ہاتھ پکڑ کر تھام لیجئے ، ارشد سے ہی کچھ سیکھ لیجئے

نئی دہلی : یہ ارشد ہیں ، جامعہ نگر کے ایک مدرسے کے طالب علم ہیں ابوالفضل میں آج صبح مارننگ واک پر اپنے محلے ای بلاک میں اتفاقیہ ملاقات ہو گئی ، ان کے ہاتھ میں اخبار وں کابنڈل دیکھ میں ان سے باتیں کرنے لگا ، اس کے علاوہ اور کیا کرتے ہیں ،کہاں کے رہنے والے ہیں وغیرہ ۔ لیکن دیکھا کہ انہیں اپنے بارے میں بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ،کہنے لگے انکل میں مدرسے کا طالب علم ہوں ، فی الحال میرے پاس وقت کم ہے 8 بجے تک تقسیم کرکے مدرسے واپس پہونچنا ہے ۔

وطن سماچار ڈیسک

ہاتھ پکڑ کر تھام لیجئے ، ارشد سے ہی کچھ سیکھ لیجئے

نئی دہلی : یہ ارشد ہیں ، جامعہ نگر کے ایک مدرسے کے طالب علم ہیں ابوالفضل میں آج صبح مارننگ واک پر اپنے محلے ای بلاک میں اتفاقیہ ملاقات ہو گئی ، ان کے ہاتھ میں اخبار وں کابنڈل دیکھ میں ان   سے باتیں کرنے لگا ، اس کے علاوہ اور کیا کرتے ہیں ،کہاں کے رہنے والے ہیں وغیرہ ۔ لیکن  دیکھا کہ انہیں اپنے بارے میں بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ،کہنے لگے انکل میں مدرسے کا طالب علم ہوں ، فی الحال میرے پاس وقت کم ہے 8 بجے تک تقسیم کرکے مدرسے واپس پہونچنا ہے ۔

 

 اس کے مجھے ایک ماہ کے  2200 مل جاتے ہیں جس سے کام چل جاتا ہے ، کیا آپ  کو بھی اخبار لینا ہے ؟صحافی اشرف علی بستوی( ایڈیٹر ان چیف ایشیا ٹائمز)نے اپنے فیس بک وال پر لکھا کہ ’ ارشد کا یہ پروفیشنل رویہ مجھے اچھا لگا میں نے ارشد سے ایک اوراخبار بک کرادیا ہے تاکہ اس لاک ڈاون میں ارشد کا حوصلہ بنا رہے۔ اگر آپ کو بھی زندگی کے کسی موڑ پر ارشد جیسا کوئی  ہونہار نوجوان مل جائے تو اس کے ساتھ اظہارہمدردی کے بجائے اس کے ہاتھوں کو مضبوط کریں تاکہ وہ اپنے خواب پورے کرسکے ۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.