نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اردو زبان

۲۹ جولائی ۲۰۲۰ کو مرکزی کابینہ نےنئی قومی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی،جو یقینا ہندوستانی نظام تعلیم میں متعدد اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔اس کے اندر کئی ایسی ترامیم اور اصلاحات کی گئی ہیں جن کی ہر حلقے میں پذیرائی ہوئی ہے،جب کہ دوسری طرف اس کے کچھ تشنہ،مبہم اور متضاد پہلوؤں نے بہت سارے ذہنوں میں شبہات بھی جنم دیے ہیں،خصوصا لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے درمیان سخت اضطراب پایا جاتاہے.

گیسٹ کالم
فائل فوٹو

نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اردو زبان

پروفیسر محمد محب الحق

(اردو ترجمہ : سیدقمرالاسلام)

 

 ۲۹ جولائی ۲۰۲۰ کو مرکزی کابینہ نےنئی قومی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی،جو یقینا ہندوستانی نظام تعلیم میں متعدد اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔اس کے اندر کئی ایسی ترامیم اور اصلاحات کی گئی ہیں جن کی ہر حلقے میں پذیرائی ہوئی ہے،جب کہ دوسری طرف اس کے کچھ تشنہ،مبہم اور متضاد پہلوؤں نے بہت سارے ذہنوں میں شبہات بھی جنم دیے ہیں،خصوصا لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے درمیان سخت اضطراب پایا جاتاہے.

 

نئی تعلیمی پالیسی نےمحبان اردوکو گوناگوں شکوک وشبہات میں مبتلا کر دیا ہے-یہاں یہ حقیقت ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ خالص ہندوستانی زبان ہونے کے باوجود اردو کو اب تک کسی بھی ریاست میں سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جاسکا ہے.

حیرت کی بات ہے کہ چھیاسٹھ صفحے کی اس طویل تعلیمی پالیسی میں کہیں بھی اردو کانام ونشان نہیں ہے.اتنے واضح انداز میں اردو کو غائب کردینے کی وجہ سے مودی حکومت کو چوطرفہ تنقید کاسامنا کرنا پڑرہا ہے.

 

اگر چہ حکومت کی طرف سے اہل اردو کے خدشات کودور کرنے کی کوشش کی گئی ہے,چناں چہ ہائیر ایجوکیشن سکریٹری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجوزہ تعلیمی پالیسی کا پیراگراف ۴,١۲, ۲۲,٦ , اور ۲۲,١۸  ان تمام زبانوں کے متعلق وضاحت کرتا ہے جو دستور ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل ہیں.اردو بھی ان میں سے ایک ہے.

یہاں جان بوجھ کر اس سچائی پر پردہ ڈالنے کوشش کی جارہی ہے ,کیوں کہ ان مذکورہ پیراگرافوں میں ہندی زبان کا بھی ذکر نہیں کیاگیا ہےجب کہ ہندی بھی دستور ہند کے آٹھویں شیڈیول میں ذکر کردہ زبانوں میں سے ایک ہے.حکومت کی اس وضاحت کے بعد بھی یہ مسئلہ پوری طرح صاف نہیں ہوا ہے،اس لیے اردو زبان کی حیثیت کے تناظر میں نئی تعلیمی پالیسی کا جائزہ لیاجاناازحد ضروری ہے.

 

نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق کم سے کم پانچویں اور ترجیحی طور پر آٹھویں درجے بلکہ اس سے بھی اوپردرجات میں مقامی اور مادری زبانوں میں تعلیم دیے جانے پر زوردیا گیا ہے-مادری زبانوں کے سلسلے میں مرکزی حکومت کا یہ اقدام،ان ہندوستانی زبانوں کے حق میں نیک شگون ہے جو پہلے تو استعماری استبداد سے دوچار ہوئیں اورآزادی کے بعد انھیں حکومت کی مسلسل بےتوجہی کاشکار ہونا پڑا-

"کثیراللسانی اور زبان کی قوت" کے ذیلی عنوان کے تحت حکومت نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ"بچوں کے ذہن میں نئے آئیڈیاز دوسری زبانوں کی بہ نسبت اپنی مادری زبان میں زیادہ جلدی بیٹھ جاتے ہیں"

 

پرائمری ایجوکیشن کے لیے مقامی/مادری زبان کو لازمی قرار دیناواقعتا ایک قابل ستائش فیصلہ ہے،لیکن یہاں ایک بےحد پریشان کن مسئلہ مقامی زبان کے تعین کو لے کر درپیش ہوگا-کون سی زبان مقامی یامادری ہے،یہ کس بنیاد پر طے کیا جائے گا؟مثال کے طور پر؛ لکھنؤ،دہلی،مرادآباداور میرٹھ جیسے شہروں کے باشندوں کی مقامی زبان کیا ہے؟یا یوپی،بہار،تلنگانہ، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی مادری زبان کیا ہے؟اس کا تعین کرپانا بذات خود بڑی الجھن کاباعث ہے.

