Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

پختہ ثبوت کی جگہ آستھا کی بنیادپر پیش کیا جارہا ہے دعویٰ

رام للااس معاملہ میں براہ راست فریق نہیں ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹرراجیودھون کی دلیل اس روز ریاستی وزیر کا جو بیان تھا جمعیۃعلماء ہندکے وکلاء نے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی اور اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار بھی کیاتھا مگر افسوس کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور قابل اعتراض بیانات کا سلسلہ رک نہیں رہاہے اس لئے ہم عدالت سے یہ درخواست کریں گے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے نوٹس لے اور جولوگ اس طرح کے بیانات سے ماحول کو خراب کرنے کی دانستہ کوششیں کررہے ہیں ان کو قانون کی گرفت میں لایاجائے، مولانا مدنی نے کہا کہ اب جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اس پر حتمی بحث چل رہی ہے اس طرح کے بیانات کا سامنے آنا عدالت کی توہین کے مترادف ہے،

وطن سماچار ڈیسک

بابری مسجد ملکیت مقدمہ
 نئی دہلی 16 ستمبر:بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں روزانہ سماعت کاآج 24 واں دن تھا جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کے سامنے اس معاملہ کی ایک اہم فریق رام للا کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت میں اٹھائے گئے مدعوں پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ1985 سے پہلے تک اس معاملہ میں رام للا فریق تھا ہی نہیں بلکہ سوئم بھؤ(اچانک وجودمیں آجانا) کے تحت اسے بھی فریق بنا دیا گیا حالانکہ ہمیشہ سے نرموہی اکھاڑہ نے ہی متنازعہ اراضی پر اپنا دعوی پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر راجیودھو ن نے گذشتہ ایک ہفتہ کی سماعت کے دوران نرموہی اکھاڑہ کی قانونی حیثیت اور وقت کے ساتھ ان کے بدلتے دعوؤں پر بحث کرتے آئے ہیں، جس کے اختتام کے بعد ڈاکٹر دھون نے رام للا کی قانونی حیثیت پر بحث شروع کردی ہے توقع ہے کہ ان کی یہ بحث اگلے ہفتہ تک جاری رہے گی۔ڈاکٹر راجیود ھو ن نے اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ رام للا اس معاملہ میں براہ راست فریق نہیں ہیں بلکہ Next Friend   یعنی کے قانونی مختار کے ذریعہ عدالت میں عرضداشت داخل کی گئی ہے نیز 1989 سے قبل Juristic Personality یعنی کے سوئم بھؤ(اچانک وجودمیں آجانا)نام کے کسی بھی فریق کا وجود نہیں تھا۔ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ ہندوستان کثیر مذہبی ملک ہے اور یہاں مذہبی عبادت گاہیں کثیر تعداد میں ہیں لہذا گر کسی پختہ ثبوت کے Next Friend یعنی کہ قانونی مختار کو عدالت قبول کرنے لگ جا ئے تو ہندوستان میں ہاہاکار مچ جائے گی،کوئی بھی شخص کھڑا ہوکر اپنا دعوی پیش کرنے لگ جائے گا۔ پانچ رکنی آئینی بیچ کو ڈاکٹر راجیو دھو ن نے مزید بتایا کہ کسی بھی چیز پر دعوی کرنے کے لیئے مثبت اور پختہ ثبوت ہونے چاہئے لیکن اس معاملہ میں بجائے مثبت اور پختہ ثبوت پیش کرنے کے صرف عقیدے کی بنیاد پر دعوی پیش کیا جارہا ہے نیز اس معاملے میں چند لوگ حقیقی بھگت ہیں جبکہ بیشتر افراد مندر پر قبضہ چاہتے ہیں اور انہوں نے سو ٹ اسی لیئے داخل کیا تھا کہ ان کا دعوی تھا کہ رام للا کا جنم اسی جگہ پر ہوا تھا لیکن کیا ان کے دعوے پر سوال کھڑا نہیں کیا جاسکتا؟ اور کیا ان کی عرضداشت نے سول ٹیسٹ یعنی کے دعوے کے حقیقی ہونے کے عمل کو پاس کیا ہے؟۔ڈاکٹر دھون نے عدالت کو بتایا رام للا کی مورتی کی عبادت ہمیشہ باہری صحن میں کی جاتی رہی ہے لیکن 1949 میں مورتی کو اندرونی صحن میں منتقل کردیا گیا تھا جس کے بعد سے ہی یہ مسئلہ بڑھتے چلا گیانیز اگر نیا مندر بنتا ہے تو اس پر قبضہ کس کا ہوگا َ؟ کیا مورتی کو اس میں فریق مانا جائے گا؟پانچ رکنی بینچ جس میں جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس ایم بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کے روبرو ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث آج نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔آج صبح عدالت کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی ڈاکٹر راجیو دھون نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک بند لفافہ دینے کی کوشش کی جس میں ای میل اور خطوط تھے جسے پہلے تو چیف جسٹس آف انڈیا نے لینے سے انکار کردیا پھر کچھ دیر بعد انہوں نے کورٹ اسٹاف کو کہا کہ اسے لیکر رکھ دیاجائے اس پر بعد میں کارروائی کیجائے گی۔