فیصلہ نہایت افسوس ناک اور انصاف کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے: مولانا محمود مدنی

مولانا محمود مدنی نے ملک کے عام مفاد، نیک نامی اور انصاف کے تقاضوں کے مدنظر شدت سے یہ مطالبہ رکھا ہے کہ سی بی آئی کو اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کرنی چاہیے اور اسے یقینی بنانا چاہیے کہ اس فیصلے سے پیدا ہونے والے نقصانات سے ملک کو کیسے بچایا جاسکے۔

وطن سماچار ڈیسک

بابری مسجد کی شہادت میں ملوث تمام ملزمین کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اٹھائیس سال کے طویل انتظار کے بعد آج حیرت ناک طور پر باعزت بری کردیا۔اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہایت افسوس ناک اور انصاف کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے:جس طرح صریح شہادتوں کو نظر انداز کیا گیا اور اعلانیہ ملزمین کے شرمناک اور مجرمانہ عمل کی پردہ پوشی کی گئی ہے، اس کی نظیر مشکل سے ہی ملتی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں نہ انصاف کیا گیا ہے اور نہ اس میں کہیں انصاف دکھتا ہے، اس نے عدلیہ کی آزادی پر حال میں لگائے گئے سوالیہ نشان کو مزید گہرا کردیا ہے جو کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث اور جگ ہنسائی کا موجب ہے۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ تشویش ناک بھی ہے کیوں کہ جہاں ایک طرف اس سے فسطائی عناصر جو کہ دیگر مساجد کو نشانہ بنانے کے لیے پر تول رہے ہیں، انھیں شہ ملے گی اور ملک میں امن وامان کو زبردست خطرہ لاحق ہو گا، وہیں دوسری طرف ملک میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کے درمیان مایوسی پھیلے گی اور عدالتوں پر اعتماد میں کمی آنے کے باعث بہت سارے تنازعات پرامن طریقے سے حل کیے جانے کے بجائے زور زبردستی اور تشدد کے ذریعہ طے کرنے کا رواج قائم ہو گا۔ 

مولانا محمود مدنی نے ملک کے عام مفاد، نیک نامی اور انصاف کے تقاضوں کے مدنظر شدت سے یہ مطالبہ رکھا ہے کہ سی بی آئی کو اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کرنی چاہیے اور اسے یقینی بنانا چاہیے کہ اس فیصلے سے پیدا ہونے والے نقصانات سے ملک کو کیسے بچایا جاسکے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ 6/دسمبر کو بابری مسجد کو منہدم کرنا ایک مجرمانہ عمل تھا اور اس کے مرتکبین کو سزا ملنی چاہیے، 6/دسمبر 1992ء کو لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو ئے فسطائی طاقتوں، سیاسی لیڈروں اور ان کے متبعین نے اشتعال انگیز تقریریں کیں اور نعرے لگائے اور پھر مل کر پانچ سو سالہ قدیم بابری مسجد کو منہدم کردیا، ملکی اور بین الاقوامی میڈیا نے اس کے ویڈیو اور فوٹو بنائے اور جو آج بھی ریکارڈ میں موجود ہیں۔اس لیے یہ کہا جانا  کہ بابری مسجد کا انہدام سازش نہیں تھی، سراسر غلط ہے، کیوں کہ اتنی مضبوط عمارت کو کثیر وسائل کے بغیر اچانک منہدم نہیں کیا جاسکتا، اس سلسلے میں جسٹس لبراہن کمیشن کی رپورٹ بھی چشم کشا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے اسمعیل فاروقی کیس 1994کے فیصلے میں واضح طور سے کہا تھا کہ”جن لوگوں نے مسجد کو منہدم کیا ہے وہ کریمنل ہیں، ایسا کرنے والوں نے مجرمانہ اور شرمناک کام کیا ہے، ہندو سماج کو اپنے ہم مذہب لوگوں کے ایسے عمل پر نادم ہو نا چاہیے،انھوں نے نہ صرف ایک مذہبی عبادت خانہ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ملک کے قانون، سیکولرزم اور جمہوریت کے اصولو ں کو  بھی پامال کیا ہے“۔ حال میں بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں بھی سپریم کورٹ نے خاص طور سے کہا کہ ”بابری مسجد کی تعمیر کسی مذہبی ڈھانچہ کو توڑ کر نہیں کی گئی بلکہ 6/دسمبر کو ایک مذہبی ڈھانچہ منہدم کیا گیا،جو کچھ بھی اس دن انجام دیا گیا وہ ایک مجرمانہ عمل تھا اور ملک کے قانون کی شدید خلاف ورزی تھی۔“

You May Also Like

Notify me when new comments are added.