قاضی عبدالستار کی وفات اردو فکشن کے ایک روشن باب کا خاتمہ: ڈاکٹر شیخ عقیل احمد

Administrators

 

نئی دہلی،29اکتوبر: ممتاز فکشن نگار پدم شری قاضی عبدالستار کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ قاضی عبدالستار کی وفات سے اردو فکشن کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہوگیا۔انھوں نے اردو فکشن کو اقدار پر مبنی تہذیبی منظرنامے سے روشناس کرایا۔ زبان و بیان کی قوت سے اردو فکشن کو مالامال کیا۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے قاضی عبدالستار کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اردو کو بہت سے اہم تاریخی ناول دیے ہیں جن میں داراشکوہ، صلاح الدین ایوبی، خالد بن ولید قابل ذکر ہیں۔ 
اس کے علاوہ شب گزیدہ، حضرت جان، تاجم سلطان ان کے اہم ناول ہیں جو معاصر تنقیدی ڈسکورس کا حصہ ہیں۔ وہ صرف فکشن نگار نہیں تھے بلکہ ادب کے عمدہ پارکھ بھی تھے۔ ان کے بہت سے تنقیدی فقرے آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ اردو شاعری میں قنوطیت، جمالیات ان کی اہم تحقیقات ہیں۔ قاضی عبدالستار ایک سچے اور کھرے آدمی تھے۔ انھیں اپنی حق گوئی اور صداقت بیانی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا لیکن انھو ں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انھوں نے اپنی کجکلاہی آخری سانس تک قائم رکھی۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ قاضی صاحب نے مسلم یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے بہت اہم خدمات انجام دیں اوراپنے شاگردوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جس پر پوری ادبی دنیا ناز کرسکتی ہے۔ 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.