Hindi Urdu

!بسی صاحب کے ثبوت اور ہماری عدالت

وطن سماچار ڈیسک

جے این یو ایس یو کے صدر کنہیا کمار کو دہلی ہائی کورٹ نے 10ہزار کی بیل بانڈ بھرنے کی شرط کیساتھ چھ ماہ کی مشروط ضمانت دے دی ہے ۔ 29فروری کو دہلی ہائی کورٹ میں جس طرح دہلی پولس کی فضیحت ہوئی تھی اس کے بعد یہی اندازہ تھا کہ اب راہیں کنہیا کیلئے نہیں بلکہ دہلی پولس کیلئے مشکل ہوں گی ۔ چنانچہ ہوا بھی وہی کہ عدالت نے کنہیا کی جانب سے پیش ہوئے وکیل کی دلیلوں کو سننے کے بعداطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جب دہلی پولس سے سوال کیا تو پولس لاجواب ہوگئی اوروہ بغلیں جھانکنے لگی ۔سنوائی کے دوران عدالت نے جو تبصرہ کیا ہے اس پرکچھ لوگ اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں ، لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ تبصرہ بی جے پی والوں پر پوری طرح سے درست ثابت ہوتا ہے ۔انہیں اپنے اندر جھانک کر یہ سوال خود سے کرنا چاہئے کہ پہلے ملک ان کیلئے ہے یا ان کی وہ پالیساں ہیں جو ان کے ان آقاؤں نے وضع نے کی تھی جنہوں نے جناح سے قبل 1937میں ہندو مہاسبھا کے 19ویں سالانہ ادھیویشن میں دو قومی نظریہ پیش کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی مل کر ملک کی تعمیر نہیں کرتے ہیں۔ جو بھارت کے ترنگے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ، اسے بدشگون مانتے ہیں ۔ جو بھارت کے آئین میں راشٹر واد اور سیکولرزم کو دھرم نرپیکچھتا اور پنتھ نرپیکچھتا کے جال میں پھنسانا چاہتی ہے۔ 
بہرحال دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کا نہ صرف کنہیا کے والدین اور ان کے اہل خانہ نے استقبال کیا بلکہ پورے ملک کے ان انصاف پسند لوگوں نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا جنہیں ا س بات پر کامل یقین تھا کہ عدالت میں کنہیا کو انصاف ضرور ملے گا ۔ اس پورے معاملہ میں ایک چیز تو اچھی طرح سے ثابت ہوگئی ہے کہ دراصل دہلی پولس بھی اس معاملہ میں پوری طرح مرکزی حکومت کے سامنے لاچار و بے بس تھی اور وہ لوگ بھی اپنے آقاؤں کے اشارے پر چلنے کیلئے مجبور تھے ، کیونکہ جب تک ملک کے وزیر داخلہ کا بیان نہیں آیا تھا تب تک دہلی پولس خاموش تھی اور جیسے ہی جے این یو تنازعہ میں وزیر داخلہ کودے فوراً بی ایس بسی او ر ان کی ٹیم حرکت میں آگئی۔ بسی صاحب کا بیان آیا کہ گہنگاروں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی۔ اورکنہیا کو پولس نے گرفتار کرکے اپنی کامیابی کے تال ٹھونکنے شروع کردیئے ۔بی ایس بسی نے دعویٰ کیاکہ کنہیا کیخلاف ملک سے غداری کے پورے ثبوت موجود ہیں اورانہیں عدالت میں پیش کیا جائیگا۔اسکے بعد وزیر داخلہ کا بیان آیا کہ جے این یو تنازعہ کے پیچھے لشکر اور حافظ سعید ( موسٹ وانٹیڈ)کا ہاتھ ہے، لیکن جب ا س معاملہ میں اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کیا اور راجناتھ سنگھ سے ثبوت پیش کرنے کی بات کہی تو جو بیانات سامنے آئے ان سے پتہ چلا کہ راجناتھ نے ایک فرضی ٹوئیٹ کی بنیاد پر یہ بات کہی تھی ۔ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ ایک جمہوری ملک کا وزیر داخلہ فرضی ٹوئیٹ کی بنیاد پر اپنے بیان کے ذریعہ ملک میں ایسا ماحول پیدا کردے جس سے سب انگشت بدنداں رہ جائیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ بسی صاحب کے ثبوت کہاں گئے ؟ عدالت میں بسی اور ان کی ٹیم وہ ثبوت پیش کیوں نہیں کرسکی جن کے بارے میں وہ دعویٰ کررہی تھی؟ کیا اس معاملہ کا آپریشن اسمرتی ایرانی کی ٹیم کررہی تھی جیسا کہ میڈیا میں خبریں آرہی ہیں ، حالانکہ وزارت کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ہے لیکن اس کی تہہ تک جانے کی ضرورت ہے ۔ اور ممبرآف پارلیمنٹ جاوید علی خان کے ذریعہ راجیہ سبھا میں اٹھائے گئے اس سوال پر بھی ملک کو غور کرنا ہوگا کہ ایوان میں بغیر دستخط کے متعدد پرچہ بی جے پی والوں کی جانب سے پڑھے گئے جنکی صداقت پر شکوک و شبہات ہیں لیکن وہ پرچہ جو جاوید علی خان نے دکھایا جس میں شہلا راشد، ناگا اور کنہیا کے دستخط تھے جس میں ملک مخالف سرگرمیوں کی مذمت کی گئی تھی ، آخر اس پرچہ پر اے بی وی پی کے لوگوں کے دستخط کیوں نہیں تھے ؟ یہ سوال حکومت کے سامنے منہ بائے کھڑا ہے جس کا ملک جواب چاہتا ہے ۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.