڑ لے۔

وزیراعظم کے حملوں کا راہل اور پرینکا دنوں نے شاندار جواب دیا۔راہل گاندھی نے جہاں محبت اور شفقت کا اظہار کیا وہیں پرینکا گاندھی نے دہلی میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے صاف لفظو ں میں کہاکہ اگر ان (نریندر مودی) کو اپنے اوپر اتنا ناز ہے تو دہلی کی ایک لڑکی آپ کو چیلنج دے رہی ہے کہ آپ انتخابات کے اگلے دو مرحلے نوٹ بندی پر لڑئیے۔ جی ایس ٹی پر لڑئیے۔ خواتین کے تحفظ پر لڑیئے اور ان وعدوں پر لڑئیے جن کے ذریعہ سے آپ نے 2014میں اقتدار سنبھا لاتھا۔ آپ لڑیئے نوجوانوں کو دو کروڑ روزگار دینے کے ایشوپر۔ آپ لڑیئے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے نعرے پر، جس کے بعد وزیراعظم کی زبان گنگ سی ہوگئی۔

 گذشتہ کچھ دنوں سے نریندر مودی ہواس فاختہ دکھائی دے رہے ہیں۔ خود ابھی حال ہی میں نریندر مودی نے جس طرح کا بیان الائنس کو لے کرکے دیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ نریندر مودی کی زمین پوری طرح کھسک چکی ہے۔ 350کا نعرہ دینے والے جیسے جیسے الیکشن گذرتا جارہا ہے ویسے ویسے آسمان سے زمین پر آرہے ہیں۔ پہلے کہاکہ ہم 350جیت رہے ہیں اس کے بعد کہاکہ ہم 300جیت رہے ہیں۔ پھر کہا کہ ہم اپنے دم پر سرکار بنائیں اس کے بعد کہہ رہے ہیں کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ ہم سرکار بنا لیں گے۔اب خود نریندر مودی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گٹھ بندھن کی سرکار چلانا آتا ہے اور ہم نے پانچ سال اقتدار میں رہنے اور مکمل اکثریت کی سرکا ر چلانے کے بعد بھی کبھی اپنے معاونین کو الگ تھلگ نہیں کیااور ان کے ساتھ ہم نے سرکار چلائی اور پوری ایمانداری سے چلائی۔واہ رے صاحب اتنی ایمانداری سے کہ میہول بھائی جیسے ان گنت گجراتی ملک کے ٹیکس دہندگان کا اربوں کروڑ روپیہ لے کر بھاگ گئے اور چوکنا چوکیدار اف تک نہیں کہہ سکا۔ مطلب صاف ہے کہ چائے والے سے چوکیدار بنے شخص کو بھی اپنی حیثیت کا اندازہ ہوگیا ہے۔ شاید اسی لئے سوشل میڈیا کے ذریعہ سے لوگوں سے یہ اپیل کی جارہی ہے کہ تمام چوکیداروں کو چاہئے کہ وہ 23مئی سے پہلے اپنی سیٹی اور یونیفارم جمع کردیں (حالانکہ ہم اس طرح کے مزاحیہ جملوں کے حق میں نہیں ہیں) لیکن اس کے باجود اگرکسی ملک کے وزیراعظم اس حدتک اخلاقی زوال کا شکا رہوجائیں تو آپ خود فیصلہ کیجئے کہ وہ ملک کہاں جا چکا ہے اور اگر سچ میں چوکیدار چوکنا ہی ہے اور ملک اس کے ہاتھوں میں محفوظ ہے تو پھر یہ بیس لاکھ ای وی ایم کہا ں گئیں اور روز ای وی ایم ای وی ایم کا کھیل کیوں کھیلا جارہا ہے۔ ابھی کل ہی اتر پردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے مشکوک حالت میں بغیر نمبر پلیٹ کے ای وی ایم چوری کی جارہی تھی۔ آپ سوچئے ملک کہاں جارہا ہے جو لوگ ملک کے وقار کا سودا کررہے ہیں وہ بزرگوں کی اس کہاوت کو دھیاں سے پڑھیں ’بے ایمانی کرے دھن ہوئے بیس پچیس اور تیس۔ تہس نہس ہوئیں پھر ناتی پوت سہیت۔ عقلمندرا اشارہ کافی است۔

 مضمون نگار ، لوک سبھا سے رکن پارلیمنٹ ہیں ، 2019کے لوک سبھا الیکشن میں کٹیہار سے کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں, سابق مرکزی وزیر اور آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر ہیں۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے جس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔وطن سماچار اسے من وعن شائع کررہا ہے۔ اسی میں کسی طرح کی ترمیم یا ردوبدل نہیں کیاگیا ہے ۔اس آرٹیکل کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا کوئی جوابدہ اور ذمہ دار نہیں ہوگا۔ 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.