مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

مسجد غریب نواز کی شہادت: وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے نام کھلا خط

محترم وزیراعظم صاحب ۔امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ہمیں نہیں معلو م کہ آپ تک یہ خط پہونچے گا ، لیکن امید پر دنیا قائم ہے ،اس لئے بھارت کا ایک باشندہ اور پیشے سے ایک صحافی ہونے کے ناطے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنا مناسب سمجھ رہا ہوں تاکہ آپ تک ان کروڑوں بھارتیوں کی آواز پہونچا دوں جو بھارت میں رہ کر یا بھارت سے دور ہوکر بھی بھارت کی ترقی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جو رہتے توعرب ، یورپ اور امریکا میں ہیں لیکن ان کا دل دھڑکتا بھارت کے لئے ۔ وزیراعظم صاحب بھارت کی سب سے عظیم اور طاقتور کرسی پر آپ فائز ہیں ۔ اگر دنیا کے کسی بھی کونے میں بھارت کا نام ہوگا تو یقیناً اس سےآپ کو خوشی میسر ہوگی اور ہونی بھی چاہئے، لیکن اس کے باوجودمیں یہ کہنے کی جرات کررہاہوں کہ اگر بھارت کی امیج کہیں دھومل ہوگی تو یقیناً اس سے آپ کی ان کوششوں کو دھچکا ضرور لگے گا جو آپ گذشتہ سات سالوں سے کررہے ہیں ۔

محمد احمد
فائل فوٹو

مسجد غریب نواز کی شہادت: وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے نام کھلا خط

محترم وزیراعظم صاحب ۔امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ہمیں نہیں معلو م کہ آپ تک یہ خط پہونچے گا ، لیکن امید پر دنیا قائم ہے ،اس لئے بھارت کا ایک باشندہ اور پیشے سے ایک صحافی ہونے کے ناطے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنا مناسب سمجھ رہا ہوں تاکہ آپ تک ان کروڑوں بھارتیوں کی آواز پہونچا دوں جو بھارت میں رہ کر یا بھارت سے دور ہوکر بھی بھارت کی ترقی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جو رہتے توعرب ، یورپ اور امریکا میں ہیں لیکن ان کا دل دھڑکتا بھارت کے لئے ۔ وزیراعظم صاحب بھارت کی سب سے عظیم اور طاقتور کرسی پر آپ فائز ہیں ۔ اگر دنیا کے کسی بھی کونے میں بھارت کا نام ہوگا تو یقیناً اس سےآپ کو خوشی میسر ہوگی اور ہونی بھی چاہئے، لیکن اس کے باوجودمیں یہ کہنے کی جرات کررہاہوں کہ اگر بھارت کی امیج کہیں دھومل ہوگی تو یقیناً اس سے آپ کی ان کوششوں کو دھچکا ضرور لگے گا جو آپ گذشتہ سات سالوں سے کررہے ہیں ۔

आखिर क्यों वतन समाचार को आप के सहयोग की ज़रूरत है?

 

حضور والا ! آپ چاہتے ہیں کہ بھارت کا نام دنیا میں روشن ہو، لیکن آپ کو ان لوگوں پر نظر رکھنا ہوگا جو یہ نہیں چاہتے ہیں۔جو بار بار دنیا میں بھارت کی بدنامی اور رسوائی کا ذریعہ بن رہے ہیں اور دراصل اس سے ان کی تو کوئی بدنامی ہوتی نہیں ،کیونکہ ان کو دوسرے ضلع کے لوگ بھی نہیں جانتے ، لیکن اس سے آپ کی امیج کو دھچکا ضرور لگتا ہے اور در اصل یہ وہ ٹول کٹ ہے جو آپ کی امیج کو دھچکا دینے اور آپ کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے کام رہی ہے۔

 

گذشتہ دنوںدی گارجین کی ایک اسٹوری پر میری نظر گئی۔ اس طرح کی ایک اسٹوری بی بی سی اور عرب دنیا کے کئی اخباروں میں جلی سرخیوں میں شائع ہوئی اور مسلسل سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، جس کی طاقت آپ سے بہتر کون جانتا ہے؟خبروں میں یہ بتایاگیا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے باجود بارہ بنکی ضلع انتظامیہ نے چھ دہائیوں سےزیادہ پرانی ایک مسجد کو شہید کر دیا۔ پیارے وزیراعظم !در اصل یہ ایک مسجد نہیں شہید کی گئی ہے، بلکہ سنی کانفرنس کے ذریعہ کی گئی آپ کی کوششوںکو ناکام بنانے کی سازش ہے ۔ عرب دنیا تو چھوڑئے ان کروڑوں لوگوں کو بھارت سے دور کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ بھارت کا ماحول خوشگوار ہو، تو وہ آکر کے بھارت میں پیسہ لگائیں۔ یہاں کے لوگوں کو روز گار دیں ۔

 

حضور والا !سنی سنٹرل وقف بورڈ کے صدر زفر فاروقی کا ایک بیان بی بی سی میں نشر ہوا ہے، جس میں صاف طور پر کہاگیا ہے کہ یہ مسجد انتظامیہ کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی اور اسی لئے اس کو شہید کر دیا گیا ۔ حضور والا !کیا کسی بھی مسجد ، مندر گرجا گھر ،گرودوراے یا کلیسا کو اس لئے گرا دیا جائے گا کہ وہ کسی افسر کی آنکھ میں کھٹک رہا ہو ۔میرے خیال سے آپ جیسا عظیم آدمی اس کی اجازت ہر گز نہیں دے گا ۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ’ اتیاچار کرے دھن ہوئے بیس پچیس اور تیس- تہس نہس ہوئیں پھر ناتی پوت سہیت۔ مجھے نہیں معلوم ان افسروں نے یہ کہاوت پڑھی ہے ، لیکن بھارت آپ سے انصاف چاہتا ہے۔ بھارت میں بسنے والے کروڑوں لوگ آپ سے انصاف چاہتے ہیں۔

