Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

آخر اپنے اصل محسن کو کیوں بھول گئی جمعیۃ علماء ہند ؟

بہتر ہوگا کہ آر ایس ایس پر الزام لگانے سے پہلے جو مسلم سربراہان تاریخ کیساتھ جانے انجانے میں کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں وہ تاریخ سے سیکھ لیں اور غلطی کی تلافی کریں ،کیونکہ غلطی سے سیکھنے والے کو ہی دنیا عظیم گردانتی ہے۔مولانا محمود مدنی ان لوگوں میں شامل ہیں جو غلطی کے اعتراف کے لئے جانے جاتے ہیں اور حق آنے کے بعد ا سے فوری طور پر قبول کرلیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مولانا عظیم ترین بین الاقوامی مسلم دانشوروں میں شامل ہیں ۔

وطن سماچار ڈیسک

محمد احمد 

ملک کی سب سے قدیم ترین جماعتوں میں سے ایک اہم جماعت جمعیۃ علماء ہند اپنے صد سالہ جشن کا اہتمام کر رہی ہے جس کا آغاز ہوچکا ہے۔ یقیناًکسی بھی تنظیم کے لئے سو سال کا سفر انتہائی اہم ہوتا ہے ۔اگر اس تنظیم نے اپنے ملک کی آزادی کے لئے اہم ترین قربانیاں دی ہوں اور تاریخ کی کتابوں میں یہ بات درج ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کی قربانیاں اگر کانگریس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہیں ، ایسے میں اس کا صد سالہ جشن اہم ترین ہوجاتا ہے۔بلاشبہ جمعیۃ علماء ہند کی قربانیاں ملک کی آزادی کیلئے اہم ترین ہیں اور اسی جماعت نے دو قومی نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ملک کی تشکیل مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ قوموں کی بنیاد پر ہونی چاہئے اور ملک کے پہلے وزیرتعلیم مولانا آزاد بھی اسی جماعت سے جڑے ہوئے تھے۔ 
وطن سماچار کو ملی اطلاع کے مطابق جمعیۃ علماء ہند نے اپنے صدسالہ جشن میں جن اکابرین کا کو شامل کیا ہے اس میں کچھ تو صف اول قائدین ہیں لیکن کچھ بعد کے علماء بھی شامل ہیں جو کہ بے حد اہم ہیں ، لیکن اس صد سالہ جشن پر اس وقت سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جب تاریخ کے صفحات کھنگھالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جمعیۃ علماء ہندنے اپنے سب سے اہم ترین محسن اور بانی کو ہی اس جشن سے غائب کررکھا ہے۔اور اگر کسی تنظیم کا اہم ترین بانی اور محسن ہی اس کے جشن سے غائب ہو تو سوال کھڑے ہونا لازمی ہے ۔ 
جمعیۃ علماء ہند کے ہفت روزہ شمارے’الجمعیۃ ‘کے ایک خصوصی شمارے کی اشاعت 27 اکتوبر1995کو ہوئی جس کا جلد نمبر 8اور شمارہ نمبر43 ہے ۔ اس شمارے میں ایک باب قائم کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے ’’تاسیس جمعیت علمائے ہند ‘‘ اس میں لکھا ہوا ہے کہ’ نومبر1919کی آخری تاریخوں میں خلافت کانفرنس کے جلسے کی تقریب سے تمام اقطار ہند کے علماء کی ایک معتمد بہ جماعت دہلی میں جمع ہو گئی تھی۔ خلافت کانفرنس کے اجلاس سے فارغ ہونے کے بعد تمام علمائے موجودین نے جلسہ منعقد کیا جس میں صرف حضرات علماء ہی شریک ہوئے‘۔ اس کے بعد جو پہلا نام آتا ہے وہ نام مولانا ابو الوفا ء ثناء اللہ امرتسری صاحب کا ہے ۔
