بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

ڈاکٹر کفیل خان کےآگےیوگی حکومت کےمظالم ناکام

وطن سماچار ڈیسک

ڈاکٹر کفیل خان کےآگےیوگی حکومت کےمظالم ناکام

از۔محمدقمرانجم فیضی

 

 

الہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ منگل کے دن اپنے ایک اہم فیصلے میں ڈاکٹر کفیل خان کی فوری طور پر رہائی کاحکم نامہ جاری کیا۔گورکھپورشہر کے بی آرڈی میڈیکل کالج[باباراگھوداس ]کےسابق ترجمان اور چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹرکفیل خان کو سی اے اے،این آرسی اوراین پی آر،کی مخالفت کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 13؍دسمبر2019 کومبینہ طور پرمنافرت پھیلانے والے تقریر کرنےکے الزام میں یوپی حکومت کی یوگی پولیس نے گرفتارکیاتھا۔اب آلہ باد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووندماتھر اور جسٹس سومتردیال سنگھ کی بنچ نے ڈاکٹرکفیل خان کو رہاکرنے کاحکم دیا، 

مزید کورٹ نے  این ایس اے کے تحت ڈاکٹرکفیل خان کوحراست میں لینے اورحراست کی مدت بڑھائے جانے کوغیرقانونی قراردیا۔ جب کہ ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ  این ایس اے، کے تحت ڈاکٹر کفیل خان کو حراست میں لینا اور حراست کی مدت بڑھانا غیرقانونی ہے۔ہائی کورٹ کا تبصرہ یوپی حکومت کے منھ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ہائی کورٹ نے کہا کہ پوری تقریر کو پڑھنےپر پہلی نظر میں نفرت یا تشدد کو ہَوا دینےکی کوشش نہیں لگتی ہے اور اس میں علی گڑھ میں نقص امن کرنےکی دھمکی بھی نہیں لگتی ہےعدالت نے مزید کہا کہ ایسالگتاہے کہ ضلع مجسٹریٹ نے تقریر سے کچھ جملوں کا انتخابی طور پر مشاہدہ کیا اور اسی کا ذکر کیاتھا جو اس کی اصل منشاء کو نظر انداز کرتاہےذرائع سے یہ بھی خبر موصول ہوئی  کہ رہائی کا حکم نامہ جاری ہونے کے بعد بھی رات 2 بجے تک ڈاکٹرکفیل خان کو رہا کرنے میں آنا کانی کی گئی ۔علی گڑھ کے ڈی ایم رہائی خط لینے سے انکار کررہے تھے، جب کہ منگل کو اس معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ڈاکٹر کفیل کو فوری رہا کرنے کوکہا ہے۔ اب اس فیصلے کے بعد حزب اختلاف کے رہنماؤں کی طرف سے بھی ردعمل شروع ہوگئے ہیں، ساتھ ہی یوگی حکومت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی نے کہا کہ آج الہ آباد ہائی کورٹ نے این ایس اے کو ختم کرکے ڈاکٹرکفیل خان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ امیدہے کہ یوپی سرکار ڈاکٹر کفیل خان کو بغیر کسی تاخیر رہا کرے گی۔ ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کی کوششوں میں لگے تمام انصاف پسند لوگوں اور یوپی کانگریس کے کارکنوں کو مبارکباد۔عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے بھی ٹویٹ کرکے یوگی حکومت کوگھیراہے ۔ سنجے سنگھ نے لکھا کہ کفیل خان کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے سے یوگی حکومت کا غیر منصفانہ چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ غور سے پڑھو یوگی جی ، ہائی کورٹ نے کہاکہ کفیل خان کی تقریر قومی اتحاد اور سالمیت کی اپیل کرتی ہے اور یوگی جی نے کفیل کو غدار قرار دیا، یہ شرمناک ہےاور قابل مذموم بھی ۔یوپی کانگریس کی جانب سے ٹویٹ کرکے یہ لکھاگیا تھا کہ انصاف کے پیش نظر ڈاکٹر کفیل خان پر،این ایس اے، میں اضافہ غیر قانونی تھا۔ لیکن انصاف کو روزانہ کچلنے والی یوپی حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ آج انصاف کی جیت ہوئی ہے۔

واضح ہوکہ ڈاکٹر کفیل خان پچھلے کئی مہینوں سے جیل میں بندتھے، حال ہی میں ان کی حراستی مدت کو3 مہینوں کے لئےمزید بڑھا دیا گیا تھا۔اس وقت ڈاکٹرکفیل خان نےجیل سے وزیراعظم مودی کوخط لکھ کر رہا کرنے اور کورونا مریضوں کی خدمت فری میں کرنے کی مانگ کی تھی،انہوں نے سرکارکے لئے ایک روڈ میپ بھی بھیجاتھا، 