 

 

حضور والا! ریکارڈ میں یہ مسجد ہے ۔اس کے پاس 1959سے بجلی کا کنکشن ہے۔ 1968سے یہ وقف میں درج ہے۔سابقہ سرکاروں کو چھوڑئے آپ کی سرکار تو وقف جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے اور محترم نقوی صاحب روز اس کا گن گان بھی کرتے ہیں، لیکن اس وقت وہ کہاں روپوش ہیں، مجھے نہیں معلوم ۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے تعلق سے جب کہاتھاکہ کسی مندر کو گرا کر بابری مسجد نہیں بنائی گئی تھی، اس کے باوجود مسجد کیخلاف فیصلہ دیا، تو سب نے اس کوقبول کیا ، لیکن یہاں تو مندر کا کوئی جھگڑا بھی نہیں تھا،اس کے باوجود زفر فاروقی کی مانیں تو ایس ڈی ایم صاحب کا خود ہی آرڈر تھا اور خود ہی انہوںنے اس کی تعمیل کروادی۔کیا اسی طرح سے بھارت کی امیج کو آپ کے اقتدار میں چوٹ پہونچایا جائیگا؟حضور !اس لئے انصاف کی بالادستی قائم کیجئے اور مسجد بنانے کا حکم صادر کروائیے ۔

 

یہاں کچھ باتیں یوپی کے سربراہ سے بھی کرناضروری سمجھتا ہوں۔ یوگی جی آپ تو سرکار ہیں، ہم نے سنا ہے کہ یوپی کے گورکھپور میں آپ کے عدل و انصاف کا جلوہ ہے۔ خود مٹھ کی زمین مسلمانوں نے ہی دی تھی یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہی ہوں گے ۔ یہ یوپی کی شان ہے اور یہ یہاں کا بھائی چارہ ۔ اس کے باوجود غریب نواز مسجد کو آپ کی سرکار نہیں بچا سکی۔ زفر فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ وہ ہائی کورٹ جائیں گے ۔ سرکار پتہ نہیں فیصلہ کب آئیگا اور کیا آئیگا، لیکن آپ تو عدل کا نظام قائم کیجئے ۔ اگر یہ مسجد چھ دہائیوں سے پرانی ہے اور جیسا کہ میڈیا رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ نئی تحصیل تو 1992میں بنی ہے اور مسجد چھ دہائیوں سے آباد ہے ۔نئی تحصیل کے وقت ہی یہاں ایس ڈی ایم آواس بھی بنا تھا۔

 

سرکار کچھ کیجئے  ۔ عدل کا نظام قائم کیجئے ،تاکہ لوگوں کا سسٹم میں اعتماد مزید گہرا ہو۔ آپ تو جانتے ہیں کہ سرکار لادینی ہوتی ہے ،لیکن آئین کے مطابق لوگوں کے دین کی حفاظت کرنا سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب ہائی کورٹ نے کہاتھاکہ 31مئی تک یہاں کوئی ایکشن نہ ہو تو اتنی جلدی کیا تھی کہ 70سال سے زیادہ پرانی مسجد غریب نواز کو شہید کردیا گیا۔ کیا اس سے یوپی کی دنیا بھر میں کرکری نہیں ہوئی ؟ آخر وہ کون لوگ ہیں جنہوںنے یوپی کی دنیا بھر میں کرکری کروائی؟ آپ کی سرکار کو رسوا کروا یااور بھار ت کا سر سرنگوں کروایا؟

 

انتظامیہ کے فیصلوں میں اور اس کی کارروائی میں ایک دو نہیں بلکہ کئی جھول ہے ۔نہ یہ مسجد 2011 کے بعد بنی ہے اور نہ ہی یہ مسجد کسی عوامی مقام پر تھی ۔ اگر یہ سچ ہے کہ افسران کی گاڑی نماز کی وجہ سے پھنسی تھی اس لئے اس مسجد کو گروانے کا آدیش ایس ڈی ایم صاحب نے اپنے نفس کی تسکین کیلئے دیا ہے، جیسا کہ زفر فاروقی صاحب فرمارہے ہیں تو آپ تو یوگی ہیں ۔کیا آپ اس بات کو تسلیم کریں گے کہ مسجد یا مندر کے گرانے سے کسی کی انا کو سکون ملے گا؟ میرے خیال سے ایسا بالکل نہیں ہے ۔ اس لئے پیارے وزیراعلیٰ کچھ کیجئے۔ حکومتیں بدعنوانی پر تو قائم رہ سکتی ہیں، لیکن ظلم پر نہیں ۔مجھے امید ہے کہ آپ میرے اس چھوٹے سے خط پر ضرور توجہ دیں گے۔اور ان لوگوں سے سوال کریں گے جنہوں نے وزیراعظم اور آپ کی سرکار کو دنیا میں بدنام کیا اور بھارت کی امیج کو دھومل کیا ہے۔

جے بھارت- جے سمودھان

محمدا حمد

ایڈیٹر ان چیف وطن سماچار

You May Also Like

Notify me when new comments are added.