Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے وزیراعظم کو لے کر مثبت قرارداد پاس کی، ساتھ ہی

جماعت اسلامی نے امید ظاہر کی کہ عوامی نمائندے لوگوں کی امیدوں پر کھرے اتریں گے

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس شانتاپورم کیرلہ میں امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں تمام ہی ارکان شوریٰ اور مدعوئین خصوصی نے شرکت کی۔ اجلاس نے ملک اور دنیا کے حالات پر درج ذیل قراردادیں منظور کیں۔

  • عام انتخابات2019

                جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس لوک سبھا انتخابات میں کامیاب امیدواروں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اس اعتماد کی لاج رکھنے کی ہرممکن کوشش کریں گے جو ملک کے عوام نے ان پر کیا ہے۔ اجلاس کے نزدیک انتخابی مہم اور اس میں زیر بحث موضوعات کئی پہلووں سے باعث تشویش ہیں۔ اس انتخاب میں ملک کو درپیش اہم مسائل اور مشکلات پر بہت کم بحث ہوپائی ہے۔ بہت سے امیدواروں نے اپنی تقریروں اورمباحث میں معروف جمہوری و اخلاقی قدروں کو بری طرح پامال کیا ہے اور راشٹرواد اور قوم پرستی کے نام پر جذبات کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

                یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ ملک کی بھلائی اسی میں ہے کہ ووٹ دیتے وقت عوام امیدواروں کے نظریات، پروگرام اور سابقہ کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور جذباتی نعروں کے بجائے معقول بنیادوں پر اپنی رائے کا استعمال کریں۔ اب جب کہ نتائج سامنے آچکے ہیں سنجیدہ عوامی حلقوں کو چاہیے کہ حکومت کو اس کی ان اصل ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں جن کا تعلق عوام کی فلاح و بہبود سے ہے۔

                یہ اجلاس وزیر اعظم کے اُس بیان کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں انہوں نے انتخاب کے بعد پارٹی کے منتخب ممبران سے خطاب کرتے ہوئے ان سے اقلیتوں کا اعتماد جیتنے کی اپیل کی تھی۔ اجلاس کے نزدیک یہ بیان قابل ستائش ہے۔ لیکن یہ بات باعث افسوس ہے کہ اعلان کے فوری بعد حکومت کے متعدد اقدامات اس اعلان کی روح سے راست متصادم ہیں۔ پہلے ہی کابینی اجلاس میں تین طلاق بل کو از سرُنو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ یہ بل دومرتبہ ایوان میں رد ہوچکا تھا اور ملت اسلامیہ بالاتفاق اس بل کو غلط قرار دے چکی تھی۔ اسی کے ساتھ وزیرداخلہ بھی این آر سی کو پورے ملک تک وسیع کرنے کی بات کررہے ہیں۔ شوری کا احساس ہے کہ یہ اقدام ملک میں افتراق و انتشار کا سبب بنے گا اور متعدد شہریوں خصوصاً مسلمانوں کو پریشانیوں میں مبتلا کرے گا۔

  • آسام میں این آر سی کا مسئلہ:

                مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس آسام میں این آر سی کے ذریعہ لاکھوں شہریوں بالخصوص مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیے جانے اور ان کے دستوری و آئینی حقوق سلب کئے جانے کی کوششوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے- جن افراد کو این آر سی کی لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا اب انھیں ٹرینبونل کے سامنے مزید دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے لئے کہا گیا ہے تاہم ٹریبونل جس طرح من مانی طریقوں سے ان ثبوتوں کو قبول کرنے سے انکار کررہا ہے اور محض معمولی سی املے کی غلطی پر ان دستاویزات کو رد کررہا ہے اس سے ٹریبونل کی غیر جانبداری مشکوک ہوگئی ہے۔ گھر کا ایک فرد بھی اگر اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہا تو تمام اہل خانہ کا این آر سی میں اندراج نہ کرنا ایک ظالمانہ اور مجرمانہ فعل ہے۔ ٹریبونل کے ردکئے جانے کے بعد تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔

                مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس پارلیمنٹ میں پیش کردہ سٹی زن شپ بل کو غلط، جانبدار اور امتیازی تصور کرتا ہے جس میں پڑوسی ممالک سے آنے والے مسلمانوں کے علاوہ تمام غیر ملکی تارکین وطن کو شہریت فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اجلاس کا احساس ہے کہ آسام میں جن غیر مسلم حضرات کو غیر ملکی قرار دیا گیا ہے اس نئے قانون کے ذریعہ انہیں دوبارہ شہریت عطا کردی جائے گی اور صرف مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیا جائے گا۔ یہ بل نہ صرف یہ کہ فرقہ وارانہ ذہنیت کا غماز ہے بل کہ ملک کے تکثیری حیثیت اور دستور بند کی بنیادی اقدار اور تصورات کے بھی منافی ہے۔ لہذا مجلس شوری مطالبہ کرتی ہے کہ اس بل کو واپس لیا جائے یا اس میں ترمیم کرکے مذہب کی بنیاد پر اس کی امتیازی حیثیت کو ختم کیا جائے۔

  • بر بریت اور لاقانونیت کا بڑھتا رجحان:

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک میں بربریت، تشدد اور لاقانونیت کے بڑھتے رجحان  پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ شوریٰ کا احساس ہے کہ ملک میں اخلاقی گراوٹ بڑھ رہی ہے اور دہشت و بربریت عام ہو رہی ہے۔ بے حیائی، تعصب اور تنگ نظری کو فروغ مل رہا ہے۔ کمزور افراد اور طبقات پر زیادتیاں اور مظالم اس رجحان کی واضح علامات ہیں۔ دوسری جانب بچیوں پر مجرمانہ حملے، بدکاری اور زنا بالجبر کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اقلیتوں اور دلتوں وغیرہ کو شر پسند عناصر اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ہجومی تشدد کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اس طرح وحشیانہ رویہ کو قابل قبول بنا دیا گیا اور سماج کے اچھے عناصر مجرموں اور شرپسندوں کے آگے بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ 

  • مصر کے صدر محمد مرسی کی مظلومانہ شہادت:

                جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی ناگہانی وفات پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ جن حالات میں ان کی موت ہوئی ہے وہ بہت سارے شکوک پیدا کرتی ہے۔ مصری حکومت کے موقف کے علی الرغم آزاد ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ ایک حراستی قتل ہے جس کا ارتکاب موجودہ غاصب حکومت اور اس کے خود ساختہ صدر اور ڈکٹیٹر عبدالفتاح سیسی نے کیا ہے، یہ اجلاس دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مرسی کی شہادت کو قبول فرمائے، انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے(آمین)

                شوریٰ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ  اور دیگر عالمی اداروں نیز دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مصری حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس قتل کی آزادانہ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کروائے۔ یہ اجلاس مصری حکومت کے اس رویہ کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی قبرستان میں کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی اجتماعی و عمومی طور پر ان کی نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دی گئی۔ اس طرح ظالم حکومت نہ صرف اخوان المسلمون بلکہ دنیا کے تمام دین پسند اور انصاف پسند انسانوں کی دل آزاری کی مرتکب ہوئی ہے۔ تاہم دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں انصاف پسند اور حق پسند مسلمانوں نے قطع نظر مسلک اور نظریہ کے مرحوم محمد مرسی کی نماز جنازہ پڑھی جس سے اس مرد مجاہد کی عنداللہ مقبولیت اور عوام کے خراج تحسین کا پتہ چلتا ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.