Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

یونیسیف و نیتی آیوگ نے ’گاندھیائی چیلنج‘ کے عنوان سے بچوں کیلئے کیا ایک مقابلہ کا اعلان

اسی طرح یونیسیف انڈیا کی نمائندہ ڈاکٹر یاسمین علی حق نے کہا کہ اس مقابلہ میں حصہ لینے کے لئے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کے نتیجہ ہمیں بچوں کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مد د ملتی ہے اور ہم بچہ کے حقوق کے چشمہ سے ان کے مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں اور نوجوان لڑکوں کی اس میں بامقصد شرکت سے ان میں تجزیاتی اور عقلی سوچ پیدا کرنے میں مدد ملے گی جو Generation Unlimited پروگرام کا ایک جز ہے۔

وطن سماچار ڈیسک

   یونیسیف و نیتی آیوگ نے ’گاندھیائی چیلنج‘ کے عنوان سے بچوں کیلئے کیا ایک مقابلہ کا اعلان

     نیو دہلی:  بچوں کی تنظیم یونیسیف(UNICEF)   انڈیا اور  نیتی آیوگ (اٹل  انوویشن  مشن اور اٹل  ٹنکرنگ  لیبس) نے  مہاتما گاندھی کی 150ویں سا لگرہ کی تقریبات کے حوالے  سے   ”گاندھیائی چیلنج“  کے عنوان سے پورے ملک کے بچوں کے لئے  ایک مقابلہ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت  ہندوستان کی پائیدار ترقی کے بارے میں گاندھی جی کے اصولوں کی روشنی  اپنے تصورات اور  تخیلات اور    ایجادات  کے ذریعہ حل  پیش کرنا ہے۔ اس مقابلہ میں اول آنے والے بچوں کو  یونیسیف  انڈیا اور  نیتی آیوگ (اٹل  انوویشن  مشن اور اٹل  ٹنکرنگ  لیبس) انعامات سے سرفراز کریں گے  جو آئندہ  مہینہ نومبر  میں  یوم اطفال کے موقع پر پیش کئے جائیں گے۔  اس مقابلہ میں  ہندوستان کا ہر بچہ  حصہ لے سکتا ہے جو  2تا 20 اکتوبر تک  جاری رہے گا۔ یہ مقابلہ  یونیسیف  انڈیا اور  حکومت ہند کے ساتھ70 سالہ اشتراک  کے جشن کا بھی ایک حصہ ہے  اور اس اشتراک کے نتیجہ میں  ”ہر بچہ کا ہر حق“   نعرہ کو شرمندہ تعبیر کرنے کا موقع ملا ہے۔

                 اٹل انوویشن مشن یا ایم  (Atal Innovation Mission) کے مشن  ڈائریکٹر  جناب  آر رمانن کے مطابق ” ایم اور  یونیسیف کی اس شراکت کے ذریعہ گاندھی جی کے اصولوں کی روشنی میں ہر بچہ کی  اپنے خوابوں کی دنیا کو پیش کرنے کی صلاحیت اور حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ بچوں کے اندر  موجد بننے  اور جدت پسندی کے جذبہ کو فروغ د ینا ہے۔“

  ”گاندھیائی چیلنج“ یا  Gandhian Challenge کا مشکل  مرحلہ یہ ہے کہ آپ گاندھی جی کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے  اپنے خوابوں اور پسند کی پائیدار  دنیا کے لئے  اپنے جدت پسندانہ اور  نئے تصورات اور حل پیش کریں۔“

                اسی طرح یونیسیف انڈیا کی نمائندہ  ڈاکٹر یاسمین علی حق نے کہا کہ اس مقابلہ میں حصہ لینے کے لئے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا  ضروری ہے کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کے نتیجہ ہمیں بچوں  کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مد د ملتی ہے اور ہم  بچہ کے حقوق کے چشمہ سے  ان کے مسائل کا  حل تلاش کرسکتے ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ  بچوں اور  نوجوان لڑکوں کی اس میں بامقصد شرکت سے ان میں  تجزیاتی اور عقلی سوچ  پیدا کرنے میں مدد ملے گی جو  Generation Unlimited پروگرام کا ایک جز ہے۔

                 گاندھیائی چیلنج‘ کے تحت اپنے تصورات او ر حل   دو وسیع تر نوعیت کے زمروں میں پیش  کئے جاسکتے ہیں:  آرٹ اور انوویشن   کے تحت  خطوط، نظمیں،  مصوری یا پینٹنگ، ویڈیو، فوٹو وغیرہ اظہار کے ذرائع ان میں شامل ہیں جبکہ دوسرے زمرہ یعنی سائنس، ٹیکنالوجی  اور انوویشن میں روبوٹکس، آئی او ٹی ، سنسرس،  3D پرنٹررس وغیرہ شامل ہیں۔

    اس مقابلہ میں شرکت کے لئے اپنی  درخواستیں حکومت ہند کے شہریوں کے رابطہ کے پورٹل  https://innovate.mygov.in/the-gandhian-challenge/

