نئی قومی تعلیمی پالیسی میں کیا خامیاں ہیں ؟ اب تک مسلم تنظیمیں اس پر خاموش کیوں ہیں؟

جے رام رمیش نے جمعرات کو ٹویٹ کیا ، " ایک بات میرے لئے واضح نہیں ہے کہ ابھی بھی نئی تعلیمی پالیسی میں سیاسیات کی تعلیم یونیورسٹی نصاب کا ایک حصہ ہے۔" انہوں نے کہاکہ پرانے بہتر انتظامات کی تبدیلی کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔ پرانے نظام میںپولیٹیکل سائنس کانصاب تعلیمی پالیسی کی ایک بہترین مثال ہے ۔دراصل نیو ایجوکیشن پالیسی کے تحت اسکول سے لیکر اعلی تعلیم تک بہت سی بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ نئی تبدیلیوں کے مطابق پانچویں جماعت تک تعلیم اب مادری زبان میں ہو گی۔ ہائر ایجوکیشن کے لئے (لاءاور میڈیکل ایجوکیشن کو چھوڑ کر) سنگل ریگولیٹر رہے گا۔ وہیں اعلی تعلیم میں 2035 تک 50 فیصد جی ای آر پہنچانے کا مقصد ہے۔ساتھ ہی چار سال کا ڈگری پروگرام، پھر ایم اے اور اس کے بعد بغیر ایم فل کے براہ راست پی ایچ ڈی کر سکتے ہیں۔

وطن سماچار ڈیسک

نئی قومی تعلیمی پالیسی میں کیا خامیاں ہیں ؟ اب تک مسلم تنظیمیں اس پر خاموش کیوں ہیں؟

نئی دہلی ، 30 جولائی: مرکز میں مودی حکومت نے کابینہ کے اجلاس میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کی منظوری دیدی ہے ، تقریبا 34 سال بعد تعلیمی پالیسی میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ تاہم ، حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے اس تبدیلی پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جیرام رمیش نے پوچھا ہے کہ کیا اس نئی تعلیمی پالیسی میں مکمل سیاسیات کی بھی کوئی گنجائش ہے یانہیں؟

جے رام رمیش نے جمعرات کو ٹویٹ کیا ، " ایک بات میرے لئے واضح نہیں ہے کہ ابھی بھی نئی تعلیمی پالیسی میں سیاسیات کی تعلیم یونیورسٹی نصاب کا ایک حصہ ہے۔" انہوں نے کہاکہ پرانے بہتر انتظامات کی تبدیلی کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔ پرانے نظام میںپولیٹیکل سائنس کانصاب تعلیمی پالیسی کی ایک بہترین مثال ہے ۔دراصل نیو ایجوکیشن پالیسی کے تحت اسکول سے لیکر اعلی تعلیم تک بہت سی بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ نئی تبدیلیوں کے مطابق پانچویں جماعت تک تعلیم اب مادری زبان میں ہو گی۔ ہائر ایجوکیشن کے لئے (لاءاور میڈیکل ایجوکیشن کو چھوڑ کر) سنگل ریگولیٹر رہے گا۔ وہیں اعلی تعلیم میں 2035 تک 50 فیصد جی ای آر پہنچانے کا مقصد ہے۔ساتھ ہی چار سال کا ڈگری پروگرام، پھر ایم اے اور اس کے بعد بغیر ایم فل کے براہ راست پی ایچ ڈی کر سکتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس پر اب تک مسلم تنظیمیں خاموش کیوں ہیں؟ کیا انہوں نے اسے سرے سے قبول کر لیا ہے؟ اگر ہاں تو اس کی بھی ابھی تک مسلم تنظیموں نے تصدیق نہیں کی ہے اور اگر نہیں تو اس میں کیا خامیاں ہیں اس پر بھی ابھی تک مسلم تنظیمیوں کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا ہے؟ جس سے بہت سارے سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.