مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

کسانوں کی مانگ درست کیوں؟ ڈاکٹر ایم جے خان صاحب او ر سوربھ بھائی میری یہ بات پیارے وزیراعظم تک پہونچا دیں

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ خط آپ تک پہونچے گا یا نہیں لیکن کھیتی باڑی کی دنیا کے ایک عظیم نام ڈاکٹر ایم جے خان اور صحافت کی دنیا کے رتن سوربھ شکلا ( این ڈی ٹی وی )سے گذارش کروں گا کہ وہ مری التجا کو آپ تک پہونچا دیں ۔ سر!گذشتہ روز کسانوں نے بلیک ڈے منایا ، تو مجھے لگا کہ یہ خط مجھے آپ کو لکھنا چاہئے اور سوشل میڈیا کے یگ میں یہ بات کسی نہ کسی حوالے سے آپ تک ضرور پہونچے گی۔ پیارے وزیراعظم میں ایک پترکار بھی ہوں اور ایک کسان کا سپوت بھی ۔ آج میں یہ خط ایک کسان کے سپوت ہونے کے ناطے آپ کو لکھ رہاہوں۔ ابھی تک میں کسانوں کی مانگوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا جتنی کی بھارت کے کسان لیتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ڈاکٹر ایم جے خان اور راجہ رام ترپاٹھی سمیت درجنوں کسانوں کا میں نے انٹرویو کیا پھر بھی مسئلہ کی نزاکت کو پوری طرح نہیں سمجھ سکا ،تاہم گذشتہ کچھ دنوں سے میں نے زمین پر کام کرنے والے کسانوں سے رابطہ کیا تو کسانوں کی پریشانی پوری طرح سے سمجھ میں آگئی ہے ۔ جس کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا کہ کسانوں کی مانگیں پوری طرح سے نہ صرف جائز ہیں بلکہ اس کےعلاوہ بھی کوئی اگر ان کی اور مانگ ہوسکتی ہے تو وہ بھی سرکار کو پوری کرنی چاہئے۔

محمد احمد
فائل فوٹو

کسانوں کی مانگ درست کیوں؟ ڈاکٹر ایم جے خان صاحب او ر سوربھ بھائی میری یہ بات پیارے وزیراعظم تک پہونچا دیں

 

محترم وزیراعظم صاحب آداب، نمسکار!

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ خط آپ تک پہونچے گا یا نہیں لیکن کھیتی باڑی کی دنیا کے ایک عظیم نام ڈاکٹر ایم جے خان اور صحافت کی دنیا کے رتن سوربھ شکلا ( این ڈی ٹی وی )سے گذارش کروں گا کہ وہ مری التجا  کو آپ تک پہونچا دیں ۔ سر!گذشتہ روز کسانوں نے بلیک ڈے منایا ، تو مجھے لگا کہ یہ خط مجھے آپ کو لکھنا چاہئے اور سوشل میڈیا کے یگ میں یہ بات کسی نہ کسی حوالے سے آپ تک ضرور پہونچے گی۔ پیارے وزیراعظم میں ایک پترکار بھی ہوں اور ایک کسان کا سپوت بھی ۔ آج میں یہ خط ایک کسان کے سپوت ہونے کے ناطے آپ کو لکھ رہاہوں۔ ابھی تک میں کسانوں کی مانگوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا جتنی کی بھارت کے کسان لیتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ڈاکٹر ایم جے خان اور راجہ رام ترپاٹھی سمیت  درجنوں کسانوں کا میں نے انٹرویو کیا پھر بھی مسئلہ کی نزاکت کو پوری طرح نہیں سمجھ سکا ،تاہم گذشتہ کچھ دنوں سے میں نے زمین پر کام کرنے والے کسانوں سے رابطہ کیا تو کسانوں کی پریشانی پوری طرح سے سمجھ میں آگئی ہے ۔ جس کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا کہ کسانوں کی مانگیں پوری طرح سے نہ صرف جائز ہیں بلکہ اس کےعلاوہ بھی کوئی اگر ان کی اور مانگ ہوسکتی ہے تو وہ بھی سرکار کو پوری کرنی چاہئے۔

 

 

आखिर क्यों वतन समाचार को आप के सहयोग की ज़रूरत है?