 

موجودہ حالات میں جب کہ ملک مواقع کی قلت سے جوجھ رہا ہے،اردو سمیت سہ لسانی فارمولے کو عملی جامہ پہنانا مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ٹیڑھی کھیرثابت ہوگا،جس کے نتیجے میں اردو مزید پسماندہ ہوتی جائے گی۔

 

اس تعلیمی پالیسی کا ایک اہم پہلو حکومت کی یہ یقین دہانی ہے کہ سہ لسانی فارمولے کے نفاذ میں صوبوں کو ہرممکن سہولت دی جائے گی،اور کسی صوبے پر جبرا کسی زبان کو تھوپا نہیں جائے گا-ان تینوں زبانوں کا انتخاب صوبے،علاقے اور طالب علم کی پسند کے مطابق کیاجائےگا-البتہ ان تین زبانوں میں سے دوزبانیں بہر حال ہندوستان کی مقامی زبانیں ہوں گی۔ (پیراگراف:۴.١٣صفحہ:١۴)

بہر کیف اس سہ لسانی فارمولے کے نفاذ میں 'علاقے' کا تعین وضاحت طلب ہے.اس کے علاوہ،یہ تینوں اکائیاں-صوبہ،علاقہ اور طالب علم-جنھیں ذریعۂ تعلیم کے لیے تین زبانوں کے انتخاب کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں کہ جب ان تینوں اکائیوں کی پسند ایک دوسرے سے سے مختلف ہوجائے تو ترجیح کے لیے کون سا طریقہ اپنایاجائے گا؟مثال کے طور پر،اردو بول چال والے طلبہ جوظاہر ہے کہ ذریعۂ تعلیم کے لیے اردو کا انتخاب کرنا چاہیں گےجب کہ ریاستی حکومت انھیں ہندی،بنگالی، اڑیا یا دیگر زبانوں کے انتخاب پر مجبور کرے گی۔

 

مجوزہ تعلیمی پالیسی کے حوالے سے محبان اردو کے ان خدشات کو بے بنیاد نہیں کہاجاسکتا،کیوں کہ اس پالیسی میں سنسکرت سمیت ہندوستان کی دیگر کلاسیکی زبانوں مثلا تمل،تیلگو،کنڑ،ملیالم،اڑیا،پالی اور فارسی زبانوں کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے،لیکن اردو تنہا ایسی قدیم اور کلاسیکی زبان ہے جسے مذکورہ فہرست سے حیرت انگیز طور پر غائب کردیاگیا ہے۔

نئی تعلیمی پالیسی سے کھلے طور پر اردو کے اخراج کا یہ تنازعہ تھما بھی نہیں تھا کہ اسی درمیان گورنمنٹ نے پارلیامنٹ میں جموں کشمیرآفیشیل لینگویجز بل-۲۰۲۰ پیش کردیا،جس کی رو سے ریاست جموں و کشمیر میں اردو اپنا مقام کھونے کی کگار پر ہے.

اس بے چینی کا احساس اس حقیقت کے ادراک سے مزید گہراجاتا ہے کہ ۲۰١١ کی مردم شماری کے مطابق اردو،١۹۸١ سے مسلسل مادری زبان کی حیثیت سے زوال پذیر ہے, ١۹۸١(٥.۲٥),١۹۹١ (٥.١۸) ۲۰۰١(٥.۰١)اور ۲۰١١میں (۴.١۹).اس کے برعکس آٹھویں شیڈول کی دوسری زبانیں،جنھیں پورے طور پر علاقائی اور ریاستی پشت پناہی حاصل ہے،مسلسل ترقی کررہی ہیں.

چوں کہ ملک کے اندر اور باہر اردو بولنے اورسمجھنے والوں کا بڑا حلقہ موجود ہے،اس لیے حکومت ہند کو اردو زبان کے احیا اور بقا کے مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنا چاہیے.

 

مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی,علی گڑھ کے شعبۂ سیاسیات میں استاد ہیں

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.