Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

بابری مسجد ملکیت مقدمہ: صرف سیاحوں کے سفرناموں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا

بابری مسجد ملکیت مقدمہ صرف سیاحوں کے سفرناموں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹرراجیودھون کی دلیل، بحث کے دوران رام للا کے وکیل اور ڈاکٹرراجیودھون میں گرماگرم بحث

Administrators

بابری مسجد ملکیت مقدمہ  

صرف سیاحوں کے سفرناموں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا

جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹرراجیودھون کی دلیل، بحث کے دوران رام للا کے وکیل اور ڈاکٹرراجیودھون میں گرماگرم بحث

 

نئی دہلی 1, اکتوبر2019 :بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت کا آج 35واں دن تھا جس کے دوران آج ایک بارپھر جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون اور رام للا وراجمان کے وکیل پراسرن کے درمیان نوک جھونک ہوگئی جب ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایاکہ ایڈوکیٹ پراسرن ان کی بحث کا جواب دینے کے بجائے عدالت کے سامنے نئی بحث کررہے ہیں نیز عدالت میں جو مثالیں دی جارہی ہیں ان کا اس مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔رام للاکے وکیل پراسرن نے کل کی اپنی نامکمل بحث کا آغاز کرتے ہوئے آئینی بینچ کو مورتی کی قانونی شخصیت یعنی کہ Juristic Personalityپر مزید بتایا کہ بھگوان کے کئی ایک روپ ہوتے ہیں اور کئی ایک منادر بغیر مورتیوں کے ہی ہیں کیونکہ عوام کا اعتقاد ہے کہ اس جگہ بھگوان ہیں، اس پر جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ کیا جیوتش (علم نجوم)کی کتابوں میں بھی رام جنم کی جگہ اور وقت کا کوئی ذکر ہے؟ اس پرجمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹرراجیودھون نے کہاکہ کو ن ساجیوتش؟وہ جو سورج سے یا وہ جوچاندکی چال سے ماناجاتاہے؟کیونکہ کچھ نجومی سورج سے تو کچھ چاندسے اور کچھ پیدائش کی تاریخ سے جیوتش کا حساب لگاتے ہیں سب کا الگ الگ طریقہ ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ میراوقت ابھی راہواورکیتوکے درمیان پھنساہوا ہے جومجھے مشکل میں ڈال رہا ہے ویسے پیدائش کے حساب سے میں فی الحال شنی کے اثرمیں ہوں اس پر جسٹس بوبڑے نے کہا کہ ہم تو اس مقصدسے پوچھ رہے تھے کہ کیا جیوتش کی کتابوں میں بھی کوئی حقیقت موجودہے اس پر کے پراسرن نے کہا کہ جیت کی نومی کو دوپہر میں ابھیجیت نچھترمیں وشنوکے ساتویں اوتارکی شکل میں رام کا جنم ہوا، پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندرچوڑ، جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو بتایا کہ ماضی میں صرف اس مقام کو قانونی حیثیت دی گئی تھی جہاں عوام کا یقین تھا کہ بھگوان ہیں۔انہوں نے ماضی کے فیصلوں judgment in Kamaraju Venkata Krishna Rao v. Sub Collector and Thayarammal v. Kanakamma. کی مثالیں بھی دیں، جس میں مخصوص مقام کو قانونی شخصیت کی حیثیت دی گئی تھی۔پرسارنن کی اس بحث پر جسٹس بوبڑے نے ان سے پوچھا کہ آیا اس کا اثر ملک کے تمام مندروں پر پڑے گا جس پر انہوں نے کہا کہ یہ عدالت پر منحصر ہے وہ کیا فیصلہ دیتی ہے۔جسٹس بوبڑے نے پرسارنن کو کہا کہ انہیں بہت محتاط رہ کر بحث کرنی چاہئے کیونکہ ان کی بحث کے مطابق زمین کو بھی قانونی حیثیت ملنا چاہئے کیو نکہ عوام کا عقیدہ ہے کہ بھگوان کا جنم وہاں ہوا تھا۔سینئر ایڈوکیٹ کے پرسارنن نے کہاکہ ایک ہی مقام پر دو قانونی شخصیت یعنی کہ Juristic Personality   ہوسکتے ہیں جیسے ایک زمین اور دوسرا بھگوان کی مورتی، عدالت نے اس تعلق سے Shiromani Gurdwara Prabandhak Committee v. Som Nath Dass مقدمہ میں مثبت فیصلہ دیا ہے جس کا فائدہ انہیں اس مقدمہ میں ملنا چاہئے۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ سوئم بھو(خودبخودظاہر ہونے والا) کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ مورتی کو پرکٹ ہونا چاہئے بلکہ وہ کسی اور بھی طریقے سے پرکٹ ہوسکتی ہے، اس کی صورت کچھ بھی ہوسکتی ہے نیزاس کا حرکت پذیر یعنی کہMoveable ہونا ضروری نہیں ہے۔مورتی کی قانونی حیثیت پر بحث کے بعد ایڈوکیٹ کے پراسرن نے Res Judicata یعنی کہ ایک ہی مقصد کے تحت دو مرتبہ سوٹ داخل کرنے پربحث کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں ریس جوڈیکاٹا کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ دونوں سوٹ میں فرق ہے۔ایڈوکیٹ پراسرن نے جب عدالت میں دوبارہ نئی بحث چھیڑنے کی کوشش کی تو ڈاکٹر راجیو دھو ن نے انہیں درمیان میں ٹوک دیا جس پر وہ غصہ ہوگئے اور عدالت سے کہا کہ وہ ڈاکٹر دھون کو متنبہ کرے کہ وہ انہیں سکون سے بحث کرنے دیں، جس پر ڈاکٹردھون نے کہا کہ جب وہ بحث کررہے تھے تو فریق مخالف بھی انہیں بیچ بیچ میں ٹوک رہے تھے جس پر چیف جسٹس نے دونوں وکلاء کو کہا کہ وہ  ایک دوسرے کااحترام کریں اور ایک دوسرے کی بحث میں خلل نہ ڈالیں۔ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ صرف سیاحوں کے سفرناموں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگرگواہوں کی گواہیوں کو مد نظررکھنا چاہئے۔اسی درمیان جسٹس بوبڑے نے پراسرن سے پوچھا کہ جنم بھومی اور جنم استھان میں کیا فرق ہے جس پر انہوں نے کہا کہ جنم بھومی پورے بھارت کو کہہ سکتے ہیں جبکہ جنم استھان اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں رام کا جنم ہوا تھا۔ایڈوکیٹ کے پراسرن کی بحث کے بعد سی ایس ویدیا ناتھن نے بحث کا آغاز کیا اور عدالت کو بتایا کہ ایک بار جب یہ واضح ہوچکا ہے کہ رام کا جنم کہا ں ہوا تھا اس کے بعد اس جگہ پر کسی مورتی کی ضرورت نہیں ہے نیز ہائی کورٹ کے فیصلہ پر مخصوص تنقید کرناغیر ضروری ہے جس پر ڈاکٹر راجیو دھون نے کہاکہ انہوں نے جو بھی بحث کی وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں کی ہے آج عدالت الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کررہی ہے۔جسٹس چندرچوڑ نے ویدیا ناتھن سے دریافت کیا کہ اگر کسی جگہ پرDedication نہیں ہے تو کیا ہوگا جس پر ودیا ناتھن نے کہا کہ اس جگہ پر عوام کا عقیدہ ہے، اتنا بس کافی ہے کسی جگہ کو قانونی حیثیت ماننے کے لیئے اور عوام کا یہ ماننا کہ رام کا جنم مخصوص جگہ پر ہوا تھادیگر بحث پر سبقت لے جا ئے گا۔ایڈوکیٹ ودیاناتھن نے عدالت کو مزید بتایا کہ قانونی شخصیت کاوجود ویدیک پریڈ میں نہیں تھابلکہ گذشتہ دو صد ی کے دوران یہ وقوع پذیر ہوالہذا عدالت کو فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے قبل عدالت نے ندی اور دیگر چیزوں کو قانونی شخصیت قبول کیا ہے اور انہیں حقوق دیئے گئے تھے۔ویدا ناتھن نے کہا کہ کسی بھی مسلم گواہ کی جانب سے یہ بیان نہیں آیا ہے کہ ہے کہ مسجد کے نیچے عید گاہ تھی جس پر ڈاکٹر راجیو د دھون بھڑک اٹھے اورکہا کہ کھدائی سے قبل یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ مسجد کے نیچے کیا تھا؟دھون کی مداخلت پر ویادناتھن ناراض ہوگئے اور عدالت سے شکایت کی کہ دھون انہیں بحث نہیں کرنے دے رہے ہیں۔


