رمضان صبر کا اور خدائی رحمتوں کا مہینہ ہے

رمضان المبارک سے متعلق مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کابیان

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند،15/ مئی: دارلعلوم وقف دیوبند کے سینئر استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہاکہ رمضان کواللہ تعالیٰ نے تمام مہینوں کا سردار بنایا ہے، جتنی برکتیں اور رحمتیں اس ماہ مبارک میں نازل ہوتی ہیں آدمی پورے سال بھی ان کا تصور نہیں کرسکتا۔ رب العالمین کے خزانوں سے بندگان خدا پر جو عنایات اور لطف وکرم ہوتاہے اسے صحیح معنی میں الفاظ کے ذریعہ بھی ادا نہیں کیا جاسکتا، روزہ دار کا جو مرتبہ اور مقام رب کائنات کے یہاں ہے اور رب دوجہاں جس طرح اسے نوازتے ہیں اور دونوں جہان میں سرفراز فرماتے ہیں یہ صرف رمضان کے مہینہ سے تعلق رکھتا ہے۔ روزہ دار کے لئے جو آسانیاں اور سہولتیں، راحت واطمینان عطا کئے جاتے ہیں ان کا لطف ایک روزہ دار ہی اٹھا سکتا ہے، یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور اللہ نے اپنی پاک کتاب قرآن کریم میں فرمادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ بھوک کی شدت ہے، کمزوری اور لاغری ایک قدم چلنے نہیں دیتی، عام دن ہوتے تو بھوک کی وجہ سے ایک لمحہ رکنا بھی ممکن نہ ہوتا اور یہ بھوکا شخص اپنے کھانے کا نظم کرتا، مگر یہ روزہ کی خصوصیت ہے کہ روزہ دار صبر کرتا ہے، بھوک بھی برداشت کرتا ہے اور پیاس سے بھی مغلوب نہیں ہوتا حالانکہ حلق خشک ہورہا ہے اور چند گھونٹ پانی کی طلب بے چین وبے قرار کئے ہوئے ہے، مگر روزہ دار اپنے خدا کی رضا اور اپنی بندگی کی خاطر بھوک پیاس پر قابو رکھتا ہے اور بے قابو نہیں ہوتا۔ رمضان کے تمام دن اورتمام راتیں رب العالمین کے فضل اور عطایا کا وہ خوبصورت عنوان ہیں اگر ان کو اپنے حق میں کارآمد، کامیاب اور مفید بنانا ہے تو اپنی غلامی اور بندگی کا ثبوت عبادت الٰہی سے پیش کرنا چاہئے۔ یہ مہینہ جہاں عبادتوں کا مہینہ ہے وہیں ضرورت مندوں اور مجبور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ بھی ہے، نیکیوں کا موسم بہار ہے اورخیرخواہیوں کی وہ جوئے رواں ہے جس سے ہر شخص سیراب ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں چار کام خصوصیت سے کرنے کی ہدایت فرمائی ہے، پہلے گناہوں سے توبہ، دوسرے کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت کا مسلسل ورد، تیسرے جنت کی طلب، چوتھے جہنم سے پناہ، اس کے لئے حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں جنہیں دعاؤں کی کتابوں میں دیکھ کر آپ ان چاروں چیزوں پر عمل کرسکتے ہیں۔ یہ مہینہ گناہوں کو معاف کرانے کا مہینہ ہے، انسان زندگی میں گناہ کرتا ہے، غلطیاں اور کوتاہیاں کرتاہے اوراس کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ اپنے گناہوں کا بارگاہ رب العزت میں اقرار کرے اور معافی طلب کرے وہ رحیم اور کریم ہیں، انہیں کے دربار سے معافی ملے گی، نماز جنت دلائے گی، حج جنت دلائے گا، زکوٰۃ جنت دلائے گی، تمام عبادتیں جنت تک پہنچانے کا سیدھا راستہ ہیں لیکن روزہ اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس کا اجر حدیث کے مطابق ایک جگہ پر روزہ کا بدلہ میں خود دوں گا اور دوسرے اعتبار سے روزہ کا بدلہ میں خود ہوں۔ اس اعتبار سے دیکھئے کہ روزہ ایک عظیم ترین عبادت ہے اور فرض روزے کواگر کسی نے جان بوجھ کر چھوڑدیا تو زندگی بھر بھی نفل روزے رکھتا رہے تو اس ایک فرض کا یہ روزے بدل نہیں بن سکتے۔ اہل ایمان کے لئے لازمی اور ضروری ہے کہ اس عظیم اور برکتوں والے مہینے کو ضائع نہ کریں، لایعنی کاموں، بدگوئی، چغل خوری، جھوٹ اور دھوکے میں برباد کرکے اپنے لئے سامان عبرت نہ فراہم کریں۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.