Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جب کہ ہرمذہب کو زبان کی ضرورت

مجھے ہندی پر فخر ہے لیکن کاش راجستھانی زبان بھی آٹھویں شیڈیول میں شامل کی جاتی: پرم بھنڈاری

وطن سماچار ڈیسک

                جودھپور، ۴۱/ستمبر: آج یہاں مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے زیرِ اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں اور شعبہ جات میں ۹/ ستمبر سے ۴۱/ستمبر تک ہندی زبان کے متعلق ہفتہ بنایا گیا۔ اس بیچ میں تحریری اور تقریری مقابلوں کے علاوہ سوال و جواب اور مختلف پروگرام الگ الگ منائے گیے۔

                آج ایک شاندار تقریب میں ہندی دوس کے موقعے پر ان موقعوں پر حصہ لینے والے کامیاب ۴۴/ طلبہ و طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی امریکہ سے آئے صنعت کار اور سماجی بنیاد گزار شری پریم بھنڈاری تھے۔ جب کی تقریب کی صدارت مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کی۔

                اس موقعہ پر ان تمام اساتذہ کو جنہوں نے اس ہفتے میں منعقدہ پروگراموں کو کامیاب بنانے میں اہم رول انجام دیا ان کا بھی اعزاز کیا گیا۔ شری پریم بھنڈاری نے کہا کہ ہندی زبان پر ہمیں فخر ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ آٹھویں شیڈیول میں راجستھانی زبان کو بھی شامل کیا جائے۔

                پروفیسر اخترالواسع نے ہندی دوس کی مبارکباد دیتے ہوئے تمام انعام یافتگان کو مبارکباد دی اور کہا کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جب کہ ہر مذہب کو زبانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی کا جنم حضرت نظام الدین اولیاء کی خانقاہ میں ہوا اور حضرت امیر خسرو اس کے جنک تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندی زبان و ادب کی کوئی تاریخ داؤد، ملک محمد جائسی، منجھن، رسلین، شانی، پرویز، اصغر وجاحت اور عبدل بسم اللہ کے بغیر ادھوری ہی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ زبانیں مجادلے کے لیے نہیں مکالمے کے لیے ہوتی ہیں۔

                مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کے سابق جنرل سکریٹری الحاج محمد عتیق نے اس بات پر خوشی کااظہار کیا کہ ہم نے ہندی کو ایک دن تک محدود نہ کرکے اس کو ایک ہفتے تک اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس پروگرام کی روحِ رواں ڈاکٹر ریحانہ بیگم نے ایک ہفتے میں ہوئی سرگرمیوں اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقعہ پر حاجی عباداللہ قریشی صاحب، حنیف لوہانی، ڈاکٹر سپناراٹھوڑ، ڈاکٹر سویتا اروڑا، محمد امین اور بی ایڈ کالج کے ہیڈ ڈاکٹر محمد سلیم موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت محمد اقبال چندریگر نے کی جب کہ پروگرام کا آغاز بی۔ ایڈ کے طالب علم محمد حنیف نے تلاوتِ کلام پاک سے کی۔

Photo Caption

مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے زیرِ اہتمام ہندی ہفتے کے اختتامی اجلاس میں مہمانِ خصوصی ڈاکٹر پریم بھنڈاری، صدرِ جلسہ پدم شری پروفیسر اخترالواسع، حاجی عباداللہ قریشی، الحاج محمد عتیق اور چند دیگر انعام یافتگان کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں

You May Also Like

Notify me when new comments are added.