توہین رسالت پر پیغمبرؐ کا جواب

توہین رسالت کے ارتکاب پر کیا ہونا چاہئے اس بارے میں مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالی نے کچھ یوں بیان فرمایا ہے!’’اور اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کررہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ، یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہوجائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔( سورہ الانعام آیات نمبر 68)‘‘۔

وطن سماچار ڈیسک

 

توہین رسالت پر پیغمبرؐ کا جواب
مکرمی
توہین رسالت کے ارتکاب پر کیا ہونا چاہئے اس بارے میں مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالی نے کچھ یوں بیان فرمایا ہے!’’اور اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کررہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ، یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہوجائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔( سورہ الانعام آیات نمبر 68)‘‘۔
مذکورہ آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں توہین رسالت پر کسی سزا کا حکم نہیں دیا گیاہے۔ مستند روایات میں بھی توہین رسالت پر کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی ہے۔شریعت اور اسلامی روایات کا کہنا ہے کہ اگرکوئی فرد پیغمبر ، بزرگان دین اور اسلامی تعلیمات کیخلاف غلط زبان کا استعمال کرتا ہے تو اس سے دور ہوجاؤ، جیسا کہ اوپر کی آیت میں آیاہے ۔دنیا میں تمام مذاہب کاایک ہی مقصد ہے اور وہ لوگوں میں امن وشانتی کی تبلیغ واشاعت ہے۔ شریعت نے رواداری، برداشت اور باہمی افہام وتفہیم کو اصل رہنمائی قراردی ہے۔مگر اللہ تعالی کی اطاعت وفرمانبرداری پر مبنی احکام کو امن کی تبلیغ کی بجائے طبقہ کے اندر موجودچندغلط ذہنیت رکھنے والے لوگوں نے اپنے انداز میں بیان کرنا شروع کیا اور لوگوں کی غلط رہنمائی کی، جس کی وجہ سے تشدد اور خوف کو جگہ ملی اور موجودہ فرانس میں یہی کچھ دیکھاگیاہے۔
عبداللہ بن ابی (منافقین کا سردار) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل توہین کرتا اور آپ کے پیغام امن کی مدینہ منورہ میں ہمیشہ مخالفت کرتارہتاتھا۔جب وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز کیلئے کھڑے ہوئے، لیکن صحابہ کرام میں سے  کسی نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسولؐآپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھارہے ہیں جوکوئی دن نہیں چھوٹتا تھا جب آپ کے بارے میں الٹی سیدھی اور غلط سلط باتیں نہ کیا کرتاہواور یہ کہ وہ ایک منافق تھا، مگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کی بات نظر انداز کردی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ صحیح بخاری، جلد 6 بک 60، نمبر 192 )۔ متعدد ایسی مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ حضرت محمدؐنے اپنی توہین اور بے ادبی کرنیوالے کسی شخص کیلئے سزا کا حکم نہیں فرمایا۔ ایسے لوگوں کو  توہین رسالت کا مرتکب قرار دینے کی بجائے آپؐ نے ہمیشہ معاف کردیا اور رحمدلی کا معاملہ فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے ساتھ محبت کا معاملہ فرماتے کیونکہ آپ سمجھ رہے تھے کہ ان میں سے بیشتر لوگ اسلام کی حقانیت جانتے ہیں اور ان کے راہ راست پر آنے کی امید ہے۔انسانی فطرت باہمی محبت، برداشت ، ضمیر کی آزادی اور عقیدے پر منحصر ہے۔انسانی مستقبل کی برقراری اسی میں ہے کہ مختلف مذاہب کے مابین افہام وتفہیم کا معاملہ کھلا رکھا جائے، ایسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مشعل راہ ہیں اور نفرت نیز  دیگر طبقات ومذاہب کو ذہنی تکلیف پہنچانا ٹھیک نہیں۔ 
محمد ہاشم 
چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی- 6
وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جوابدہ نہیں ہےاور نہ ہی جوابدہ ہوگا۔ نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.