عیدالفطر کے موقع پر امیر جماعت اسلامی ہند کا پیغام جسے آپ کو پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہئے

مسلمانوں کو خدمت خلق اور انسانیت کے مسائل حل کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے: سید سعادت اللہ حسینی

وطن سماچار ڈیسک

مسلمانوں کو خدمت خلق اور انسانیت کے مسائل حل کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے: سید سعادت اللہ حسینی

عیدالفطر کے موقع پر امیر جماعت اسلامی ہند کا پیغام جسے آپ کو پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہئے 

نئی دہلی:امیر جماعت اسلامی ہند نے عید الفطر کے ٹھیک بعد ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو انسانیت کا سبق سکھایا ہے۔ ساتھ ہی امید ظاہر کی ہے کہ مسلمان نہ صرف اس کو پڑھیں گے بلکہ اس پر عمل بھی کریں گے۔ امیر جماعت اسلامی ہند، جناب سعادت اللہ حسینی نے تمام مسلمانوں کو عید کی مبارک باد دی اور اللہ سے دعا کی کہ اس موقع کو رحمت اور خوشحالی کا ذریعہ بنائے۔امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ ”یہ تاریخی اور انوکھی عید ہے۔ ہم ایک نئے دور کا آغازکررہے ہیں۔ اس سے پہلے ہم نے رمضان کابھی بالکل مختلف حالات میں اہتمام کیا۔ کووڈ-  19کی عالمی وبا کے دوران کربناک اور عبرتناک مناظر کے ساتھ ہم نے یہ رمضان گذارا۔ دلوں کو نرم کرنے اور انہیں خوف خدا اور احساس ذمہ داری سے معمور کرنے کے لئے اس سے بہتر ایام نہیں ہوسکتے۔ ہمیں خود کو بدلنا ہے اور اس کووڈ۔19 کے بعد کے دور میں ایک نیا اور مثبت رول ادا کرنا ہے۔“

 

سیدسعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ”اسلامی تہوار مسلمانوں کیاللہ سے تعلق کو بھی مضبوط کرتے ہیں اور اللہ کے بندوں سے صحیح رشتہ کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ عیدالفطر خدا کی عظمت اور بڑائی کا اعلان ہے۔ اسی وجہ سے مسلمان مسلسل ایسے کلمات کا ورد کرتے ہیں جن سے اللہ کی کبریائی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس وبا نے لوگوں کو اس بات کا موقع دیا ہے کہ وہ مالک کائنات کو سمجھیں اور اسے پہچانیں اور اس بات پر غور کریں کہ کس طرح مکمل کائنات اس کے قبضہ قدرت میں اور اس کے رحم و کرم پر ہے۔  یہ خدا کی نشانی ہے اور ہم سب کو اسے سمجھنا چاہیے اور خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔  امیر جماعت نے مزید کہا کہ نماز عید کی صف بندی اور تاحد نظر انتہائی منظم صفوں کا منظر، سماجی برابری، اتحاد اور نظم و ضبط کا اظہار و اعلان ہے۔ صدقہ فطر اور زکوۃ غریبوں، ضرورت مندوں اور پسماندہ افراد سے محبت اور ان کی دیکھ بھال کے جذبہ کا اظہار ہے۔ عالمی وبا کے بعد تباہ حال معیشت، بے روزگار خاندان، بھوک سے روتے بلکتے بچے، یہ سب مسائل اب ایک بڑا عِفرِیت بن کر آپ کے منتظر ہیں۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ عید کے پیغام اور اس کی اسپرٹ کو سمجھیں  اور اعتماد اور یقین کے ساتھ انسانوں کو کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کی طرف متوجہ کرنے کی مہم میں اور دوسرے انسانوں کی خدمت اور ان کے دلوں کو جیتنے کی جدوجہد میں مصروف ہوجائیں۔

امیر جماعت اسلامی ہند نے اس بات پر نہایت خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ لاک ڈاون کے دوران بڑے پیمانہ پر اور سرگرمی اور دلسوزی کے ساتھ جماعت سے وابستہ اور دیگر مسلمان نوجوانوں،بزرگوں اور خواتین نے انسانیت کی خدمت کی ہے اور کہا کہ انسانیت کے ان سچے خدمت گذاروں پر ہمیں فخر ہے اور ساتھ ہی انھوں نے اپیل کی کہ آئندہ بھی اس ملک کے تمام انسانوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھیں اور بلاتفریق مذہب و ملت تمام اہل وطن کی اس طرح خدمت انجام دیں کہ ہماری وہی  پہچان بن جائے جو انبیاء کی پہچان تھی، اپنی قوموں کے سچے اور مخلص خیر خواہ کی پہچان اور خدائے واحد کی بندگی کی طرف سارے انسانوں کو بلانے والوں کی پہچان۔امیر جماعت نے کہا کہ اگر پانچ فیصد مسلمانوں کی بھی یہ پہچان بن جائے تو ہم ضرور ظلمت دہر میں مطلع انواربن جائیں گے۔ ان شاء اللہ

You May Also Like

Notify me when new comments are added.