مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

مسجد کے لئے جو جگہ وقف ہوجائے وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے،۔مولانا سید ارشدمدنی

مسجد کے لئے جو جگہ وقف ہوجائے وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے،۔مولانا سید ارشدمدنی

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

وقف بورڈ کا چیئر مین وقف کا محافظ ہوتاہے مالک نہیں

مسجد کے لئے جو جگہ وقف ہوجائے وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے،۔مولانا سید ارشدمدنی

سپریم کورٹ میں آج ہوئے تازہ اپڈیٹ کے بعد اپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ  بابری مسجدکے سلسلہ مسلمانان ہند کا موقف وہی ہے جس کا اظہارجمعیۃعلماء ہندکی طرف سے باربارکیا جاچکاہے یعنی جو جگہ مسجد کے لئے وقف کردی جائے وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے، اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، اس لئے نہ تو مسلمان دست بردارہوسکتاہے اور نہ ہی کسی دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتاہے، انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق وشواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندرکو منہدم کرکے یا کسی مندرکی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ مسجد وقف علی اللہ ہوتی ہے، اور واقف کو بھی وقف کے بعد یہ اختیارنہیں رہ جاتا کہ وہ مسجد کی زمین واپس لے  اور وقف بورڈ کا صدریا چیئر مین صرف اس کا منتظم اور کیر ٹیکر ہوتاہے،مالک نہیں، یہ تولیت کا مقدمہ نہیں ہے بلکہ ملکیت کے حق کا مقدمہ ہے جس کا فیصلہ اب سپریم کورٹ کو کرنا ہے۔

 

 مولانا مدنی نے کہا کہ ہر طرح کی مصالحت کی کوشش کے ناکام ہونے کہ بعدہی عدالت میں حتمی بحث شروع ہوئی تھی، مگر اب آخری لمحوں میں یہ جو کچھ ہوا اس پر صرف افسوس کا اظہارہی کیا جاسکتاہے، یہ مسلمانوں کونفسیاتی اور اخلاقی طورپر پست ہمت کرنے کی ایک دانستہ کوشش بھی ہوسکتی ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملہ میں ابتداہی سے حق اور انصاف کی جگہ طاقت اور زبردستی کا ہی مظاہرہ ہوتاآیا ہے، مسجد کے اندررات کے اندھیرے میں جبراًمورتیاں رکھی گئیں، مسلمانوں نے انصاف طلب کیا تو نماز پر پابندی عائد کرکے مسجدمیں تالالگادیاگیا، اس کے بعد ایک مقامی عدالت کے فیصلہ کی آڑ میں تالاکھول تودیا گیا مگر مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے کا حق نہیں دیا گیا اور بالآخر 6 /دسمبر 1992کو تو آئین وقانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسے  شہید بھی کردیا گیا، انہوں نے کہا کہ ملک کے دستورمیں ہمیں جو اختیارات دیئے ہیں ان کا سہارالیکر ہم انصاف کی جنگ قانونی سطح پر لڑتے آئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آئندہ بھی لڑیں گے انہوں نے آگے کہاکہ مسلمان ملک کے آئین قانون اورعدلیہ پر مکمل یقین رکھتے ہیں ان کا پوری طرح احترام کرتے ہیں چنانچہ وہ اس معاملہ میں عدالت کے فیصلہ کے منتظرہیں۔

 

انہوں نے ایک بارپھر وضاحت کی کہ کسی وقف بورڈ یا اس کے صدرکو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ وقف شدہ آراضی کسی کو فروخت کرے یا تحفہ میں دے کیونکہ وہ صرف وقف کا نگراں اورمحافظ ہوتاہے، دوسرے وقف بورڈ کی حیثیت سرکاری ہوتی ہے، کل کو سرکاراگرچاہئے تو وقف بورڈ کو تحلیل یا ختم کرسکتی ہے تو کیا اس سے وقف اور وقف آراضی کی بھی حیثیت ختم ہوجائے گی؟ نہیں بالکل نہیں وقف آراضی کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی اور نہ ہی وقف کے تعلق سے شریعت کے حکم میں کوئی ترمیم ہوسکتی ہے۔ مولانا مدنی نے آخرمیں اپنے وکلاء کی ٹیم اور خاص طورپر ڈاکٹر راجیودھون، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان  کا اس بات کیلئے ایک بارپھرشکریہ اداکیا کہ انہوں نے نہ صرف مسجد کے حق میں ایک مؤثر بحث کی بلکہ عدالت کے سامنے تمام ثبوت وشواہد بھی بہتر اندازمیں رکھے اور مخالف فریق کے وکلاء کی بحث کا معقول جواب بھی دیئے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.