ہمارا لیڈر کیسا ہو

ملک ہندوستان میں امیدواروں کا انتخاب کرنے والی عوام 2020 میں بھی اُسی غلامی کی طوق میں بندھی ہوئی ہے جو انگریزوں کے زمانے میں تھی۔ بس فرق صرف انتا ہی ہے کہ آج ہندوستانی لیڈران کی غلامی کررہے ہیں اور پہلے انگریز کے اور اس وقت سے آج تک اپنی ذہنی غلامی اور حماقت کی وجہ سے ایسے لیڈران اکا انتخاب کررہے ہیں جو پہلے ہی سے لٹیرا، قاتل اور دیگر جرائم کا ارتکاب کرچکا ہے۔ یہ بیوقوفی کی ہی تو علامت ہے کہ ہم ایسے شخص کو اپنا لیڈر منتخب کرلیتے ہیں جو چناؤ سے قبل ہی ناجائز پیسے کھانا اور پولیس میں غریب افراد کے خلاف معاملات درج کراکر پیسے ایٹھنا اس کیلئے ایک روزگار ہوتا ہے۔ جس کی بدعنوانی پورے علاقے میں مشہور ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ایسے شخص کا انتخاب لوگوں کی ذہنی غلامی اور حماقت کا کھلا ثبوت ہے کہ جس شخص کو لوگ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ ایک بدعنوان شخص ہے اور اس سے کسی بھلائی ،مدد اور فلاحی کاموں کی امید نہیں کی جاسکتی اس کو ایک بڑے عہدے پر فائز کرکے اُ س کو بڑے پیمانے پر لوگوں کے پیسے و حقوق کو تباہ کرنے کا موقع د ینا سراسر آپ کی حماقت، غلامی اور رسول کے بتائے ہوئے طریقے کی بین خلاف ورزی ہے۔

گیسٹ کالم

ہمارا لیڈر کیسا ہو

 

ملک ہندوستان میں امیدواروں کا انتخاب کرنے والی عوام 2020 میں بھی اُسی غلامی کی طوق میں بندھی ہوئی ہے جو انگریزوں کے زمانے میں تھی۔ بس فرق صرف انتا ہی ہے کہ آج ہندوستانی لیڈران کی غلامی کررہے ہیں اور پہلے انگریز کے اور اس وقت سے آج تک اپنی ذہنی غلامی اور حماقت کی وجہ سے ایسے لیڈران اکا انتخاب کررہے ہیں جو پہلے ہی سے لٹیرا، قاتل اور دیگر جرائم کا ارتکاب کرچکا  ہے۔ یہ بیوقوفی کی ہی تو علامت ہے کہ ہم ایسے شخص کو اپنا لیڈر منتخب کرلیتے ہیں جو چناؤ سے قبل ہی ناجائز پیسے کھانا اور پولیس میں غریب افراد کے خلاف معاملات درج کراکر پیسے ایٹھنا اس کیلئے ایک روزگار ہوتا ہے۔ جس کی بدعنوانی پورے علاقے میں مشہور ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ایسے شخص کا انتخاب لوگوں کی ذہنی غلامی اور حماقت کا کھلا ثبوت ہے کہ جس شخص کو لوگ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ ایک بدعنوان شخص ہے اور اس سے کسی بھلائی ،مدد اور فلاحی کاموں کی امید نہیں کی جاسکتی اس کو ایک بڑے عہدے پر فائز کرکے اُ س کو بڑے پیمانے پر لوگوں کے پیسے و حقوق کو تباہ کرنے کا موقع د ینا سراسر آپ کی حماقت، غلامی اور رسول کے بتائے ہوئے طریقے کی بین خلاف ورزی ہے۔

 

 نتیجہ یہ ہے کہ عوام اس وقت ایسے رہنماؤں سے شدید پریشان ہے اور ایسے لیڈروں سے تنگ آچکی ہے ۔ آج علاقے میں نہ کوئی ڈھنگ کی سڑک ہے اور نہ ہی پانی نکاسی کا کوئی انتظام ۔ حکومت نے عوام کے مفاد کیلئے بہت ساری اسکیموں کی شروعات کی ہے لیکن آپ اس سے مستفید نہیں ہوپارہے ہیں کیونکہ آپ نے جس کو اپنا لیڈر بنایا ہے وہ نہیں چاہتا کہ پردھان منتری اجولایوجنا،آواس یوجنا، ان یوجنااور دیگر حکومت کی فلاحی اسکیموں سے آپ مستفید ہوں۔

 

ان نااہلوں کی وجہ سے اترپردیش جیسی بڑی ریاست میں خستہ حال سرکاری اسکولوں، سڑکوں اور گلیوں میں مرمت کا کام نہیں ہورہاہے۔ ریاستی آبادی کی بڑی تعداد اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے ان سرکاری اسکولوںپر ہی منحصر ہے ۔لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں۔اس طرح کے لیڈروں نے سماجی کاموں کو کاروبار بنادیا ہے اور بدعنوانی میں ملوث ہوکرملک کیجمہوری نظام کا خانہ خراب کر رکھا ہے۔ لالچی و ضمیرفروش لیڈران بھولے بھالے عوام سے جھوٹ بو ل کر ووٹ لینا ایک کلچر بنالئے ہیں ۔موجودہ حالات میں اپنی حماقت اور غلامی سے نجات پانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس خوف سے خود کو آزاد کرائیں جو آپ کے تجسس کو سست کردیتا ہے۔ ایمانداری اورہوشیاری سے کام لیں۔ جذباتی طور پر ووٹ نہ کریں۔ ووٹ سے قبل انسان کو سمجھیں ۔ اپنے ضمیر کو جگائیں اور ایسے لیڈان کا انتخاب کریں جو ایک سماجی کارکن ، ایماندار اور پہلے سے ہی آپ کا مدد گار رہا ہوں نیز ایک تعلیم یافتہ شخص بھی ہونا ضروری ہے۔

عبدالحفیظ بن محمد حسین

گرام پیکولیا مسلم، پوسٹ پیکولیا، ضلع بستی، یوپی

Hafeezkhan4532@gmail.com

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.