باغیوں کو فوراً پارٹی سے نکال دیا جائے ، جتن کے والد نے بھی کی تھی بغاوت

اب لکھیم پور کھیری ضلع اور شہر کانگریس کمیٹی نے سونیا گاندھی کی قیادت پر سوال کھڑا کرنے والے رہنماؤں کے خلاف قرار داد منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی اپیل کی

وطن سماچار ڈیسک

23 باغیوں کو فوراً پارٹی سے نکال دیا جائے ، جتن کے والد نے بھی کی تھی بغاوت

اب لکھیم پور کھیری ضلع اور شہر کانگریس کمیٹی نے سونیا گاندھی کی قیادت پر سوال کھڑا کرنے والے رہنماؤں کے خلاف قرار داد منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی اپیل کی

lkhim.jpg

لکھیم پور کھیری:غلام نبی آزاد، جتن پرساد، کپل سبل، مکل واسنک اور آنند شرما سمیت کل 23 کانگریسی لیڈروں کے ذریعہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت پر سوالیہ نشان لگانے کے بعد کانگریسوں کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جگہ جگہ احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں ۔ان لیڈران کو پارٹی سے برخواست کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کااعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیاجارہاہے۔ اب لکھیم پور کھیری ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی اورشہر کانگریس کمیٹی نے کانگریس پارٹی کی عبوری صدر سونیا گاندھی کی قیادت پر سوال اٹھانے والے قائدین کے خلاف ایک قرار داد منظور کی ہے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ 5 نکات پر مبنی اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کانگریس پارٹی کی واحد قابل قبول رہنما ہیں۔ ہمیں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر پورا پورا اعتماد ہے۔

 

اگر تبدیلی واقع ہوتی ہے تو ، مسٹر راہل گاندھی کو قومی صدر بنایا جانا چاہئے۔ ممبران ، جنھوں نے اس وقت سونیا گاندھی کو خط لکھ کر ان کی صلاحیت پر انگلی اٹھائی ہے ،جب ملک میں ہنگامی صورتحال ہے۔ مسز گاندھی بیمار ہیں۔کورونا کا قہر چاروں طرف ہے ۔ بی جے پی راجستھان اور مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومتوں پرمسلسل حملہ کررہی تھی ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کو سونیا گاندھی اور کانگریس پر اعتماد نہیں ہے۔اور جو کام بی جے پی کررہی ہے وہی کام ان لوگوں نے انجام دیا ہے ۔

 

 ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کی کہ دستخط کرنے والے تمام ممبروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے۔ اس سلسلے میں ، خاص طور پر پورے اتر پردیش میں ، صرف ایک شخص جتن پرساد نے دستخط کئے ہیں جو سابق وزیر بھی ہیں ۔ ان کی خاندانی تاریخ گاندھی خاندان کے خلاف رہی ہے۔ اور ان کے والد جتیندر سنگھ نے مسز سونیا گاندھی کے خلاف الیکشن لڑ کرکے اس کا ثبوت دیا۔ اس کے باوجود ، سونیا گاندھی نے انہیں لوک سبھا کا ٹکٹ دے کر انہیں رکن پارلیمنٹ اور وزیر بنایا۔

 

ان کے ذریعہ کیا جانے والا فعل بے راہ روی ہے۔ ضلعی کانگریس کمیٹی۔شہر کانگریس کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔ اس خط پر ، ضلعی صدر ،شہر صدر لکھیم پور کھیری کانگریس کمیٹی کے ساتھ ، بہت سے دوسرے کانگریس قائدین کے دستخط ہیں۔کانگریس رہنماؤں نے اس قرارداد کو منظور کرنے کے لئے ایک پروگرام کا بھی اہتمام کیا ، جس میں کانگریس پارٹی کے مضبوط کارکن ظفر علی نقوی کے بیٹے سیف علی نقوی بھی موجود تھے ، جو اس سے قبل اسمبلی انتخاب میں حصہ لے چکے ہیں۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کانگریسیوں کا غصہ باغی 23 رہنماؤں کے خلاف رکنے والا نہیں ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اس سارے معاملے کے بارے میں آگے کیا کرتی ہے؟ یہ دیکھنا بہت اہم ہوگا ، کیوں کہ اعلی قیادت نے باغی رہنماؤں کے انداز پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی باغیوں کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.