ہندوستانی مسلمانوں میں انتہائی پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں

"اوراللہ تعالی کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام" (قرآن 25:63)سورۃ نمبر 25 آیت نمبر 63، ہندوستانی مسلمانوں میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کی طرف سے دہشت پسندی کی تردید کا معاملہ ہمارے جمہوری ملک میں کافی مستحکم ہے، جو ایک جامع ہندوستانی معاشرے کی تشکیل کیلئے طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے حالانکہ مختلف ذات، مسلک اور ثقافت کے لوگ یہاں قدیم زمانے سے مقیم ہیں اس کے باوجود انتہا پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں۔بہت سارے تنازعات اور گھناؤنے حالات آئے اور چلے گئے لیکن انہوں نے کبھی بھی تشدد اور شورش کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت کی پیروی کی جو انہیں زمین پر نرم مزاج رہنے کی رہنمائی کرتی ہے، معافی کا سبق دیتی ہے، ہمدردی اور محبت سے پیش آنے کاسلیقہ سکھاتی ہے۔ تقسیم کے دوران 180 ملین مسلمانوں نے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کوئی بھی شہر فتح کیا، تو وہ جزیہ کے ذریعہ تمام لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں رہنے کی اجازت دیتے تھے۔ مفتوحین کو ان کے گرجا گھروں،مندروں اور ان کے مذہبی عبادت خانوں میں اپنے طریقہ پر عبادت کی آزادی دی جاتی تھی۔

وطن سماچار ڈیسک

 ہندوستانی مسلمانوں میں انتہائی پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں

مکرمی

"اوراللہ تعالی کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام" (قرآن 25:63)سورۃ نمبر 25 آیت نمبر 63،

ہندوستانی مسلمانوں میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کی طرف سے دہشت پسندی کی تردید کا معاملہ ہمارے جمہوری ملک میں کافی مستحکم ہے، جو ایک جامع ہندوستانی معاشرے کی تشکیل کیلئے طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے حالانکہ مختلف ذات، مسلک اور ثقافت کے لوگ یہاں قدیم زمانے سے مقیم ہیں اس کے باوجود انتہا پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں۔بہت سارے تنازعات اور گھناؤنے حالات آئے اور چلے گئے لیکن انہوں نے کبھی بھی تشدد اور شورش کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت کی پیروی کی جو انہیں زمین پر نرم مزاج رہنے کی رہنمائی کرتی ہے، معافی کا سبق دیتی ہے، ہمدردی اور محبت سے پیش آنے کاسلیقہ سکھاتی ہے۔ تقسیم کے دوران 180 ملین مسلمانوں نے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کوئی بھی شہر فتح کیا، تو وہ جزیہ کے ذریعہ تمام لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں رہنے کی اجازت دیتے تھے۔ مفتوحین کو ان کے گرجا گھروں،مندروں اور ان کے مذہبی عبادت خانوں میں اپنے طریقہ پر عبادت کی آزادی دی جاتی تھی۔

آرٹیکل 370 کو حال ہی میں ہندوستانی حکومت نے منسوخ کیا جس کے ذریعے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی ہے، پڑوسی ملک کی موقع پرستی نے سوچا کہ اس فیصلے کے خلاف  ہندوستانی مسلما ن احتجاج پر احتجاج درج کرائیں گے کیوں کہ ریاست کشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی ہے لیکن پڑوسی ملک کی خواہش دم توڑ گئی اور ایسا کچھ نہ ہوا۔ اگرچہ کشمیریوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی، لیکن ملکی مسلمانوں نے نہ صرف احتجاج نہیں کیا بلکہ کشمیریوں کے احتجاج کی حمایت بھی نہیں کی۔ مسلمانوں کی متفقہ رائے تھی کہ کشمیری ہندوستان کے ساتھ رہیں اور محبت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ مسلمانوں کا یہ رویہ ان لوگوں کے گال پر تھپڑ تھا جو وقفے وقفے سے ہندوستانی مسلمانوں کی وفاداریوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ہندوستانی مسلمان ملک کی روح کے خلاف کبھی نہیں جاتا۔مختلف مواقع پر گؤرکشا کے نا م پر اس پر حملے ہوئے لیکن اسے ملکی آئین پر یقین ہے جو انہیں مساوی مواقع اور حقوق عطاکرتا ہے۔

 ہر ایک مسلم فردپر سکون زندگی گزارنا چاہتا ہے، مذہب کے نام پر انتہا پسندانہ نظریے اور کشمکش سے وہ قطعی گریز کرتاہے۔ زیادہ تر ہندوستانی مسلمان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات  رکھتے ہوئے  پرامن ماحول میں اپنے مذہب پر عمل پیرا  رہنا چاہتے ہیں۔11 دسمبر 2019 کو ترمیم کئے جانے والے شہریت قانون کے خلاف احتجاج بھڑک اٹھا، تاہم کچھ چند واقعات کو چھوڑ کر ملک گیر ہونے ولے احتجاج  میں پوری طرح امن و امان برقرارر کھا گیا۔ مظاہرین نے ملک کے امن اور ہم آہنگی کو  قائم رکھا۔ بدقسمتی سے دہلی  میں فساد برپا ہوگیا جس نے جان ومال کے اعتبار سے ہندؤں اور مسلمانوں کو یکسان نقصان پہنچایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان مذہب پر یقین رکھتے ہیں اور قرآنی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اوراپنے ہاتھوں (اپنے آپ کو) تباہی میں نہ ڈالو، بھلائی کاراستہ اختیار کرو۔ بے شک اللہ نیک لوگوں کو پسند کرتا ہے "

(2: 195)سورۃ بقرۃ آیت نمبر 195، مسلمانوں کو انسانوں اور معاشرے کی اصلاح کیلئے نیکیاں کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اسلام کی روح کیخلاف بنیاد پرست تنظیموں اور انتہاء پسند ممنوعہ تنظیموں سے دور رہتے ہیں۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بجائے وہ چیریٹی، سماجی خدمات، خون کا عطیہ، بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیمی اداروں کی تعمیر پر توجہ دیتے ہیں۔ قادر مطلق اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔سماجی خدمات میں یقین رکھنے والے بالی ووڈ اسٹار سلمان خان سے لیکر صنعتکار عظیم پریم جی مخیر حضرات کی مشہور فہرستوں میں ہیں۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان حد درجہ اعتدال پسند ہیں۔ وہ ملکی ثقافت کو پسند کرتے ہیں اور روایتی طور پر‘دیوالی’اتنے ہی جوش کے ساتھ مناتے ہیں جتنا عیدمیں خوش ہوتے ہیں جو ملکی تنوع کی مثال ہے۔ غیرمسلموں کے تہواروں اور تقاریب میں شامل ہونے کے علاوہ وہ انہیں بھی شادی بیاہ، تہواروں اور دیگر تقاریب میں مدعو کرتے ہیں، یہی ہمارے ملک کا حسن ہے جسے دنیا نقل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

 

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.