مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ایک نظر اِدھر بھی

سب سے پہلے جمعیۃ کے کارگذار صدر کے طور پر وطن سماچار کی طرف سے مبارکبادی قبول فرمائیں۔ حضور والا! جن نازک حالات میں آپ کے سر یہ تاج رکھا گیا ہے وہ کافی اہم ہے۔ ویسے پہلے بھی آپ جمعیۃ میم گروپ کے باطنی طور سے سربراہ کلی تھے اور اب ظاہر وباطن دونوں میں میری ناقص سمجھ کے مطابق سربراہ کلی ہو گئے ہیں ، کیونکہ میم کا مطلب ہی محمود مدنی ہوتا ہے ،جس طرح الف کا مطلب ارشد مدنی ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جمعیۃ ایک تاریخی تنظیم نہیں بلکہ ایک عالمی تحریک ہے ، جس کے ذمہ داروں نے ملک کی آزادی کیلئے شہادت او ر قربانیاں پیش کیں ۔ اس طرح تاریخ کے صفحات میں یہ بات ثبت ہوگئی کہ جمعیۃ کی قربانیاں اگر کانگریس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہیں،لیکن تب کی جمعیۃ جہاں مسلمانوں کے سبھی مسالک کی نمائندہ جماعت تھی وہیں اب کی جمعیۃ کا مطلب مسلمانوں کے ایک خاص مسلک کی نمائندگی کرنا ہے۔ اس کی مجبوریاں کیا ہیں؟ آپ جمعیۃ کو اس کے تاریخی مشن کی جانب اب تک کیوںنہیں لے گئے ؟اس کا جواب تو آپ ہی دیں گے ، لیکن اس پر مجھے اس لئے کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ میں نے اپنے شیخ حضور داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی سے ایک بات سیکھی ہے کہ جہاں بھی خیر کا کام ہورہا ہے اگر اس میں آپ کو کوئی نقص نظر آئے تو اس میں تاویل کرو، خطائے بزرگاں گرفتن خطا است ، لیکن ایک صحافی کے ناطے معافی کیساتھ میں اپنی کچھ ذمہ داری سمجھتا ہوں جسے آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ایک نظر اِدھر بھی !

باعزت کارگذار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید کہ مزاج گرامی شگفتہ ہوگا!

سب سے پہلے جمعیۃ کے کارگذار صدر کے طور پر وطن سماچار کی طرف سے مبارکبادی قبول فرمائیں۔ حضور والا! جن نازک حالات میں آپ کے سر یہ تاج رکھا گیا ہے وہ کافی اہم ہے۔ ویسے پہلے بھی آپ جمعیۃ میم گروپ کے باطنی طور سے سربراہ کلی تھے اور اب ظاہر وباطن دونوں میں میری ناقص سمجھ کے مطابق سربراہ کلی ہو گئے ہیں ، کیونکہ میم کا مطلب ہی محمود مدنی ہوتا ہے ،جس طرح الف کا مطلب ارشد مدنی ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جمعیۃ ایک تاریخی تنظیم نہیں بلکہ ایک عالمی تحریک ہے ، جس کے ذمہ داروں نے ملک کی آزادی کیلئے شہادت او ر قربانیاں پیش کیں ۔ اس طرح تاریخ کے صفحات میں یہ بات ثبت ہوگئی کہ جمعیۃ کی قربانیاں اگر کانگریس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہیں،لیکن تب کی جمعیۃ جہاں مسلمانوں کے سبھی مسالک کی نمائندہ جماعت تھی وہیں اب کی جمعیۃ کا مطلب مسلمانوں کے ایک خاص مسلک کی نمائندگی کرنا ہے۔ اس کی مجبوریاں کیا ہیں؟ آپ جمعیۃ کو اس کے تاریخی مشن کی جانب اب تک کیوںنہیں لے گئے ؟اس کا جواب تو آپ ہی دیں گے ، لیکن اس پر مجھے اس لئے کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ میں نے اپنے شیخ  حضور داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی سے ایک بات سیکھی ہے کہ جہاں بھی خیر کا کام ہورہا ہے اگر اس میں آپ کو کوئی نقص نظر آئے تو اس میں تاویل کرو، خطائے بزرگاں گرفتن خطا است ، لیکن ایک صحافی کے ناطے معافی کیساتھ میں اپنی کچھ ذمہ داری سمجھتا ہوں جسے آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ 

حضور والا !اگر میں کسی طرح کی گستاخی کر جائوں تو مجھے معاف کیجئے گا ، لیکن اگر کوئی بات اچھی ہو تو میری اللہ سے دعا ہے کہ مولیٰ اس کے عوض آپ کا اقبال بلند کرے!آمین۔

مجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ ملت کے لئے کافی متفکر رہتے ہیں اور کچھ چیزیں میں جانتابھی ہوں۔ میں نے آپ کے کئی کاموں میں آپ کی بڑی مدد کی ہے جسے آپ یقیناً نہیں جانتے ہوں گے، کیونکہ میرے شیخ کا حکم ہے کہ خیر کرکے بھول جائو اور جزاء کی امید اللہ سے رکھو ۔ تاہم ایک بات یہاں عرض کرنا ضروری ہے۔ میرے علم کے مطابق آپ کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین کے اندر جمعیۃ کے تنقید نگاروں کو برداشت کرنے اور ان کو اپنے اخلاق حسنہ سے مطمئن کرنے کا ملکہ اسی طرح موجود ہے جس طرح اصحاب رسول میں تھا، تاہم جمعیۃ کے دوسرے لوگوں کیساتھ تجربہ اس کے برعکس ہے، جس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔ کئی بار تو لوگ گالی گفتار پر اتر آتے ہیں ۔اس پر بھی میں گفتگو نہیں کرنا چاہتا ، لیکن یہ بات کہنا چاہتا ہوںکہ ایسے لوگوں کی تربیت اگر ان صوفیاء کرام کے نہج پر ہو جن کا تذکرہ ابن القیم الجوزیہ اور ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور دوسرے اکابرین نے کیا ہے، تو شاید یہ لوگ جماعت و جمعیۃ کے لئے ایک عظیم ترین سرمایہ ہوں اور اس کیلئے ایسے ہی لوگوں کی صبحت واجازت یا کم از کم صحبت ضروری ہے جن کو دیکھ کر یہ یاد آئے کہ ’کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے۔

 

آپ کے صدر بننے کے بعد کچھ لوگوں نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کا صدر بننے پر مبارکباد، تو کچھ لوگوں نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر صدام حسین اور معمر قذافی کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی بات کہی ، لیکن میں رسول اللہ اور اصحاب رسول اللہ کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے چند سال قبل آپ کا ایک بیان کافی تیزی سے وائرل ہوا تھا،جس میں جمعیۃ کے تمام عہدوں سے آپ کے دست بردار ہونے اورکسی ایسے شخص کو جمعیۃ کا ذمہ دار بنائے جانے کی بات کہی گئی تھی جو مسلم امہ کی صحیح نمائندگی کرسکے۔ اس پر میں نے حضور داعی اسلام شیخ ابو سعید کا نام پیش کیا تھا جس پر مولانا عبدالحمید نعمانی نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے فرمایاتھاکہ ایسے بزرگوں کو کم ازکم جمعیۃ کے شعبہ تصوف کی (نیا شعبہ قائم کرکے )ذمہ داری دی جا سکتی ہے ۔ خیر مجھے بعد میں احساس ہوا کہ ایسے بزرگوں کو جمعیۃ کیا پوری امت مسلمہ کی سربراہی کا تاج پہنا دیا جائے تو وہ اس کو قبول کرنے کے بجائے صرف امت کے ایک خادم کے طور پر ہی اپنی ذمہ داری انجام دیں گے۔ اس لئے وہ بات آئی اور چلی گئی،اچھا ہوا ،تاہم آج الحمد للہ آپ جمعیۃ کے باوقار کارگذار صدر ہیں۔ اس لئے آپ سے کلام کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

 

حضور والا! جمعیۃ کے انتشار کو ختم کرکے دونوں جمعیۃ کو ایک کرنے کا یہ سب سے مناسب وقت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب کوئی شخص اصلی معنوں میں فاروقی صفت کا حامل ہو اور کوئی حقیقی معنوں میں قاسمی صفت سے متصف ہو اور وہ فضل و عطاء میں یقین کامل رکھتا ہو ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کیلئے کئی بار کوششیں بھی ہوئی ہے او ر شاید آپ کی ورکنگ کمیٹی نے تجاویز دوسری جمعیۃ کو بھیج رکھی ہیں۔ اس کے باوجود میں التجا کروں گا کہ پھر سے اس کی کوشش کیجئے اور جمعیۃ کو تمام مسالک کی نمائندہ جماعت بنائیے ۔ سبھی مسالک کے لوگوں کو اہم مقام پر فائز کیا جائے اور فیصلہ شورائیت کی بنیاد وں پر ہو نہ کی شخصی اور کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے اس کو کسی کے کہنے یا نجویٰ کی بنیاد پر نہ لے کر شوریٰ کے ممبران اپنے معیار پرلیں ، جیسا کہ آج بھی جماعت اسلامی میں تھوڑا ہی سہی مگر یہ نظام موجود ہے ۔ فیصلے کے وقت اس بات کا یقین کامل رکھیں کہ اس کی جوابدہی اللہ کے یہاں ضرور ہوگی، کیونکہ گذشتہ کچھ سالوں میںکچھ ایسے فیصلے ہوئے ہیں جو شخصی یا نجویٰ کی بنیادوں پر لئے گئے ہیں جس سے جمعیۃ کو کا فی نقصان ہوا ہے ، اس لئے اب مزید نقصان کی گنجائش نہیںہونی چاہئے۔

