بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

اقلیتی تعلیمی ایشوز پر قومی تعلیمی پالیسی 2020 خاموش: فادر سنّی جیکب

نئی دہلی: فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس آف اندیا کی جانب سے ’اقلیتی تعلیمی اداروں پر نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے اثرات‘ کے موضوع پر آج ایک ویبینار منعقد کیا گیاجس میں مختلف دانشوروں نے شرکت کی اور آئین کے آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کیحیثیت پر تشویش کا اظہا رکیا۔کیونکہ نئی پالیسی کا فائنل ڈرافٹ اس ایشو پر بالکل اسی طرح خاموش ہے جس طرح مدارس اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کے ایشو پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ جبکہ یہ ایک ایسی پالیسی ہے جس سے اقلیتی طبقے کے علاو ہ شیڈولڈکاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کو بھی فائدہ ملنا چاہئے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین جناب نصرت علی نے کہا کہ نئی پالیسی میں ملک بھر میں تعلیم کے لئے مرکزی اتھارٹی کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن آرٹیکل 30 کے تعلق سے مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے،جبکہ یہ اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔اس سے نہ صرف ان کی تعلیم میں مدد ملتی ہے بلکہ انہیں اپنی زبان و ثقافت کو فروغ دینے میں بھی تعاون ملتا ہے۔ اس پالیسی میں چھوٹے اسکولوں کو ضم کرنے کی طرف توجہ مرکوز کراتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اقلیتی اسکولوں کے بارے میںیہ بالکل صاف نہیں کیا گیا ہے کہ جبکہ بہت سے اسکول اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں اور یہ چھوٹے اسکول ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام امور کی توضیح ہونی چاہئے۔ نئی پالیسی میں مدارس کا ذکر نہ ہونے او رریزرویشن کے بارے میں کچھ بھی نہ کہے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طبقہ کی بڑی تعداد کو تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے تحت شامل کیا گیا ہے لیکن حالیہ نئی پالیسی میں اس کی کچھ بھی توضیح نہیں ہے کہ مدارس اور ریزرویشن کے تعلق سے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی۔اسیطرح ملک میں دنیا کی100 یونیورسٹیوں کو یہاں کیمپس کی اجازت دی گئی ہے مگر ان یونیورسٹیوں میں بھی ریزویشن پر بالکل خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔ اس بات کو درجنوں تعلیمی ادارے چلانے والے مہاراشٹر میں کاسموپولیٹن ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر پی اے انامدار نے بھی محسوس کیا کہ آرٹیکل 30 کے تحت آنے والے تعلیمی اداروں سے اس نئی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حکومت ہر ایک کلو میٹر کے دائرے میں کم سے کم ایک سرکاری اسکول قائم کرے تاکہ سب کے لئے تعلیم کا ہدف حاصل ہوسکے۔ انہوں نے طلباء کو انگریزیاور کمپیوٹر میں ماہر بنانے کی بھی بات کہی، کیونکہ موجودہ دور میں تعلیم کاتصور روایتی طریقے سے ہٹ کر ڈیجیٹل نظام میں تبدیل ہوتا جارہاہے۔ اس موقع پر فادر سنی جیکب نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی پالیسی میں ہندوستان کی تعلیم میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی حصہ داری کو نظر کردیا گیاہے اور ساتھ ہی آزادی کے بعد کے دور میں ہونے والی تعلیم میں شاندار ترقی کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔البتہ انہوں نے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی میں تنوع، مساوات، شمولیت، ٹکنالوجی کے استعمال، کمیونیٹی کی شرکت اور جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیت جیسے عناصر کو متعارف کروانے کی پالیسی کی تعریف کی۔ ڈاکٹر نرمل جین پرنسپل برائے ہیرا لال جین سینئر سیکنڈری اسکول نے کہاکہ 62 صفحے کی اس نئی تعلیمی پالیسی میں ہندوستان کو علمی سپر پاور بانے کی بات کہی گئی ہے مگر ایک بار بھی مسلم مدرسوں کا ذکر نہیں کیا گیا،یہ اقلیت کے ساتھ تفریق کی کھلی مثال ہے۔ ویبنار میں دہلی مائنارٹی کمیشن کے سابق چیئرمین کمال فاروقی،دہلییونیورسٹی کے ریٹائر ایکزام کنٹرولر ڈی ایس جگی اور سابق ڈی ایم سی ممبر ہرویندر کور نے شرکت کی۔

