بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

نبی رحمت کے کارٹون پر خونی احتجاج کرنے والے اس کو ضرور پڑھیں

کارٹون اور پیغمبراکرمؐ- ندی کے دو کنارے جو کبھی نہیں مل سکتے

گیسٹ کالم

نبی رحمت کے کارٹون پر خونی احتجاج کرنے والے اس کو ضرور پڑھیں

کارٹون اور پیغمبراکرمؐ- ندی کے دو کنارے جو کبھی نہیں مل سکتے

مکرمی

قرآج کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ"یقینا اللہ کے رسول تم میں سے ان لوگوں کیلئے ایک اچھا نمونہ ہیںجو اللہ پر اور قیامت کے دن پر امید رکھتے ہیں اور جو اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں‘‘ (قرآن 33:21)پیغمبر اکرم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کردار ہر ایک کیلئے بہترین نمونہ ہے جولفظوں یادوسرے کسی بھی انداز میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ بہت سے لوگوں نے ناسمجھی میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  کا حسن اخلاقتصویرکے آئینے سے پیش کرنے کی کوشش کی اور کبھی عمدا ًتنازع پیدا کرنے کیلئے شرارتا ایساکیا گیا ہے، جبکہ آپؐ کی خصوصیت بیان کرنے کیلئے کسی بھی طرح کی مصوری ، کارٹون بنانا یا نقاشی مکمل طور پر حرام ہے اور اسی کے نتیجے میں بارہا تشدد بھی ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی بار ذہن میںسوالات اٹھتے ہیں۔وہ کون تھا جس نے حضرت محمدؐ کا پہلا پورٹریٹ بنایا؟ کیاآپ کی زندگی میں یا ساتویں صدی میں کبھی بھی تصاویر بنی تھیں؟ کیا کسی مسلمان فنکار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر پینٹ کی ہے جبکہ عام عقیدے کے مطابق مسلمان گھروں میںبھی انسانوں اوردیگر جانداروںکی تصاویر کھینچنا یا رکھناممنوع سمجھتے ہیں؟ تومسلمہ طور پر جواب بالکل ایک لفظ میں دیا جاسکتا ہے کہ کبھی نہیں۔

ماضی اور حال کے حالات سے ہم جانتے ہیں کہ رسول اکرم کی تصویر کشی کی کسی بھی کوشش کے بعد مسلم برادری کی طرف سے اس پر شدید ردعمل ہواہے اور نتیجے میں اکثر تشدد بھی ہوا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی حضرت محمد ؐکی حیات طیبہ اور آپ کے حسن اخلاق پر نگاہ ڈالے اور آپ کی پوی زندگی پر نظردوڑائے تو اسے جلد ہی احساس ہوجائے گا کہ پیغمبرؐ نے ہمیشہ تشدد سے نفرت کی ہے حتی کہ انتہائی مجبوری کے حالات میں بھی آپ نے تشد اور جنگ وجدال سے پرہیز کیاہے۔ نہ صرف یہ کہ خود امن کی نشانی زیتون کاسہارا لیاہے بلکہ صحابہ کرام کو بھی ہر حال میں امن پر قائم رکھنے کی تلقین کی ہے۔’’ یقینی طور پر مذہب اور شریعت کیخلاف جو کوئی بھی آواز اٹھے یا کوئی خلاف شریعت کام دیکھا جائے تو اس کی مخالفت ہونی چاہئے مگر اس کیلئے ایسی حکمت عملی اپنائی جانی چاہئے جو تدبرسے بھری ہوئی اور پر امن ہو۔

یہاں ایک انتہائی حیرت انگیز لیکن مستند کہانی کا ذکر کیا جاسکتا ہے ‘‘۔اس کہانی میں نبیؐ کے ایک پڑوسی کا ذکر ہے جس نے ہر روز آپ کے راستے میں کوڑاپھینک کر آپ کو مشتعل کرنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ایک دن جب آپؐ اپنے گھر سے نکلے تو آپ پر کوڑا کرکٹ نہیں ڈالا گیا۔ آپؐ کو تعجب ہوا اور آپ نے اس بوڑھی عورت(کوڑا پھینکنے والی) کے بارے میں دریافت کیا،معلوم ہواکہ وہ بیمار ہیں۔ نبی ؐفوری اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اور رہر اس مدد کی پیش کش کی جس کی اس بوڑھی مریضہ کو ضرورت ہو۔ آپ کو دیکھ کر بوڑھی عورت عجزوانکسارکی حد تک شرمندہ ہوگئی، یہ نتیجہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے ساتھ محبت وآتشی کا،بعد میں اس بڑھیانے اسلام قبول کرلیا۔ یہ کہانی تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ محبت اور شفقت کسی کا بھی دل جیت سکتی ہے، اس لئے تمام مسلمانوں کو انتہائی دشمنی کے باوجود بھی تشدد کی بجائے اخوت اور محبت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ایسا اس لئے کیونکہ جب پیغمبرمحمدؐانتہائی حسن اخلاق، شائستہ اور معاف کرنیوالے تھے تو ان کے پیروکار کیوں نہیں ہوسکتے ہیں؟۔

آپؐ کے اپنے رشتہ دار ابو سفیان جو ان گنت مظالم اور مسلمانوں پر ظلم وستم کے ذمہ دار تھے، فتح مکہ کے دوران انہیں آپؐ نے معافی دیدی تھی جبکہ ابو سفیان کے مقابلے میں کئی گنا بڑی فوج کی آپؐ کمان کررہے تھے۔ حضورؐکے حسن سلوک سے سبق لیتے ہوئے مسلمانوں کو پرامن حکمت عملی اپنانی چاہئے تاکہ ہزاروں غیر مسلموں کا دل جیتا جاسکے۔ کہا جاتا ہے کہ عدم تشدد اور محبت کسی کو بھی شکست دے سکتی ہے مگر انتقام ہمیشہ دشمنی اور اذیت دیتی ہے۔بھلا کوئی ضدی کارٹونسٹ آپؐ کے حسن اخلاق کو نعوذباللہ کیا بگاڑے گا۔ حال ہی میں کیمبرج کی ایک رپورٹ میں اس کی تائید کی گئی ہے کہ آپؐ تاریخ کے عظیم مہربان اور بہترین شخص تھے۔مسلمانو ںکو چاہئے کہ اسلام کی حقیقی روح پر عمل کرتے ہوئے اعتدال برتیں اور ایک بہترین اور عالمگیر معاشرے کی تشکیل کریں۔ کچھ لوگ ہمیشہ مختلف انداز میں توہین رسالت واسلام کا ارتکاب کرتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے ، قرآن مجید کے صفحات پھاڑناوغیرہ جیسی توہین کو بہت زیادہ اہمیت دینے کی بجائے ہمیں خود کو دنیا کے سامنے محبت واخوت کا نمونہ پیش کرنا چاہئے تاکہ توہین کرکے ذہنی تکلیف پہنچانے والو ںکو شہرت نہ ملے اور وہ اپنی موت آپ مرجائیں۔

 

محمد ہاشم، چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.