حضور! ایک دن آپ ایسا ضرور منتخب کیجئے جس میں آپ خود لوگوں سے بات چیت کریں اور براہ راست لوگوں سے کووڈ پروٹوکال کو دھیان میں رکھتے ہوئے ملیں تاکہ عمر فاروق کی طرح آپ سمجھ سکیں کہ آپ کی رعیت میں لوگ آپ سے خوش ہے یانہیں، کیونکہ کئی بار نیچے والوں کی درست جانکاری آپ تک نہیں پہونچ پاتی ہے جس سے لوگوں کا نظر یہ آپ کے بارے میں غلط بنتا ہے۔ بہتر ہوگا اگر آپ ملازمین سے ان کے سکھ دکھ کو خود جاننے کی کوشش کریں کیونکہ اگر کسی جماعت کے کارندے ہی پریشان ہوں اور صرف چند لوگ لطف اندوز ہورہے ہوں تو پھر وہ تحریک اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔

 

آپ ایسے لوگوں کو اپنے ارد گرد ضرور رکھیں جو ستائش کرنے کے بجائے آپ کے کاموں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں یا کم از کم ایسے لوگوں سے آپ ضرور ملیں جو آپ کے کاموں کی تنقید کریں یا اس میں کمی نکالیں تاکہ اس میں بہتری ہوسکےاور لوگوں کا اعتماد مزید گہرا ہو۔ آپ یاد رکھیں کئی مواقع پر قرآن نے رسول اللہ کے ہوتے ہوئے عمر فاروق کی تائید کی ہے اور شاید پچیس مرتبہ یا اس سے زیادہ بار ایسا ہوا ہے۔

حضور والا! ہر جماعت میں ایسے چاپلوسوں کی فوج ہوتی ہے جو قائد کو خوش رکھنے کیلئے پوری جماعت کو چوس لیتی ہے ۔اس لئے اس طرف توجہ دیں اور صرف چاپلوسی کرنے والوں سو ہوشیار رہیں۔ حضور والا! ایک التجا آپ سے یہ بھی ہے کہ آپ حساب کتاب کی کراس چیکنگ ضرور کریں تاکہ مالی معاملات میں شفافیت رہ سکے۔ آپ سہ ماہی یا چھ ماہی کوئی ایسا نظم کریں جس میں لوگ آپ سے سوال جواب کر سکیں جو پہلے سے پری پلانڈ نہ ہو، بلکہ اس میں سبھی کو موقع دیا جائے تاکہ لوگ اپنے دل کی بات رکھ سکیں اور اگر کچھ ان کی عرضیاں ہیں تووہ آپ کو پیش کرسکیں۔

 

مجھے امید ہے کہ آپ اس طرف ضرور توجہ دیں گے تاکہ جمعیۃ کے بانیوں نے ملت کی فلاح کا جو خواب دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہوسکے اور ہاں ایک بات ضرور بتائیں کہ قوم نے انگریزی اخبار نکالنے کیلئے جو پیسہ دیا تھا اس کا کیا ہوا؟ اگر وہ انگریزی اخبار نہیں نکل سکا تو کم ازکم ڈیجیٹل میڈیا کے زمانے میں اس کا کفارہ کم پیسے میں آسانی سے ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کیلئے قابل لوگوں کی ایک ٹیم تیار کی جاسکتی ہے جو صرف جمعیۃ کی نمائندہ جماعت نہ ہوں بلکہ سرکاروں کیساتھ جمعیۃ سے بھی سوال و جواب کرسکے بالکل اسی طرح جس طرح کا سوال سیدنا عمر فاروق سے کُرتے کے سلسلے میں ہوا تھا۔ آج بھی ایسا ہورہا ہے ۔مجلہ الاحسان او ر خضرراہ میں ایسے لوگوں کے مضامین کو خوش اسلوبی سے من وعن جگہ دی جاتی ہے جو اس کی تنقید کرتے ہیں اور ان کا جواب بھی انسانی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دیا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ تمام مسالک کے لوگوں کے مضامین کو اس کے اندر جگہ دی جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ دونوں مجلے شاید دنیا کے واحد ایسے مجلے ہوں جس میں اپنے خلاف ہی تنقید کو جگہ دی جاتی ہے ۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.