ویدیاناتھن نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر الزام لگانا غیر واجبی ہے جس پر عدالت میں موجود ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے کہا کہ انہوں نے دوران بحث کسی پر الزام عائد نہیں کیا بلکہ رپورٹ میں موجود خامیوں کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی۔(واضح رہے کہ سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر بحث کی تھی)ایڈوکیٹ ویدیاناتھن نے عدالت کی توجہ محکمہ آثار قدیمہ کیجانب سے کھدائی کی جانے والی دیوار کی جانب دلانے کی کوشش کی جس پر دھو ن نے کہاکہ اس دیوار کی کھدائی کی ہی نہیں گئی تھی جس پر ویدیا ناتھن نے کہا کہ انہوں نے دوران بحث عدالت کو یہ کیوں نہیں بتایا تھا اب جب وہ عدالت کی توجہ دلانے کی کوشش کررہے ہیں انہیں روکا جارہا ہے جس پر دھون نے کہا کہ بحث تو انہوں نے شروع کی تھی لہذا انہیں عدالت کو پہلے بتانا چاہئے تھا۔ویدیاناتھن نے یہ بھی کہا کہ کیونکہ بھگوان رام وہاں پیداہوئے تھے اس لئے وہ جگہ اپنے آپ میں مقدس اور کافی ہے،آج فریق مخالف کی بحث نامکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی کیونکہ کل عدالت کی تعطیل ہے۔دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قرۃالعین، ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیاودیگر موجود تھے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.