Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

یونیسیف کا سوشل میڈیا پر ویکسین بیداری مہم ہفتہ

ویکسین سے تدارک والی بیماریوں کی وبا پھوٹنے کے دوران ، یونیسیف کی مہم میں بتایا جائے گا کہ زیادہ تر والدین اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے ویکسین پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

وطن سماچار ڈیسک

نیویارک: بچوں کی عالمی تنظیم یونیسیف(UNICEF) 24 اپریل سے والدین اور سوشل میڈیا کے صارفین کے درمیان ٹیکہ یا ویکسین کے محفوظ اور انتہائی موثر ہونے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک عالمی مہم بڑے پیمانے پر شروع کرے گی ۔ یہ عالمی مہم 24 تا 30 اپریل تک چلنے والے عالمی ٹیکہ کاری ہفتہ (World Immunization Week) کے ساتھ چلائی جائے گی جس کا پیغام ہوگا کہ تمام طبقات بشمول والدین مل کر ہر ایک بچہ کی زندگی کا تحفظ کر یں ۔ 
ایک عرصہ سے ٹیکہ کاری کے آن لائن مبلغوں کو ایک جگہ لانے کے لئے ہیش ٹیگ ’# ویکسینس ورک‘ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس سال یونیسیف نے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی غرض سے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، اور گاوی ، دی ویکسین الائنس سے اشتراک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

 
بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپریل مہینے میں ہیش ٹیگ’ # ویکسینس ورک ‘کاا ستعمال کرکے سوشل میڈیا پر پسند اور شیئر کرنے پر فی پوسٹ ایک ڈالر کے حساب سے یونیسیف کو ایک ملین امریکی ڈالر تک رقم ادا کرے گا جس کا مقصد تمام بچوں کو وہ تمام ٹیکے لگوانے کی مہم کو یقینی بنانا ہے جو بچوں کی زندگی بچانے کے لئے ضروری ہیں ۔ ہر سال ٹیکوں کی بدولت 30لاکھ بچوں کی جان بچ جاتی ہے۔ بچوں کو ٹیکے کے ذریعہ خطرناک ، مہلک اور متعدی بیماریوں جیسے خسرہ ، نمونیا، ہیضہ ، اور ڈپتھریا وغیر ہ سے تدارک کیا جاسکتا ہے ۔ ویکسین کی بدولت ہی 2000 سے 2017 کے درمیان خسرہ سے چند ہی اموات ہوئیں اور پولیو کا بھی خاتمہ قریب ہے ۔ بلا شبہ ٹیکوں کی دریافت بچوں کی زندگیوں اور مستقبل کو محفوظ بنانے کا ایک انتہائی موثر اور کفایتی طریقہ ہے ۔ اگر ہر بچہ کی ٹیکہ کاری پر ایک ڈالر صرف ہوتاہے تو اس کے نتیجہ میں 44 ڈالر مالیت کا فائدہ ہوتا ہے۔ 


یونیسیف کے ٹیکہ کاری پروگرام کے سربراہ رابن نندی نے کہا کہ ’’ ہم چاہتے ہیں کہ ٹیکہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ’ # ویکسینس ورک‘ کی زیادہ سے زیادہ تشہیر ہو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ویکسین ( ٹیکے) بے ضرر اور محفوظ ہوتے ہیں اور وہ زندگیاں بچاتے ہیں ۔ یہ مہم دنیا کو یہ بتانے کا ایک موقع ہوگی کہ سوشل میڈیا تبدیلی لانے کا ایک طاقتور اور موثر ذریعہ ہے جو والدین کو ویکسین کے بارے میں قابل اعتماد معلومات فراہم کرتا ہے ۔‘‘ 