وطن سماچار ڈیسک

اقلیتی تعلیمی ایشوز پر قومی تعلیمی پالیسی 2020 خاموش: فادر سنّی جیکب :ملک کے سرکردہ شخصیات کا اظہار تشویش

                نئی دہلی:   فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس آف اندیا کی جانب سے ’اقلیتی تعلیمی اداروں پر نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے اثرات‘ کے موضوع پر آج ایک ویبینار منعقد کیا گیاجس میں مختلف دانشوروں نے شرکت کی اور آئین کے آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کیحیثیت پر تشویش کا اظہا رکیا۔کیونکہ نئی پالیسی کا فائنل ڈرافٹ اس ایشو پر بالکل اسی طرح خاموش ہے جس طرح مدارس اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کے ایشو پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ جبکہ یہ ایک ایسی پالیسی ہے جس سے اقلیتی طبقے کے علاو ہ شیڈولڈکاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کو بھی فائدہ ملنا چاہئے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین جناب نصرت علی نے کہا کہ نئی پالیسی میں ملک بھر میں تعلیم کے لئے مرکزی اتھارٹی کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن آرٹیکل 30 کے تعلق سے مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے،جبکہ یہ اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔اس سے نہ صرف ان کی تعلیم میں مدد ملتی ہے بلکہ انہیں اپنی زبان و ثقافت کو فروغ  دینے میں بھی تعاون ملتا ہے۔ اس پالیسی میں چھوٹے اسکولوں کو ضم کرنے کی طرف توجہ مرکوز کراتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اقلیتی اسکولوں کے بارے میںیہ بالکل صاف نہیں کیا گیا ہے کہ جبکہ بہت سے اسکول اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں اور یہ چھوٹے اسکول ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام امور کی توضیح ہونی چاہئے۔ نئی پالیسی میں مدارس کا ذکر نہ ہونے او رریزرویشن کے بارے میں کچھ بھی نہ کہے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طبقہ کی بڑی تعداد کو تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے تحت شامل کیا گیا ہے لیکن حالیہ نئی پالیسی میں اس کی کچھ بھی توضیح نہیں ہے کہ مدارس اور ریزرویشن کے تعلق سے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی۔اسیطرح ملک میں دنیا کی100 یونیورسٹیوں کو یہاں کیمپس کی اجازت دی گئی ہے مگر ان یونیورسٹیوں میں بھی ریزویشن پر بالکل خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔ اس بات کو درجنوں تعلیمی ادارے چلانے والے مہاراشٹر میں کاسموپولیٹن ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر پی اے انامدار نے بھی محسوس کیا کہ آرٹیکل 30 کے تحت آنے والے تعلیمی اداروں سے اس نئی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حکومت ہر ایک کلو میٹر کے دائرے میں کم سے کم ایک سرکاری اسکول قائم کرے تاکہ سب کے لئے تعلیم کا ہدف حاصل ہوسکے۔ انہوں نے طلباء کو انگریزیاور کمپیوٹر میں ماہر بنانے کی بھی بات کہی، کیونکہ موجودہ دور میں تعلیم کاتصور روایتی طریقے سے ہٹ کر ڈیجیٹل نظام میں تبدیل ہوتا جارہاہے۔ اس موقع پر فادر سنی جیکب نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی پالیسی میں ہندوستان کی تعلیم میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی حصہ داری کو نظر کردیا گیاہے اور ساتھ ہی آزادی کے بعد کے دور میں ہونے والی تعلیم میں شاندار ترقی کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔البتہ انہوں  نے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی میں تنوع، مساوات، شمولیت، ٹکنالوجی کے استعمال، کمیونیٹی کی شرکت اور جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیت جیسے عناصر کو متعارف کروانے کی پالیسی کی تعریف کی۔ ڈاکٹر نرمل جین پرنسپل برائے ہیرا لال جین سینئر سیکنڈری اسکول نے کہاکہ 62 صفحے کی اس نئی تعلیمی پالیسی میں ہندوستان کو علمی سپر پاور بانے کی بات کہی گئی ہے مگر ایک بار بھی مسلم مدرسوں کا ذکر نہیں کیا گیا،یہ اقلیت کے ساتھ تفریق کی کھلی مثال ہے۔ ویبنار میں دہلی مائنارٹی کمیشن کے سابق چیئرمین کمال فاروقی،دہلییونیورسٹی کے ریٹائر ایکزام کنٹرولر ڈی ایس جگی اور سابق ڈی ایم سی ممبر ہرویندر کور نے شرکت کی۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.