مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

اسلام میں پریشر یا لالچ کے ذریعہ مذہبی تبدیلی ممنوع ہے

مذہبی تبدیلی تاریخی لحاظ سے ایک بہت بڑی بحث کا موضوع رہی ہے۔ خاص طور پر جب اسلام قبول کرنے کا تعلق ہو۔ مذہبی تبدیلی کی تاریخ مختلف ادوار میںمنقسم ہے۔ ولڈورینٹ جیسے مورخ نے اس بات کی وکالت کی ہے کہ اسلام طاقت اور تلوار کے ذریعہ پھولاپھلاہے، تاہم مارشل ہوڈسن جیسے مورخ نے اس قیاس کی مذمت کی ہے۔

گیسٹ کالم

اسلام میں پریشر یا لالچ کے ذریعہ مذہبی تبدیلی ممنوع ہے

 مکرمی!

مذہبی تبدیلی تاریخی لحاظ سے ایک بہت بڑی بحث کا موضوع رہی ہے۔ خاص طور پر جب اسلام قبول کرنے کا تعلق ہو۔ مذہبی تبدیلی کی تاریخ مختلف ادوار میںمنقسم ہے۔ ولڈورینٹ جیسے مورخ نے اس بات کی وکالت کی ہے کہ اسلام طاقت اور تلوار کے ذریعہ پھولاپھلاہے، تاہم مارشل ہوڈسن جیسے مورخ نے اس قیاس کی مذمت کی ہے۔

 

 

 

 

اس لئے کہا جاتا ہے کہ مذہبی تبدیلی کے بارے میں تاریخی طور پر واضح نہیں ہے کہ اسلام کی قبولیت کس طرح بڑھتی گئی اور تاحال لوگ اسلام قبول کررہے ہیں۔اکثریت کا خیال ہے کہ مذہبی تبادلوں کا ارتباط اسلام کے بعض آزاد اصولوں مثلاً اخوت اور ہمدردی ، نسلی امتیاز کی مذمت اورامن وامان کی برقراری کیلئے اس کی تاکید کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب تک اسلام کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک یہ رہی ہے کہ جہاں جہاں بھی اس نے اپنا راستہ بنایاہے ، اس نے مقامی ثقافتوں کو اپنے لئے ایک انوکھا مقام تراشتے ہوئے ملادیا ہے اور اسی دوران ثقافتی ترقی میں بھی اپنازودار حصہ ڈالا ہے۔ہندوستان اور انڈونیشیاء جیسے سرزمینوں میں تاجروں ، مسافروں اور صوفی سنتوں کے ذریعہ  اسلام داخل ہوا ۔ یہ کوئی ایسی مجبوری نہیں تھی جس نے ان علاقوں کے لوگوں کو اسلام کے قریب کردیا۔ عبادت گزاروں کے کردار ، دیانتداری ، ہمدردی اور گرم جوشی نے مقامی لوگوں کو اس مذہب کو سیکھنے اور اس کو اپنانے کی طرف راغب کیا۔ انڈونیشیا کے معاملے میں یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں نے اسلام کو صرف ایک عقیدہ کے نظام کے طور پر اپنایا لیکن اپنی قبائلی ثقافت اور روایات کو برقرار رکھا۔

 

ہندوستانی معاملے میں صوفیوں اور مغربی ایشیاء کے سوداگروں نے کبھی بھی عربی ثقافت مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے انہوں نے اپنے آپ کوہندوستانی بنا دیا اور اس کی جامع ثقافت کا حصہ بن گئے ، جس کی آج تک پرورش کی جارہی ہے۔ یہ تصوف اور بھگتی تحریک کا امتزاج تھا کہ اسلام نے برصغیر میں اپنا سفر شروع کیا۔

اس لئے اسلام کے مبلغوں نے نہ تو کسی پر دباؤ ڈالا اور نہ ہی کسی کوجبریہ اپنے عقیدے اور اعتقاد کو اپنانے کی ترغیب دی۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی تبدیلی کے سلسلے میں قرآن مجید کسی بھی طرح کے دباؤ اور جبر کی باقاعدہ مذمت کرتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن پاک کا فرمان ہے کہ’’ دین میں کوئی جبر نہیں،  بے شک سیدھا راستہ غلط راستے سے الگ ہو گیا ہے جو کوئی بھی طاغوت سے انکار کرتا ہے اور اللہ پر یقین رکھتا ہے ، تب اس نے انتہائی قابل اعتماد چیز کو پکڑ لیا جو کبھی نہیں ٹوٹ سکے گا‘‘۔

 

در حقیقت اسلامی ادب میں ، تبادلوں کی کوئی واضح وضاحت موجود نہیں ہے۔ پیغام رسانوں کو واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوسروں پر اپنا ایمان وعقیدہ نہ تھوپیں۔ کسی کو بھی ذاتی وجوہات اور فوائد کی بنا پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے  کہ جبری طور پربھی مذہبی تبدیل کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔اگر یہ عمل کسی بھی شکل میں جاری رہتا ہے تومسلم معاشرہ کیلئے لازمی ہوجاتاہے کہ وہ اجتماعی اقدامات کرے اور اس طرح کے عمل پر فوری قدغن لگائے اور ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

 

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.