یہ مہم ، ’پروٹیکٹیڈ ٹوگیدر : ویکسینس ورک‘ کے عنوان کے تحت ہفتہ بھر چلنے والی اس عالمی سرگرمی کا حصہ ہے جس میں والدین، کمیونیٹی ارکان سے لے کر طبی عملہ اور جدت کاروں کو ویکسین ہیرو کے خطاب سے نواز ا جائے گا۔ 
بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شعبہ ویکسین ڈیلیوری کی عبوری ڈائریکٹر یولین مچل نے کہا کہ آج پہلے کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ بچوں کو ٹیکے اور خوراک پلائی جارہی ہے۔ ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں یونیسیف نیز ان تمام عالمی و ملکی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے میں خوشی ہوگی جو تمام بچوں ، بالخصوص دنیا کے غریب ترین ملکوں کے بچوں کا مہلک بیماریوں سے تحفظ کے لئے ان تھک کو ششیں کر رہی ہیں ۔ 


ویکسین کی افادیت کے باوجود سال 2017 میں ایک اندازہ کے مطابق 15 لاکھ بچے ان بیماریوں سے لقمہ اجل بنے جن کا تدارک ٹیکہ کاری کے ذریعہ کیا جاسکتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ ویکسین کی عدم دستیابی ہے نیز بعض ملکوں میں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کے سبب والدین اپنے بچوں کو خوراک پلانے میں تاخیر یا کوتاہی برتتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں کئی متعدی بیماریاں وبائی شکل میں پھوٹتی ہیں۔ ان میں خسرہ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ بالخصوص اونچی آمدنی والے ملکوں میں زیادہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر ویکسین کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔


اسی لئے یو نیسیف کی مہم میں 60۔سکنڈ کی ایک فلم کو کشش کا محور بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے پوسٹ اور پوسٹروں کے توسط سے ’ڈینجرس ‘کے عنوان سے یہ فلم اور وضاحتی انیمیشن خاکوں کے ذریعہ سے بچوں کی صفات کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ فطرتاً بہادر اور خطرات سے کھیلنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ اس فلم کا ویڈیو عربی ، چینی ، فرانسیسی، ہندی ، روسی ، اسپینی اور ٹیگالاگ (Tagalog)زبانوں میں دستیاب ہے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ والدین خود سے اپنے بچوں کو لاحق تمام خطرات سے نہیں بچا سکتے ہیں مگر وہ ویکسین کے ذریعہ بچوں کو ان خطرات سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ مزید برآں،یو نیسیف کے ماہرین ٹیکہ کاری کے بارے میں سوالات کا جوابات دیں گے۔ ان میں ویکسین کس طرح اثر کرتا ہے ، ان کا تجربہ کیسے کیا جاتا ہے، بچوں کو کیوں خوراک پلائی جانی چاہیے اور خوراک بروقت نہ پلانے کے کیا کیاخطرات ہیں وغیرہ سوالات شامل ہیں۔
یونیسیف مہم کی حمایت کرنے والی شخصیات کے خیالات: 


انگلیک کدیو، یونیسیف کے سفیر خیر سگالی اور گرامی ایوارڈ یافتہ گلوکار : ’’ آج ہر دس میں سے نو بچوں کو خوراک اور ٹیکہ دیا جاتاہے مگر ہم کسی ایک بچہ کو بھی نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمیں زندگی بچانے والی ان ویکسین کے ساتھ ہر بچہ تک پہنچنا چاہیے‘‘۔ 
ٍ مئیسا ء سلوا، برزایل کی ٹی وی میزبان اور ادکارہ: 
’’ میں نے یونیسیف کی اس مہم میں شامل ہونے کی دعوت اس لئے قبول کی ہے کہ میں بچوں کی صحت و تندرستی میں ویکسین کی کتنی اہمیت ہے اسے اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ویکسین بچوں کو مختلف مہلک بیماریوں سے بچانے کا ایک طریقہ ہے۔ صحت ایک بہت اہم مسئلہ ہے اور ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ویکسین کتنی کارگر اور ضروری ہے ۔‘‘
امیتابھ بچن ، یونیسیف کے سفیر خیر سگالی اور ٹیکہ کاری کے ایک طویل عرصہ سے مبلغ:


’’صف اول کے لاکھوں طبی کارکن پیدل، ندی نالے، سمندر اور برف جمے راستوں کو پار کرکے ویکسین لے کر پہنچتے ہیں حتی کہ وہ دشوار گزار مقامات تک ویکسین کوبیل گاڑیوں کے ذریعہ پہنچاتے ہیں ۔ اکثر و بیشتر ان طبی کارکنوں کو لوگوں میں شکوک و شبہات کی وجہ سے ڈر وخوف کا سامنا کرناپڑتا ہے مگر وہ جانتے ہیں کہ وہ بچوں کی جان بچا رہے ہیں۔ ہمیں ویکسین کے بارے میں شکوک کے ازالہ میں اپنا کردار ادا کرنا اور ’# ویکسینس ورک ‘ کو عام کرنا چاہیے۔‘‘ 
انڈیا کے مدیران کے لئے نوٹ 
انڈیا میں ٹیکہ کاری کی مہم میں سب کو شامل کرنے اور اس میں شدت پیدا کرنے کی غرض سے مرکزی حکومت نے ایک اہم پروگرام مشن اندردھنش ( ایم آئی) کے نام سے شروع کیا ہے۔ ملک کے 190 اضلاع میں حال ہی میں کئے گئے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشن اندردھنش سے ٹیکہ کاری کی مہم میں 18.5 فی صد کا اضافہ ہوا ہے یعنی مزید 18.5 فیصد بچوں کو ٹیکے لگوائے گئے ہیں۔ اس سروے کے ذریعہ پورے ملک میں 90 فی صد سے زیادہ ٹیکہ کاری کا ہدف حاصل کرنے کے لئے چلائی جارہی مہم میں پائی جانے والی کمیوں کا پتہ لگا نے میں مدد ملی جسے دور کیا جاسکتا ہے۔ انڈیا نے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں ہیضہ اور نمونیا جیسی متعدی بیماریوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے مضبوط قوت ارادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے ویکسین جیسے روٹا وائرس اور نیومو کو کل Pneumococcal کو متعارف کرایا ہے ۔ 


انڈیا میں خسرہ روبیلا کی مہم ( ایم آر )
انڈیا میں میزلس روبیلا (ایم آر) ویکسین کی مہم فروری 2017 میں شروع کرنے کے بعد سے اب تک 32 ریاستوں اور مرکزی علاقہ جات میں305 ملین بچوں کو یہ ویکسین دی جاچکی ہے ۔ ایم آر ویکسین کو معیار اور تحفظ کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او نے پہلے ہی مستند ہونے کا سریٹیفیکیٹ دیا ہے اور اسے مرکزی حکومت کے ادارہ سنٹرل ڈرگس اسٹنڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے تیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ا یم آر ویکسین ٹیکہ کاری کے معمول کی مہم میں استعمال کی جاتی ہے اور اسے انڈیامیں تیار کیا جارہا ہے اور یہ برآمد بھی کی جارہی ہے۔ یونیسیف ٹیکہ کاری کے پروگرام میں حکومت کا ٹیکنیکل ساجھیدار ہے اور وہ اس امر کو یقینی بنانے کے لئے پابند عہد ہے کہ کوئی بچہ ایسی بیماری کا شکار نہ بنے جس کا ویکسین کے ذریعہ تدارک کیا جاسکتا ہے ۔
یونیسیف کے بارے میں
یونیسیف دنیا کے انتہائی مشکل ترین علاقوں کے سب سے زیادہ محروم بچوں کے لئے سرگرم عمل ہے ۔ وہ دنیا کے 190ملکوں اور علاقوں میں ہر جگہ ہر بچہ کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے مسلسل جد و جہد کر رہا ہے ۔
یونیسیف کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے آپ ہماری ویب سائٹ پر وزٹ کریں:

 



www.unicef.org. 
آپ ہمیں فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی فالو کرسکتے ہیں ۔
میڈیا مزیدمعلومات کے لئے رابطہ قائم کریں: 
یونیسیف انڈیا:
گیتانجلی ماسٹر
کمیونیکیشن اسپیسلیشٹ
ٹیلی فون : 91-981 810 5861
ای میل : gmaster@unicef.org

سونیا سرکار , 
کمونی کیشن آفیسر میڈیا 
ٹیلی فون : +91-981 017 0289 
ای میل: ssarkar@unicef.org

You May Also Like

Notify me when new comments are added.