بابری مسجد رام جنم ملکیت کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ کے بیٹھنے سے قبل چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کی قیادت والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس بوبڑے اور جسٹس نظیر شامل ہیں نے کے این گونداچاریہ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ کی سماعت کی لائیو اسٹریمنگ یعنی کہ براہ راست نشرکئے جانے والے معاملے میں رجسٹری سے پوچھا ہے کہ آیا ایسا کیا جاسکتا ہے یا نہیں لیکن اسی درمیان جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے پٹیشن پر اعتراض کرتے ہو ئے عدالت کو بتایا کہ اب جبکہ تقریباً نصف بحث مکمل ہوچکی ہے، لائیو اسٹریمنگ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے یعنی کہ اگر ایسا کرنا ہی تھا تو پہلے دن سے ہی لائیو اسٹریمنگ کی جاتی۔ بہرحال رجسٹری کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی عدالت اس تعلق سے فیصلہ کریگی۔ دوران بحث عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کرنے کے لئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ  شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قرۃ العین، ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ ایشامہرو و دیگر موجود تھے۔ دریں اثناء جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی بی جے پی لیڈرسبرامنیم سوامی کے تازہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے اور یہ سوال بھی کیا ہے کہ آخر اس بیان کا کیا مطلب نکالاجائے؟ کیا یہ دھمکی کی زبان نہیں ہے اور کیا یہ عدالت کی توہین کا معاملہ نہیں ہے؟قابل ذکر ہے کہ سبرامنیم سوامی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ جب چاہیں گے رام مندرکی تعمیر کرلی جائے گی مگر عدالت کے احترام میں اکثریت طبقہ ابھی تک خاموش ہے، مولانا مدنی پوچھا کہ کیا اس طرح کی بات کہنا اکثریت کواکسانے اور اشتعال دلانے جیسانہیں ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اس بیان میں سبرامنیم سوامی نے آگے بڑھ کر یہ بات بھی کہہ دی ہے کہ اس معاملہ کا فیصلہ آنے کہ بعد متھرااورکاشی کو مسجد سے آزادکرانا ان کا مشن ہوگا اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ خاموش بیٹھنے والے نہیں ہے بلکہ ان کے خطرناک منصوبے کچھ اور بھی ہیں، واضح ہوکہ اپنے اسی بیان میں سوامی نے یہ بھی کہا ہے کہ ایودھیاقضیہ کا فیصلہ آستھاکی بنیادپر ہی آئے گا، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ آخرسبرامنیم سوامی کس بنیادپر ایسا کہہ رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ بارباریہ وضاحت کرتی آئی ہے کہ یہ آستھانہیں بلکہ زمین کی ملکیت کا معاملہ ہے، انہوں نے کہا کہ ابھی چندروزپہلے اترپردیش کے ایک وزیر نے بیان دیا تھا کہ سپریم کورٹ ان کی ہے اس لئے فیصلہ ان کے حق میں آئے گا اور اب بی جے پی کے ایک سینئر لیڈربھی کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ آستھا کی بنیادپر ہی آئے گا اسے کیا سمجھا جائے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس روز ریاستی وزیر کا جو بیان تھا جمعیۃعلماء ہندکے وکلاء نے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی اور اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار بھی کیاتھا مگر افسوس کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور قابل اعتراض بیانات کا سلسلہ رک نہیں رہاہے اس لئے ہم عدالت سے یہ درخواست کریں گے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے نوٹس لے اور جولوگ اس طرح کے بیانات سے ماحول کو خراب کرنے کی دانستہ کوششیں کررہے ہیں ان کو قانون کی گرفت میں لایاجائے، مولانا مدنی نے کہا کہ اب جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اس پر حتمی بحث چل رہی ہے اس طرح کے بیانات کا سامنے آنا عدالت کی توہین کے مترادف ہے،

You May Also Like

Notify me when new comments are added.