تحریر کچھ کیوں ہے ’مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کی تحریک اور مولانا منیر الزماں صاحب و دیگر حاضرین کی تائید سے جناب فاضل علماء علامہ حضرت مولانا مولوی محمد عبدالباری صاحب اس جلسے کے صدر قرار پائے اور مولانا کی اجازت سے حسب ذیل کارروائی شروع ہوئی ‘۔
jamiat.JPG
اس کے بعد اس مضمون کا کچھ بقیہ صفحہ نمبر 86 پر ہے جہاں یہ بات درج ہے کہ:
’مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب نے تحریک کی کہ جمعیۃ علماء کے لئے بالفعل کوئی عارضی صدر اور عارضی ناظم مقرر کر لیا جائے تاکہ امور ضروریہ کے انصرام کی ایک آسان سبیل میسر ہوجائے اور صدارت کے لئے مولانا مولوی محمد کفایت اللہ صاحب کا نام اور نظامت کے لئے مولانا حافظ احمد سعید کا نام پیش کرتا ہوں ‘۔
madni_J.JPG
اس تناظر میں اگر کوئی ایک فرد جمعیت علماء کا بانی نظر آتا ہے تو ایک اناڑی بھی یہ کہہ دے گا کہ وہ مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری صاحب ہیں ، حالانکہ جمعیۃ علماء کے بنانے میں مولانا صاحب کے ساتھ ساتھ چند اور اہم ترین علماء شامل تھے جس میں فرنگی محلی کا نام بھی قابل ذکر ہے جسے جمعیۃ نے اس جشن میں شامل کیا ہوا ہے ۔تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ دہلی کے پنچکوئیاں روڈ پر واقع خانقاہ رسول نما میں جو میٹنگ ہوئی تھی اس میں بھی مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری صاحب پیش پیش تھے اور امرتسر میں انہوں نے ہی اس وقت کے پر آشوب دور میں اجلاس کے لیے جمعیۃ کے ذمہ داروں کو مدعو کیا تھا لیکن آج جمعیۃ اپنے صدسالہ جشن میں اپنے اس عظیم ترین محسن کو بھول گئی جس سے جمعیۃ کے پورے اجلاس پر ہی سوال کھڑا ہوجاتا ہے ۔ لوگ اس موقع پر سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا مولانا کو اس لئے فراموش کر دیا گیا کہ ان کا تعلق ایک خاص مسلک سے تھا جبکہ موجودہ جمعیۃ ایک مخصوص مسلک کے لوگوں کی نمائندہ جماعت نظر آتی ہے اور اس کی وسعت کو تنگ نظری میں تبدیل کر دیا گیاہے جو کہ اس کی روح کے برعکس ہے۔
تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ جمعیۃ کو بنانے میں بلاتفریق تمام مسالک کے علماء شریک ہوئے تھے۔ ایسے میں جمعیۃ کے موجودہ اہم ترین سربراہ مولانا محمود اسعد مدنی صاحب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس عظیم ترین غلطی کی فوری طور پر تلافی کریں اور جمعیۃجو اپنے اس عظیم ترین محسن کو بھلا چکی ہے جس کے نام سے شاید ہی جمعیۃ میں کوئی شعبہ یا ہال قائم ہو اس کی تلافی کریں ۔
بہتر ہوگا کہ آر ایس ایس پر الزام لگانے سے پہلے جو مسلم سربراہان تاریخ کیساتھ جانے انجانے میں کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں وہ تاریخ سے سیکھ لیں اور غلطی کی تلافی کریں ،کیونکہ غلطی سے سیکھنے والے کو ہی دنیا عظیم گردانتی ہے۔مولانا محمود مدنی ان لوگوں میں شامل ہیں جو غلطی کے اعتراف کے لئے جانے جاتے ہیں اور حق آنے کے بعد ا سے فوری طور پر قبول کرلیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مولانا عظیم ترین بین الاقوامی مسلم دانشوروں میں شامل ہیں ۔
(مضمون نگار وطن سماچار کے ایڈیٹر ہیں )
رابطہ نمبر:09711337827
EmailID:watansamachar@gmail.com

You May Also Like

Notify me when new comments are added.