دہلی اقلیتی کمیشن نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کو ایوارڈز دئے

ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ پریس یا میڈیا تمام جمہوری ممالک میں جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتاہے۔ متناسب سیاسی نظام اور صحتمند معاشرے کے لئے ایک آزاد پریس ضروری ہے۔ یہ حکمرانوں اور عام شہریوں دونوں کو آئینہ دکھاتا ہے۔ آزادانہ پریس کے بغیر، آمریت اقتدار پر قبضہ کرے گی اور صرف حکمراں کی آواز سنائی دے گی کیونکہ کوئی اس سے پوچھ گچھ نہیں کرپائے گا۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ صحافی معاشرے کا ضمیر ہے لیکن اس وقت ہمارے ملک میں میڈیا سخت دباؤ میں ہے اور اس کے ایک حصے نے آقا کی آواز کے طور پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ پھر بھی ہمارے درمیان بہت سے بہادر اور باضمیر صحافی موجود ہیں جو اپنے فرائض پورے ایمانداری سے نبھا رہے ہیں اور دہلی اقلیتی کمیشن کے منتخب کردہ صحافی اسی نوعیت کے ہیں۔

وطن سماچار ڈیسک

دہلی اقلیتی کمیشن نے  پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا  کے صحافیوں کو  ایوارڈز دئے

نئی دہلی، 15 جون 2020: دہلی اقلیتی کمیشن نے آج منتخب شدہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کو ایوارڈ  دئے جو اقلیتوں کے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور عام آدمی سے انصاف کے لئے کام کرتے ہیں۔ کمیشن  کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے تقریب میں موجود  تمام انعام یافتگان کو شیلڈز اور ایوارڈز  کیکتابچے  پیش کئے۔

ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ پریس یا میڈیا تمام جمہوری ممالک میں جمہوریت کا چوتھا ستون  مانا جاتاہے۔ متناسب سیاسی نظام اور  صحتمند معاشرے کے لئے ایک آزاد پریس ضروری ہے۔ یہ حکمرانوں اور عام شہریوں دونوں کو آئینہ دکھاتا ہے۔ آزادانہ پریس کے بغیر، آمریت اقتدار پر قبضہ کرے گی اور  صرف حکمراں کی آواز  سنائی دے گی کیونکہ کوئی  اس سے پوچھ گچھ نہیں کرپائے گا۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ صحافی معاشرے  کا ضمیر ہے لیکن اس وقت ہمارے ملک میں میڈیا سخت دباؤ میں ہے  اور اس کے ایک حصے نے  آقا کی آواز کے طور پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ پھر بھی  ہمارے درمیان بہت سے بہادر اور باضمیر صحافی موجود ہیں  جو اپنے فرائض پورے ایمانداری سے نبھا رہے ہیں اور دہلی اقلیتی کمیشن  کے  منتخب کردہ صحافی اسی نوعیت کے ہیں۔

پچھلے چار دنوں کے دوران، کمیشن نے دہلی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اقلیتی طلباء، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے لئے کارکنان، این جی اوز، اردو اور پنجابی زبانوں کے فروغ دینے والیوں، کھلاڑیوں، بہترین اساتذہ  اور سماجی خدمت کرنے والوں کو  ایوارڈز سے نوازا۔

کمیشن نے اس سے قبل ایوارڈز دسمبر 2018 میں وگیان بھون میں منعقدہ ایک یادگار تقریب میں تقسیم کیے تھے لیکن اس بار، کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے  ایک بڑی تقریب کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔ لہذا کمیشن سماجی دوری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دفتر میں چھوٹے چھوٹے فنکشن منعقد کرکے یہ کام انجام دے رہا ہے۔

رواں سال الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ایوارڈز کے لئے منتخب صحافیوں کی فہرست یہ ہے: گورپریت سنگھ سیٹھی (فوٹوگرافر اور مختصر فلمیں بنانے والے)، ایس امریک سنگھ کونیر (اکال چینل)، ایس گرپریت سنگھ بھوئی (اکال چینل)، مہتاب عالم (دی وائر اردو)، قربان علی (تجربہ کار ٹی وی، ریڈیو، پرنٹ اور نیٹ صحافی)، ابیسار شرما (بہادر ٹی وی صحافی)، لوسی گبریل چٹوپادھیائے (آل انڈیا ریڈیو  فارن سروس)، مبین احمد خان  (آل انڈیا ریڈیو)، حمرا قریشی (ماہر مصنفہ، کالم نگار، صحافی، کتاب جائزہ نگار اور مصنف)، معصوم مراد آبادی (مشہور اردو صحافی)، سہیل انجم (مشہور اردو  صحافی)، محمد انجم (انقلاب)، شاہین عبد اللہ (پرعزم نوجوان صحافی)، آدتیہ مینن (عوام کے حالات پر گہری نظر رکھنے والا صحافی)۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.