Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

جماعت اسلامی کا مودی سرکار اور نومنتخب اراکین پارلیمنٹ کو لے کر حسن ظن

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر جناب سید سعادت اللہ حسینی نے نو منتخب ارکان پارلیمان اورحکمرانوں سے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ ذات پات،مذہب اور طبقہ کی تفریقات سے اوپر اٹھ کر تمام ہندوستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں گے ا ور اپنی دستوری ذمہ داریوں کو سنجیدگی اور ایمانداری سے ادا کریں گے۔ انتخابی مہم کے دوران پیدا ہوئی تلخیوں اور تفریقات کے سلسلہ میں انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انتخابات کی تکمیل کے بعد اب ان باتوں کو فراموش کردیا جائے گا اور منتخب نمائندے احساس ذمہ داری کے ساتھ حکمرانی اور پارلیمانی رکنیت کے فرائض انجام دیں گے۔انہوں نے نئی حکومت کو یاد دلایا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے کمزور طبقات اور اقلیتوں میں تحفظ و سلامتی کے احساس کو تقویت دے اوریہ یقین دہانی کرائے کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں۔”اب جبکہ مسلسل دوسری بار حکمران جماعت نے زمام کار سنبھالی ہے، یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ذمہ دار جماعت کی حیثیت سے اپنی امیج بنانے کی فکر کرے جس پر ملک کے تمام طبقات خصوصاً کمزور اور محروم طبقات اور اقلیتیں بھی اعتماد کرسکیں۔“امیر جماعت نے ملک میں امن و امان کا ماحول پیدا کرنے اور عدل و انصاف کے قیام میں، جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

 

اپوزیشن کی جماعتوں اور قائدین سے اپنے بیان میں انہوں نے اپیل کی ہے کہ وہ سنجیدگی سے اپنا احتساب کریں۔”ملک کے حالات حزب اختلاف سے بھی زیادہ ذمہ دارانہ رویہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاسی قائدین اور جماعتوں کی جانب سے،ذاتی انا،مفاد پرستی اور اصولوں پر مصالحت کے رویوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حزاب اختلاف کے قائدین ان انتخابات سے سبق لیں گے اور ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے“۔

 

امیر جماعت نے ملک کے عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا رول ادا کریں۔ یہ عام شہریوں کی اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمرانوں کو ان کی غلطیوں پر بروقت متوجہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو، جمہوری ادارے اور جمہوری قدریں محفوظ رہیں اور تمام شہریوں اور ان کے تمام طبقات کو انصاف ملے۔

 

ملک کے مسلمانوں  سے انہوں نے کہا ہے کہ وہ اللہ پر اعتماد رکھیں۔ ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر تے رہیں۔ اور ملک کے مختلف طبقات سے قربت اور ان کے دلوں کو جیتنے کی کوششوں کی طرف متوجہ ہوں۔ ان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اسلام کے علم بردار ہیں۔ اسلام کا عملی نمونہ پیش کرنا اور اسلام کے پیغام کو عام کرنا، ان کی اصل ذمہ داری ہے۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.