کون ڈاکٹر کفیل خان؟ ڈاکٹرکفیل خان ایک ایسا نام جو بےبسوں کے حق میں صداقت کی آوازبن کر پورے ملک میں چھاگیا، جس نے بحیثیت ڈاکٹر اپنے فرائض منصبی کو انجام دینے میں کبھی بھی غفلت نہیں کی۔کون ڈاکٹرکفیل خان۔ جو اپنے مذہب پر پابندی سے عمل پیرا ہے وہیں وہ اپنی ذمہ داری کو اداکرنے میں انتہائی حساس بھی ہے، جس نے کبھی بھی مریضوں میں مذہب، ذات پات، رنگ و نسل اور اونچ نیچ کی کبھی تمیزنہیں کیا، بلکہ ہمیشہ جس کامقصد اور محور مریض، مرض اور اس کا بہتر سے بہتر علاج ہی رہا ہے، گورکھپور شہر کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق ہونے کی بنیاد پر ڈاکٹر کفیل خان کی شہرت کا دائرہ شروعاتی دور میں بہت محدود رہا، 

لیکن دشمنوں کی مخالفت اور الزام تراشیوں نے ان کی شخصیت میں چار چاند لگادیئےاور انہیں بلندیوں پر پہنچادیا۔مگر ہرمرتبہ ان کی بے گناہی نے اتنا شور مچایا،اتنا شور مچایا کہ ہزاروں دل ان کے نام کے ساتھ دھڑکنے کے عادی ہوگئے۔ 

پہلی بارڈاکٹر کفیل خان کو اس لئےجیل بھیجا گیا

تھاکہ انھوں نے بطور ڈاکٹر اپنی جیب سے رقم خرچ کرکے بی آر ڈی میڈیکل کالج[بابا راگھو داس ]میں آکسیجن کا انتظام کیاتھا اور بیمار بچوں کی سرکاری اسپتال مییں جان بچائی، ان کا گناہ صرف اتنا تھا کہ اس وقت انھوں نے گورکھپور اسپتال میں چل رہے آکسیجن کی خرید وفروخت کے ریکیٹ کو منظر عام پر لا دیا، اس سے گورکھپور سے جیت کر جانے والے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خفت اٹھانی پڑی۔

لہذا اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیاناتھ کے حکم پر اسی سال 2ستمبر کو انہیں گرفتار کر لیا گیا، اور بحیثیت ملزم ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ یہ معاملہ ملک کے سبھی اہم چینلوں، سوشل میڈیا اور اہم اخبارات میں بھی تسلسل کے ساتھ شائع ہوتارہا، اور ہر ضمانت کے لیے پیش کردہ ان کی درخواست پر ریاستی حکومت نے سخت احتجاج کیا۔ بالآخر اپریل 2018ء میں وہ قید سے بری کردئےگئے، 

کیونکہ حکومت کے پاس انہیں مجرم قرار دینے کے

لئے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا، اس مرد مجاہد ڈاکٹرکفیل خان کے بارے میں مشہورقلم کار ظفرآغا لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر کفیل خان حق و انصاف کی جدوجہد کے علمبردار ہیں، کفیل خان یوگی حکومت کے جبروظلم کی علامت بھی ہیں۔ 

لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ  تمام جیل کے سفر کے دوران ڈاکٹر کفیل خان کا ظلم کے خلاف عزم واستقلال برقرار رہا۔وہ چاہتے تو ظلم وبربریت سے تنگ آکر یوگی کی کی تعریف کرکے اس کی چاپلوسی کرکے معاملات کو رفع دفع کر سکتے۔ لیکن اس بہادر اور نڈر ڈاکٹر نےجیل کی مشقت برداشت کر کے حکومت کے آگے جھکنےسے انکار کردیا، یقینا یہ ایک انتہائی حیرت انگیز بات ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر کفیل خان کوئی لیڈر نہیں تھے۔ ان کو کوئی چناؤ نہیں لڑنا تھاکہ ان کو بدنامی کا ڈر ہوتا۔ پھر بھی انھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا، اور ہر قسم کی صعوبتیں اٹھا کر قید وبند کی مشقت برداشت کی۔ڈاکٹر کفیل خان مسلم سماج میں اس نئی تبدیلی کی علامت ہیں۔ یہ سماج اس وقت جس قدر مظالم کا شکار ہے اس کے خلاف نہ صرف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے لئے قربانیاں دینے کی بھی ضرورت ہے۔ڈاکٹرکفیل خان نے جیل میں رہ کر جو قربانی دی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم سماج میں خوش آئند تبدیلی کے امکان نظر آرہے ہیں۔ مسلم سماج کو نعرے باز اور جذباتی قائدین ملت کی نہیں بلکہ قوم کی مشکلوں میں قربانی پیش کرکے اَٹل رہنے والے قائدین کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان مسلم سماج کے اسی لمبے سفر کے مرد مجاہد کا نام ہے کہ جس کے آگے یوگی کے مظالم ناکام ثابت ہوئے۔

 

مضمون نگار ۔روزنامہ شان سدھارتھ, سدھارتھ نگرکے صحافی ہیں

رابطہ نمبر۔6393021704

 

Email-qamaranjumfaizi@gmail.com

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.