خواتین کی شادی کی عمر18 یا 21

خواتین کی شادی کی عمرپر کثرت سے ہونے والی بحثوں سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ کمر عمری اوربڑی عمر کی شادی کے نفع ونقصانات کیا ہیں۔ انڈیا میںاس طرح کی بحث مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے بجٹ خطاب 2020-21 سے شروع ہوئی جب انھوں نے فروری 2020 میں خواتین کی شادی کی عمر 18 کی بجائے 21 کرنے کااعلان کیا۔ انڈیا میں خواتین کی شادی کی عمر ایک اہم مسئلہ مانا جاتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں روایتی خاندانی اقدار اور خاندان پر مرد کی اجارہ داری ہے۔

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

خواتین کی شادی کی عمر18 یا 21

مکرمی

خواتین کی شادی کی عمرپر کثرت سے ہونے والی بحثوں سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ کمر عمری اوربڑی عمر کی شادی کے نفع ونقصانات کیا ہیں۔ انڈیا میںاس طرح کی بحث مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے بجٹ خطاب 2020-21 سے شروع ہوئی جب انھوں نے فروری 2020 میں خواتین کی شادی کی عمر 18 کی بجائے 21 کرنے کااعلان کیا۔ انڈیا میں خواتین کی شادی کی عمر ایک اہم مسئلہ مانا جاتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں روایتی خاندانی اقدار اور خاندان پر مرد کی اجارہ داری ہے۔

 

 

سرکار کے فیصلے کے بعد اس پر بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے خواتین کی آزادی خطرے میں پڑے گی وہیں ایک طبقہ حکومت کے اس فیصلے کی مدح سرائی کررہا ہے۔انڈیا میں چائلڈ میریج ایکٹ 2006 کی مناسبت سے بلا استثنیٰ مرد اور خواتین کی شادی کی عمریں بالترتیب 21 اور 18 رکھی گئیں، مگرمطالعات سے پتہ چلتاہے کہ خام عمری کی شادی کو روکنے کیلئے سخت قوانین کے باوجودملک میںخصوصاً، یوپی، بہار، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں بڑی تعداد میں کم عمری کی شادیاں ہورہی ہیں۔ مردوں کے موازنے میں خواتین جلد بالغہ ہوجاتی ہیں، جیسے مفروضے نے کم عمری کی شادیوں کی تعداد ہمارے یہاں اور بڑھادی ہے ۔

 

 

مختلف مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکیوں کی کم عمری  میں شادی سماجی زندگی، ہمسر رشتے، تعلیم، کام کے مواقع، اسکل ڈیولپمنٹ اور ان کی مکمل صحت کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے۔ یونائٹیڈ نیشن کنونشن کی مانیں تو کمسنی کی شادی خواتین کو جنسی نشوونما کے حقوق، صحت، جذبات، جسمانی اور ذہنی فروغ کے مانع ہوتی ہے۔انجام کار جلد بازی کی شادی کی وجہ سے خواتین گھریلو ذمہ داریوں سے ناوقف ہوتی ہیں اور معاملہ رشتوں میں کڑواہٹ تک اور نوبت طلاق کو آجاتی ہے۔ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شادی کے بعدخصوصاً لڑکیوں پر خاندانی ضوابط اور نئی ذمہ داریاں آجاتی ہیں۔مختلف مطالعات میں پایاگیاہے کہ کم عمری کے حمل کی وجہ سے خواتین قلت تغذیہ کا شکار ہوتی ہیں۔ بلوغت کی ابتدائی مدت کے دوران جسمانی اور ذہنی نشوونما ہوتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق 10 سے 19 سال کی عمر کے درمیان 50 فیصد جسمانی وزن اور 15 فیصدجسمانی لمبائی کا ارتقاء ہوتاہے اوراس مدت میں جسم کو زیادہ غذا درکار ہوتی ہے۔علاوہ ازیں جلد شادی سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں اور آبادی کا تناسب غیر متوازن ہوجاتا ہے۔

 

 

 

 18سال کی عمر تک شادی محدود کرنے میں کئی اور دیگر مسائل ہیں جن میں لڑکیوں پر جلد شادی کیلئے زور وزبردستی بھی شامل ہے اس لئے اگر 18 سے شادی کی عمر 21 کردی جاتی ہے تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ لڑکی کو اس دوران اپنے برے بھلے کی تمیز ہوجائے گی اور قانون کا سہارابھی مل جائے گا۔ جب21سال کی شادی قانونی ہوجائے گی تو کافی حد تک حل نکل آئے گا۔لڑکیاں کم عمری میں جبریہ شادی کی منہ میں ڈال دی جاتی ہیں لیکن اگر انھیں 21سال کا موقع ملتا ہے تو وہ اپنی ہوشمندی سے فیصلہ کرنے کے مقام پر پہنچ جائیں گی۔لڑکیوں کو مردوں اور سسرال میں محکومی کی ذلت کا سامنا ہونا کم ہوجائے گا۔ مزیدیہ کہ شادی کی عمر متعین کردینا ہی کافی نہیںبلکہ اسی دوران کمرعمری کی شادی روکنے سے متعلقہ تمام مسائل حل کئے جانے چاہئیں اور سخت قانون بنایا جائے تاکہ خواتین شادی کیلئے خود فیصلے کی متحمل ہوسکیں۔

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.