 کے چیلنج صفحہ پر جاکر   پوسٹ کریں۔ اور تمام درخواستوں پر Atal Tinkering Labs (ATL) کا کوڈ  ڈالنا لازمی ہے۔  ایسے  اسکولوں میں جن کے پاس  ATL  کوڈ نہیں  ہے وہاں زیر تعلیم بچے  اپنے قریب ترین  اسکول جس کے پاس ATL  کوڈ ہے  میں جاکر یہ کوڈ حاصل کرسکتے ہیں۔  ہر ضلع میں ATL  کوڈ کے حامل اسکولوں کی فہرست   پورٹل کے چیلنج پیج  سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔   پائیدار ترقی کے بارے میں  سب سے زیادہ جدت پسند تصور یا حل کی نمائش کی جائے گی  جو  ہندوستان کے ہر ضلع میں بچوں میں  پیدا ہورہی جدت پسندی کی وسیع تر تحریک کی علامت ہوگی۔  اپنے منفرد آئیڈیا اور تصورات کو عملی شکل دینے کے لئے بچے  ملک کے تمام اضلاع  میں واقع  8000 سے زائد  اٹل ٹنکرنگ لیب سے استفادہ کرسکتے ہیں۔  اٹل ٹنکرنگ لیبوں میں ششم سے بارہویں تک کے طلبا ء  اپنے اساتذہ اور سرپرستوں کی مدد سے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی سوچ پیدا کرسکتے ہیں، ٹیکنالوجی کی نئی نئی ایجادات جیسے  3D پرنٹرس،  روبوٹکس،  miniaturised یا چھوٹے سائز کے الیکٹرانکس،  انٹرنیٹ آف تھنگس(آئی او ٹی) ، پروگرامنگ، اور  ڈو  اِٹ یور سلیف یا DIY کٹ   تیار کرسکتے ہیں۔   

اٹل انوویشن مشن یا ایم  کیا ہے:

  ایم  حکومت ہند کی ایک اہم اسکیم ہے جس کا مقصد ملک میں ایجادات اور کاروباری جدت پسندی  کے کلچرکو فروغ دینا ہے۔ ایم کا  مقصد  معیشت کے مختلف شعبوں میں  نئی  نئی چیزوں اور تصورات کے لئے  نئے پروگراموں اور پالیسیوں کو  فروغ دینا،  نیز  ا س سے وابستہ  مختلف  لوگوں کو  اشتراک کے لئے ایک پلیٹ فارم اور مواقع  فراہم کرنا   اور اس کے علاوہ  ملک کے ایکو سسٹم  پر نظر رکھنے کے لئے  شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ ایک   اسٹرکچر  تیار کرنا ہے۔

 ایم  کے چھ اہم  اور بڑے اقدامات

اٹل ٹنکرنگ لیبس:  پورے ملک کے اسکولوں میں  مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی سوچ پیدا کرنا

 اٹل  انکیبیشن سنٹرس:  عالمی معیار کے  اسٹارٹ اپ  کو فروغ دینا اور انکیوبیٹر  ماڈل کو نئی جہت عطا کرنا۔

 اٹل نیو انڈیا چیلنجس:  نئی نئی  مصنوعات  کو فروغ دینا اور  انہیں  متعدد شعبوں اور وزارتوں سے  کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا۔

مینٹر انڈیا  کمپیئن Mentor India Campaign:پبلک سیکٹر، کارپوریٹ اور اداروں کے اشتراک و تعاون سے  ایک  نیشنل مینٹر نیٹ ورک  تشکیل دینا جو مشن کے مقاصد  میں معاون بن سکے۔

 اٹل کمیونٹی انوویشن  سنٹر:  ملک کے  نظر انداز  اور  زیر نظر علاقوں اور   دوم اور سوم درجہ  کے شہروں میں کمیونٹی  نوعیت کے تصورات اور ایجادات کو  فروغ دینا۔

 آرائز  ARISE:   میڈیم اور اسمال  میڈیم  انڈسٹری میں  ایجادات اور نئی نئی چیزوں اور تحقیق کو فروغ دینا

 یونیسیف انڈیا اور جنریشن ان لیمیٹیڈ کے بارے میں:

 یونیسیف  اقوام متحدہ کا  ایک ادارہ ہے جو دنیا بھر میں حقوق اطفال کے بین الاقوامی  کنوینشن کی روشنی میں  بچوں کے حقوق پر عمل آوری  کے لئے  حکومتوں، طبقوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، پرائیویٹ سیکٹر  اور دیگر  اداروں کے ساتھ ملکر کام کرتا ہے۔  جنریشن ان لیمیٹیڈ  Generation Unlimited  یو نیسیف کا یہ  عالمی سطح پر  اشتراک پر مبنی  نیا پروگرام ہے جس کا مقصد سال 2030 تک     10 تا 24 سال عمر کے ہر نوجوان فرد کے کسی نہ کسی شکل میں اسکول میں ہونے، اس کی تربیت،  خو دروزگا ر  یا اس کی عمر کے اعتبار سے  روزگار دلانے کو یقینی بنانا ہے۔  اس پروگرام کے تحت   سکنڈری  ایج  تعلیم،  سیکھنے کی استعداد،  روزگاری، اور  مناسب کام ، بااخیتار بنانے  وغیرہ چیزوں کے حوالے سے لڑکیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے

 یونیسیف کے بارے میں

                یونیسیف دنیا کے انتہائی مشکل ترین علاقوں  کے سب سے زیادہ محروم بچوں کے لئے سرگرم عمل ہے۔ وہ دنیا کے 190ملکوں اور علاقوں میں ہر جگہ ہر  بچہ کا  مستقبل  بہتر بنانے کے لئے مسلسل جد و  جہد کر رہا ہے۔

  یونیسیف کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے  کے لئے آپ ہماری ویب سائٹ پر وزٹ کریں:

www.unicef.org.

آپ ہمیں  فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی فالو کرسکتے ہیں۔

 مزیدمعلومات کے لئے رابطہ قائم کر سکتے ہیں:

  یونیسیف انڈیا:

 الکا گپتا

 کمیونیکیشن  اسپیسلیشٹ

ٹیلی فون:  +91-730 325 9183,

ای میل:  agupta@unicef.org

سونیا سرکار,

 کمونی کیشن آفیسر  میڈیا 

 ٹیلی فون: +91-981 017 0289

ای میل: ssarkar@unicef.org

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.