 

گذشتہ روز کانگریس کے سابق نائب صدر راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کرکے بتایاکہ’ ڈی اے پی کی 1200روپیہ بوری کے اب 1900روپیہ دینے ہوں گے‘۔ اسی طرح ڈیزل کے دام آسمان چھو رہے ہیں ۔ بارش کھیتی کے موسم میں ہوگی یا نہیں یہ کسی کو معلوم نہیں ۔ کھیتی کو سیراب کرنے کیلئے نہریں دھیرے دھیرے پوری طرح سے ختم ہوتی جارہی ہیں اور جو ہیں بھی ان میں سے بیشتر میں پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہے ۔ اگر واٹر لیول ڈائون ہوجائے تو ڈی ایم صاحب کاآدیش آجاتا ہے کہ آپ پمپنگ سیٹ نہیں چلاسکتے اور ظاہر سی بات ہے کہ کھیتی اور پانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، چاہے وہ سبزیوں کی کھیتی ہو یا پھر دھان یا گیہوں کی۔ اگر کسان کے پاس پیداوار زیادہ ہوجائے تو وہ دو روپیہ اور پانچ روپیہ کلو آلو بیچنے کیلئے مجبور ہوتا ہے ،کیونکہ اس کے پاس رکھنے کا کوئی نظم نہیں ہے اور یہی آلو پھر وہ بیس سے تیس روپیہ کلو خرید کر کھاتا ہے ۔

وزیراعظم صاحب !جب چاول آٹھ روپیہ کلو تھا تو مزدوری 2 روپیہ تھی۔ اور کھاد 65روپیہ تھی، لیکن جب وہی  چاول 20روپیہ کلو ہوا تو کھاد 1900پہونچ گئی اور مزدوری تین سو روپیہ ہوگئی۔ ایسے میں کسان کیا کرے۔ آپ نے کہا تھاکہ کسانوں کی آمدنی دو گنی کریں گے۔ اگر آپ دوگنی کربھی دیں جس کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں تو کھاد کی قیمت بھی دوگنی سے زیادہ ہونے والی ہے۔ مزدوری بھی اسی حساب سےبڑھ رہی ہے، ڈیزل کی قیمت بھی آسمان پر ہے تو پھر کسان کو کیا ملےگا؟ کسان توپہلے سے زیادہ نقصان میں ہوگا۔

 

پیارے وزیراعظم صاحب اتر پردیش کا ایک ضلع سدھارتھ نگر ہے ،جہاں گیہوں کی موجودہ سرکاری خرید 1985روپیہ ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بابو لوگ کسان سے پہلے 125روپیہ سے لے کر 150 روپیہ بوری وصول لیتے ہیں، تب کسان کے کھاتے میں 1985کے حساب سے پیسہ بھیجتے ہیں۔ اب آپ سوچئے کہ آپ کی طے شدہ قیمت بھی کسانوں کو نہیں مل رہی ہے۔ کتنا بڑا مافیہ ہے جو اس کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی کسان بابو کو ان کی اجرت دینے سے منع کردے تو اس کے گیہوں میں بارہ عیب نکال کر ریجیکٹ کردیا جاتاہےاور اگر وہ بابو جی کو نذرانہ دے دے تو تمام عیب اس کے گیہوں سے غائب ہوجاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سرکار ی گودام تک گیہو ں کو لے جانے کیلئے کاغذی جھمیلے پچاس ہیں ، کاغذ ستیاپت کرائو ،آن لائن کرائو، دِس دیٹ، ایسے میں سبھی کسان سرکاری مراکز تک جا بھی نہیں پاتے اور اونے پونے اپنی فیصل بیچنے کیلئے مہاجن کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں ۔

 

 بس ایک آخری بات آپ کے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ ایک کسان کو 80-70کونٹل گیہوں پیدا کرنے کیلئے 20بیگہے کی کھیتی کرنی پڑتی ہے اور اس میں پچاس ہزار روپیہ کا خرچ آتا ہے، جو خرچ اب کھاد کی قیمت اور دیگر وجوہات سے 60سے65ہزار پہونچ جائے گا ۔ اس کے پاس جو رقم اس کے بعد بچتی ہے وہ 75ہزار روپیہ سے بھی کم ہوگی۔اب آپ بتائیے کہ ایک کسان 75ہزار روپیہ میں اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالے؟ ان کی تعلیم کا انتظام کرے؟ شادی بیاہ کرے؟ وہ کیاکرے ؟ اس پر ایک بار غور کرلیجئے گا ۔ اس لئے میری آپ سے التجا ہے کہ کسانوں کے مسائل کو لے کر کچھ سنجیدہ فیصلے کیجئے ۔ اگر کسان ٹوٹ گیا تو دیش کو کافی نقصان ہوگا۔ یہی کسان دیش کو کھلاتا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ کسان آج مر رہاہے اوراس کا حل وزیراعظم صاحب آپ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ آپ چاہیںتو کسانوں کیلئے کچھ تاریخی فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ کسانوں کیلئے سرکار کو کیا کرناچا ہئے اس کے بارے میں اگلے مضمون میں ضرور کچھ تجاویز پیش کروں گا۔یقیناً ان پر عمل کرکے سرکار کسانوں کا اور دیش کا مقدر سنوار سکتی ہے۔

 جے بھارت -جے سمودھان

ایڈیٹر وطن سماچار

You May Also Like

Notify me when new comments are added.