Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

انصاف کا اہم ذریعہ’امن‘ہے

سماجی اقتصادی حالات بتاتے ہیں کہ امن سے قبل انصاف پر اصرار کرنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ نہ تو انصاف کی فراہمی ہوتی ہے اور نہ ہی امن کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایسی فکر رکھنے والا طبقہ جو امن سے متعلق پہلے ہی منفی رججانات رکھتا ہو وہ انصاف کے تحفظ کے نام پر مستقل جدوجہد کرتا رہے گا۔ اس لئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انصاف پانے کیلئے امن براہ راست قابل عمل فارمولہ تو نہیں ہے البتہ ہمیں یہ محسوس کرنا چاہئے کہ پہلے حالات کو معمول پر لانے کیلئے امن قائم کریں کیونکہ یہی ایک ایسا فارمولہ ہے جو سوسائٹی کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مستقبل کیلئے مناسب پلاننگ کرسکے۔ پسندیدہ مقاصد جس سے انصاف کی حصولیابی ہوتی ہے اس تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو ان کی خواہشات کے احترام کے ساتھ بااختیار بنایا جائے۔ اسلامی قوانین کے بڑے بڑے جانکارو ں کی مانیں تو انصاف کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سماج میں امن کی اہمیت کو پوری شدت کے ساتھ اجاگر کیا جائے۔

وطن سماچار ڈیسک

انصاف کا اہم ذریعہ’امن‘ہے

محمد ہاشم(چوڑیوالان، دہلی)

 

مکرمی!

کسی سماج میں امن کے ذریعہ بہت جلدانصاف کو یقینی تو نہیں بنایا جاسکتا ہے جس سے تمام شہری فیضیاب ہوسکیں البتہ ایک پر امن ماحول معاشرہ کے لوگوں کو وہ موقع فراہم کرتا ہے جس سے وہ خود کو مثبت کردارمیں مشغول کرسکیں اور اپنی پوری قوت لگاکر اپنی سوسائٹی اور زندگی کی ترقی کیلئے صرف کرسکیں۔سماج کا ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جس کے نزدیک بغیر انصاف کے امن کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسے طبقہ کاکہنا ہوتا ہے کہ پہلے ان کے ساتھ انصاف ہو اور ان کے حقوق دیئے جائیں اس کے بعد ہی ’امن‘ کی ان کی زندگی میں کوئی اہمیت ہوسکتی ہے۔ مگر اس طبقہ کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ امن کا وجود ہی مواقع اور امکانات کا آغاز ہوتاہے جو انجام کارعوام کو انصاف فراہم کرتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ امن ایک ایسی مطلوبہ حالت ہے جو ایک انسان کو کچھ بننے کا موقع دیتی ہے، ہرشخص کو اس امن کے سہارے مواقع دستیاب ہوتے ہیں کہ وہ خود کے منصوبے تیار کریں اور وہ تمام چیزیں حاصل کریں  جو وہ چاہتے ہیں۔

سماجی اقتصادی حالات بتاتے ہیں کہ امن سے قبل انصاف پر اصرار کرنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ نہ تو انصاف کی فراہمی ہوتی ہے اور نہ ہی امن کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایسی فکر رکھنے والا طبقہ جو امن سے متعلق پہلے ہی منفی رججانات رکھتا ہو وہ انصاف کے تحفظ کے نام پر مستقل جدوجہد کرتا رہے گا۔ اس لئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انصاف پانے کیلئے امن براہ راست قابل عمل فارمولہ تو نہیں ہے البتہ ہمیں یہ محسوس کرنا چاہئے کہ پہلے حالات کو معمول پر لانے کیلئے امن قائم کریں کیونکہ یہی ایک ایسا فارمولہ ہے جو سوسائٹی کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مستقبل کیلئے مناسب پلاننگ کرسکے۔ پسندیدہ مقاصد جس سے انصاف کی حصولیابی ہوتی ہے اس تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو ان کی خواہشات کے احترام کے ساتھ بااختیار بنایا جائے۔ اسلامی قوانین کے بڑے بڑے جانکارو ں کی مانیں تو انصاف کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سماج میں امن کی اہمیت کو پوری شدت کے ساتھ اجاگر کیا جائے۔

 

وضاحت نامہ :یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے ۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سےوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے ۔ 


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.