Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

کل مہاتما گاندھی کی جتنی ضرورت تھی آج اس سے کہیں زیادہ ہے: پروفیسر اخترالواسع

گاندھی کی طرح تشدد،نفرت، استحصال اور ناانصافی سے ہر طور پر لڑنے کے لیے آگے آئیں:نند کشور آچاریہ کل مہاتما گاندھی کی جتنی ضرورت تھی آج اس سے کہیں زیادہ ہے: پروفیسر اخترالواسع ہمیں گاندھی کو نہ صرف ماننا چاہیے بلکہ اپنانا بھی چاہیے:واجب علی ایم ایل اے

وطن سماچار ڈیسک
مہاتما گاندھی کے 150/ویں جشن ولادت پر دو روزہ سلسلہئ خطبات کا آغاز کرتے ہوئے پروفیسر اخترالواسع

گاندھی کی طرح تشدد،نفرت، استحصال اور ناانصافی سے ہر طور پر لڑنے کے لیے آگے آئیں:نند کشور آچاریہ

 کل مہاتما گاندھی کی جتنی ضرورت تھی آج اس سے کہیں زیادہ ہے: پروفیسر اخترالواسع

ہمیں گاندھی کو نہ صرف ماننا چاہیے بلکہ اپنانا بھی چاہیے:واجب علی ایم ایل اے

                جودھپور: بابائے قوم مہاتماگاندھی کے ۰۵۱/ویں جشن ولادت کے موقعہ پر آج یہاں مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کے زیرِاہتمام مولانا آزاد یونیورسٹی میں ایک دو روزہ سلسلہئ خطبات کا آج افتتاح ہوا۔ افتتاحی خطبہ مشہور گاندھیائی مفکر، ادیب، ڈرامہ نگار، مؤرخ اور دانشور پروفیسر نند کشور آچاریہ نے مہاتما گاندھی کی عصری معنویت کے موضوع پر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ ہمارے معاشی، صنعتی، ثقافتی اور تعلیمی دائروں میں بھی تشدد کی مختلف صورتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ سیاست اور سماج دونوں اس کا شکارہیں۔ اس لیے ہم چاہے گاندھی سے براہِ راست اپنا رشتہ نہ جوڑیں لیکن گاندھی کی طرح تشدد،نفرت، استحصال اور ناانصافی سے ہر طور پر لڑنے کے لیے آگے آئیں۔ اور اس طرح آپ خود اپنے زمانے کے گاندھی بنیں۔

 

مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے نگر (بھرت پور) سے منتخب نوجوان ایم۔ایل۔ اے جناب واجب علی نے مولانا آزاد یونیورسٹی کے اس پروگرام کی ستائش کی اور کہا کہ ہمیں گاندھی کو نہ صرف ماننا چاہیے بلکہ اپنانا بھی چاہیے۔

 

اس سلسلہئ خطبات کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا آزاد یونیورسٹی کے صدر پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کہاکہ کل مہاتما گاندھی کی جتنی ضرورت تھی آج اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مہاتما گاندھی نے صرف غیر ملکی سامراجیت سے ہمیں آزادی نہیں دلائی بلکہ ایک سچے اور راسخ العقیدہ ہندو کی حیثیت سے مذہبی خیر سگالی کے لیے عملی جدوجہد کی اور فرقہ پرستی کے ہاتھوں اپنی جان دے کر اپنے خون سے نئے ہندوستان کی تاریخ رقم کی اور اسے سرخی عطا کی۔

 

اس سلسلہئ خطبات کی پہلی کڑی کی صدارت مشہور شاعر اور نقاد جناب شین کاف نظام نے کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی اس طرح کے پروگرام منعقد کرکے اور ملک بھر سے دانشوروں کو بلاکر بڑا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا گاندھی کو یاد کرنا اپنے انسان دوست ہونے کا ثبوت دینا ہے۔

 

پروگرام کی نظامت جناب محمد امین، ڈائریکٹر پروگرامس نے کی جب کہ اس تقریب میں حاجی عباداللہ قریشی، ڈاکٹر غلام ربانی، جناب فضل الرحمن، جناب محمد عتیق، جناب نظیر خان، جناب حنیف لوہانی، جناب خالد قریشی، ڈاکٹر ثمینہ،ممتاز سید، عزیز الحسن، پرویز احمد، جگنو خان، صادق فاروقی، عتیق بابوجی وغیرہ شریک تھے۔ حسبِ روایت پروگرام کا آغاز ڈاکٹر عبداللہ خالد کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔

 

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.