بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

جہاد: غلط فہمیوں کے ازالہ کا کیا ہے منتر

عصر حاضر میں ’’جہاد‘‘ کی اصطلاح انتہا پسندی کے ساتھ وابستہ ہوچکی ہے اور خاص طور پر اسے مسلمانوں سے جوڑدیاگیا ہے۔ علمی لیٹریچر اور میڈیا نے اپنے دین پر قائم ایک مسلمان کے کسی بھی فعل کو پْرتشدد ’’ جہاد ‘‘ کے نام سے موسوم کردیا ہے۔اس طرح اکثرایسا ہونے لگا ہے کہ مسلمان ، جہاد اور دہشت گردی کو مترادف مترادف سمجھاجانے لگا ہے۔اس بات کو عام کرنے کا عمل اتنا زیادہ ہوا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی بھی طرح کی کارروائی کرتا ہے یا کسی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے یا اپنے عقیدے کا دفاع کرتا ہے تو اسے جہاد کا نام دید یا جاتاہے،تاہم ، ’جہاد‘ کامعنی اور تشریح مختلف ہے جو فرد کی ذاتی تفہیم پر منحصر ہوتی ہے۔

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

جہاد: غلط فہمیوں کے ازالہ کا کیا ہے منتر

 

مکرمی

عصر حاضر میں ’’جہاد‘‘ کی اصطلاح انتہا پسندی کے ساتھ وابستہ ہوچکی ہے اور خاص طور پر اسے مسلمانوں سے جوڑدیاگیا ہے۔ علمی لیٹریچر اور میڈیا نے اپنے دین پر قائم ایک مسلمان کے کسی بھی فعل کو پْرتشدد ’’ جہاد ‘‘ کے نام سے موسوم کردیا ہے۔اس طرح اکثرایسا ہونے لگا ہے کہ مسلمان ، جہاد اور دہشت گردی کو مترادف مترادف سمجھاجانے لگا ہے۔اس بات کو عام کرنے کا عمل اتنا زیادہ ہوا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی بھی طرح کی کارروائی کرتا ہے یا کسی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے یا اپنے عقیدے کا دفاع کرتا ہے تو اسے جہاد کا نام دید یا جاتاہے،تاہم ، ’جہاد‘ کامعنی اور تشریح مختلف ہے جو فرد کی ذاتی تفہیم پر منحصر ہوتی ہے۔

 

 جہاد کوئی بھی عمل (عدم تشدد) ہوسکتا ہے جس سے یا تو فرد کے نفس یا معاشرے کی مجموعی طور پر اصلاح مقصود ہوتی ہے۔’’مقدس جنگ‘‘ کی اصطلاح کے غلط مغربی ترجمہ اور تشریح کے برعکس جہاد کا مطلب ’’جدوجہد‘‘ ’’کوشش‘‘ یا ناانصافی کے خاتمے کیلئے ’’مکمل کوشش‘‘ کرنا ہے۔

 

جہاد کی قرآنی تشریح حالات اور تجربات کے مطابق مختلف ہے۔مثال کے طور پراسلام کے ابتدائی مرحلہ میں (مکہ معظمہ .610-620 عیسوی) جہاد ’’صبر‘‘ کے معنی میں لیا جاتا تھا جوغیرمسلموں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے رواداری  اور خود پر قابو رکھنے کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد کے ادوار (مدینہ دور (622-632)) میںجہاد میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا جب پیغمبر اکرمؐ کو قرآنی وحی میں بتایا گیا کہ غیر مسلم کے ذریعہ کی جانے والی جارحیت کے خلاف دفاع میںجو لڑائی لڑی جائے وہ ’جہاد‘ ہے۔ اسلامی اسکالرز نے جہاد کی تفسیر مختلف طریقوں سے کی ہے۔ کچھ لوگوں نے اسلامی حکمرانی کے قیام کیلئے غیر مسلموں کے خلاف دوش بدوش لڑائی کا معنی نکاالا ہے۔ کچھ نے جہاد کی تشریح کرتے ہوئے معاشرتی ، سیاسی اور معاشی شعبوں میں مختلف مسائل سے نپٹنے کی جدوجہد اور کوششوں پر زور دیا ہے۔

 

 تاہم جہاد اصطلاح کی مغربی تشریحات نے اس کے اصل جوہر اور اہمیت کو مختلف سمت میں گھمادیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہاد کا مطلب محض فوجیوں کی دوش بدوش لڑائی اور اسلام کے غلبے کاقیام نہیں اور نہ ہی اس میں فطری دشمنی ہے۔

 

 

جہاد کسی بھی طرح عام شہریوں کے خلاف تشدد کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی جنگ کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلامی سیاست میںجنگ کیلئے واضح نظیریں ،اصول اور رہنما اصول موجود ہیں۔ درحقیقت اسلامی فکر میں حملوں اور دھمکیوں کے تناظر میں جہاد کو ایک دفاعی حکمت عملی قرار دی گئی ہے۔جہاد کو لڑائی کیلئے اس وقت استعمال کیاگیا جب ہرطرف سے ہراساں کیاگیا، ظلم وجور کو مسلمانوں کیخلاف جواز پیدا کیا گیا اور ان کے عبادت کے بنیادی حق کو چھیننے کی کوشش کی گئی۔2001 کے بعد کی دنیا میں غیر مسلموں میں یہ غلط فہمی پھیلتی جارہی ہے کہ اسلام مسلمانوں کو جب بھی موقع ملے غیرمسلموںکوقتل کرنے اور انھیں ہراساں کرنے کا حکم دیتا ہے۔

 

جزوی طور پر اس غلط فہمی کو میڈیا نیٹ ورکس اور اسلام دشمن پالیسی کے متعدد حلقوں نے آگے بڑھا کر اسلامو فوبیا کی مہم سے دوچار کیا ہے۔ انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں نے اپنے سیاسی و عسکری مقاصد اور توسیع پسندی کیلئے ’جہاد‘ کو  اسلام سے جوڑ کر اپنا الو سیدھا کیا ہے۔

 

 نائن الیون کا سانحہ، عراق اور شام میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی نے اس یقین کو پختہ کیا کہ انتہا پسندی اور تشدد اسلام میں موروثی ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ اسلام کے نام پر تشدد پسند تنظیموں کے ذریعہ مجاہدین کی بھرتیوں نے جہاد کی اصطلاح کو مزید رسوا کردیا۔ انتہا پسند تنظیمیں اپنے افعال کے جواز کیلئے ذرائع ڈھونڈتی ہیں اور خود کو اسلامی عقائد کے محافظ ہونے کا دعوی کرتی ہیں۔ان تنظیموں نے اپنی تخریب کاریوں کے ذریعہ اسلامی دنیاکے بیشتر اور خاص طو رپر عرب ممالک کو غیر مستحکم کررکھا ہے۔ ان تنظیموں نے جہاد جیسے مذہبی تصور کے اصل جوہر کو نہ صرف نقصان پہنچایا بلکہ اسے مسخ بھی کیا ہے۔ اس حقیقت سے راہ فرار کی کوئی سے کوئی گنجائش نہیں کہ نائن الیون سے آج تک عام مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر غلط فہمیوں کی وجہ سے پوری دنیا کے سماجوں میں شناختی بحران اور ایک مسلسل بیگانگی کا سامنا ہے۔

 

اسلام نے اخوت اور بھائی چارہ کا حکم دیا ہے اور اس کیلئے بہترین نمونہ کوئی او رنہیں بلکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے، جس پر عمل کرکے پوری دنیا کے دلوں میں جگہ اور گرویدہ بنایا جاسکتا ہے۔

 

 

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.