بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

ہندوستان میں بے روزگاری نے گذشتہ 20سالوں کا ریکارڈ توڑا

اس خطرناک بیماری سے سب سے زیادہ شمالی ہند کی ریاستیں متاثر،عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ایمپلائمنٹ سینٹر کی تازہ رپورٹ نے اڑائی سرکار کی نیند

Administrators

نئی دہلی،16اکتوبر: مودی سرکار کے سامنے ایک کے بعد ایک کئی مسائل منہ بائے کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ مسائل بے روزگاری کے ہیں۔ تازہ رپورٹ نے بے روزگاری کو لے کر چونکانے والا انکشاف کیا ہے۔عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ایمپلائمنٹ سنٹر کی ایک تازہ رپورٹ میں بے روزگاری شرح گزشتہ 20 سالوں میں سب سے زیادہ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والوں نے ہندوستان میں بے روزگاری شرح کے بڑھنے کی وجہ ملازمتوں کے پیدا ہونے کی رفتار دھیمی ہونا، ورک فورس بڑھنے کی جگہ کم ہونا اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے تیزی سے بے روزگاروں میں شامل ہونے کو بتایا ہے۔عظیم پریم جی یونیورسٹی کے اسکول آف لبرل اسٹڈیز، معاشیات کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر سے پردہ اٹھانے والی اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا، 2018 رپورٹ کے اہم رائٹر امت بسولے نے بتایا کہ ’’یہ اعداد و شمار محنت بیورو کے 5ویں سالانہ روزگاری۔بے روزگاری سروے (16۔2015) پر مبنی ہے۔‘‘وزارت محنت کی رپورٹ کے مطابق کئی سالوں تک بے روزگاری شرح دو سے تین فیصد کے آس پاس رہنے کے بعد سال 2015 میں پانچ فیصد پر پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ ہی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ امت بسولے کا کہنا ہے کہ ’’ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے پیچھے دو اسباب ہیں، پہلا 2013 سے 2015 کے درمیان ملازمتوں کے پیدا ہونے کی سست رفتار ہونا، ورک فورس بڑھنے کی جگہ کم ہونا کیونکہ کل ورک فورس (ملازمتوں میں لگے لوگوں کی تعداد) بڑھنے کی جگہ گھٹ گئی ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ لیبر فورس میں داخل ہونے والے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان، جو کہ کسی بھی کام کو کرنے کی جگہ مناسب ملازمت کا انتظار کرنا پسند کرتے ہیں۔‘‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا، 2018 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015 میں بے روزگاری شرح 5 فیصد تھی جو گزشتہ 20 سالوں میں سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جی ڈی پی میں اضافہ کے نتیجہ میں روزگار میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق جی ڈی پی میں 10 فیصد کے اضافہ کی وجہ سے روزگار میں ایک فیصد سے بھی کم کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بڑھتی بے روزگاری کو ہندوستان کے لیے ایک نیا مسئلہ بتایا گیا ہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نوجوانوں میں بے روزگاری شرح 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بے روزگاری پورے ملک میں ہے لیکن اس سے سب سے زیاد متاثر ملک کی شمالی ریاستیں ہیں۔امت بسولے نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی ملازمت بازار کا نقشہ بدل گیا ہے کیونکہ بازار میں اب زیادہ تعلیم یافتہ لوگ آچکے ہیں۔ یہ لوگ دستیاب کسی بھی کام کو کرنے کی جگہ مناسب ملازمت کا انتظار کرنا پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’گزشتہ دہائی میں لیبر مارکیٹ بدل گیا ہے، مختلف ڈگریوں کے مطابق روزگار پیدا نہیں ہوئے ہیں۔‘‘حالات کو معمول کے مطابق بنانے کے لیے کس طرح کے اقدام کیے جانے چاہئیں، اس سوال پر رپورٹ کے اہم رائٹر نے بتایا کہ ’’یہ حالات کو معمول کے مطابق بنانے کا سوال نہیں ہے۔ اس کی جگہ ہمیں ایک مناسب قومی روزگار پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے جو مرکز کے ذریعہ اقتصادی پالیسی بنانے میں ملازمتیں پیدا کرے گی۔‘‘
ان حالات سے نمٹنے کے لیے کیا حکومت نے مناسب قدم اٹھائے ہیں، اس پر معاشیات کے اسسٹنٹ پروفیسر امت بسولے نے بتایا کہ ’’ان حالات پر حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھوڑا مشکل ہے۔ خاص طور سے 2015 کے بعد کیونکہ اس کے بعد سے حکومت نے مجموعی روزگار کے حالات پر کوئی ڈاٹا جاری نہیں کیا ہے۔ سنٹر فار مانیٹرنگ دی انڈین اکونومی (سی ایم آئی ای) جیسے پرائیویٹ ذرائع کے دستیاب ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ملازمتیں کم ہی پیدا ہوں گی۔ سی ایم آئی ای ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ملازمتوں میں کمی آئی ہے اور حکومت نے اس پر بھی کوئی ڈاٹا جاری نہیں کیا ہے۔‘‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2018 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں انڈر ایمپلائمنٹ اور کم مزدوری کا بھی مسئلہ ہے۔ 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.