مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

روحانیت سے امن، یکجہتی اور خوشحالی کی امید

بھارت صوفی سنتوں کی سر زمین ہے۔ یہاں مہاویر، گوتم بدھ، بھلے شاہ، کبیر، بابا فرید، داتا گنج بخش علی حضوری، سنت روداس، گرو نانک، معین الدین چشتی، سوامی ویویکا نند جیسی عظیم شخصیات نے جنم لیا۔ انہوں نے روحانیت کے ذریعہ سماج کو نئی سمت دی۔ امن، شانتی، یکجہتی، رواداری، یکسانیت اور ایک دوسرے کو عزت دینے کا سبق پڑھایا۔ اس کی وجہ سے تکثیریت کے باوجود لوگوں میں اتحاد، محبت، اخوت اور مدد کا جزبہ پیدا ہوا۔ ساتھ مل کر خوشی منانے کی روایت نے گنگا جمنی تہذیب کی شکل اختیار کر لی۔ اس لئے دنیا نے بھارت کو سونے کی چڑیا اور دیوتاؤں کا مقام مانا جہاں سب کیلئے جگہ تھی۔ یہاں جو بھی آیا اس کا کھلے دل سے استقبال ہوا۔ وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کسی کو غیر نہیں مانا کیونکہ ہمارا ’واسو دیوا کٹمب کم‘ میں یقین رہا ہے۔چاروں طرف مندر، مسجد، گردوارے اور چرچ ہیں۔ جو پیار، شانتی، خوشی کا پیغام دیتے ہیں۔ بھارت نے سدا دیا ہی دیا ہے، دنیا کو آج بھی امید ہے کہ ایک بار پھر بھارت امن، اتحاد اور خوشحالی کا راستہ دکھا سکتا ہے۔

گیسٹ کالم
فائل فوٹو

روحانیت سے امن، یکجہتی اور خوشحالی کی امید

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

دنیا نسلی، مذہبی عصبیت، نابرابری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، دہشت گردی اور آلودگی سے جوجھ رہی ہے۔ لوگ آپس میں متصادم ہیں اور ممالک بالادستی کیلئے برسرپیکار۔ ترقی کے نام پر فطرت کے ساتھ کھلواڑ ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گلیشئر پگھل رہے ہیں اور سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی ساحلی علاقوں پر ڈوبنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ انسان محرومی کا شکار ہو کر تناؤ اور غصہ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ اس کی زندگی میں قرار نہیں ہے جس کے چلتے نئی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دنیا میں مختلف مذاہب، علوم، تصورات اور نظریات موجود ہیں لیکن انسان کے دکھوں کی دوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس لئے دنیا روحانیت میں اپنے سوالوں کے جواب، امن، سکون اور اطمینان تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پتن نے کئی سال قبل دہشت گردی سے نجات کیلئے روحانیت کو فروغ دینے پر زور دیا تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بھارت میں صوفی کانفرنس منعقد کرائی تھی۔ خود مہاتما گاندھی کا عدم تشدد کا نظریہ روحانیت سے ماخوذ ہے۔ انگریزوں نے راجہ، مہاراجہ، بادشاہ اور نوابوں کو ہی غلام نہیں بنایا بلکہ روحانی تعلیم کو ختم کرنے کیلئے گرؤں اور صوفیاء کو بھی قتل کرایا۔ انہوں نے خانقاہ اور گروکل کے نظام کو درہم برہم کر دیا۔ صوفی اور گرو سب کو یکساں تعلیم دیتے تھے۔ اپنی زندگی سے جینے کا طریقہ اور سنسکار (قدریں) سکھاتے تھے۔ انگریز جانتے تھے کہ اگر یہ نظام یوں ہی باقی رہا تو ایک نہ ایک دن بھارت آزاد ہو جائے گا۔ انگریز روحانیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ گاندھی کے عدم تشدد نے اخلاقی طور پر انگریزوں کو ہرا دیا تھا۔ ان کے روحانی تصور سے نہ صرف بھارت کے لوگ جوڑے بلکہ خود برطانیہ کے عوام بھی ان کے حامی ہو گئے۔ مگر گاندھی کی فکر پر ان کی شہادت کے ساتھ ہی بریک لگ گیا۔ ونووا ابھاوے اور نرملا دیش پانڈے کے ذریعہ گاندھیائی سوچ کو آگے بڑھانے کی کوشش تو کی گئی لیکن وہ عوامی غور و فکر کا مرکز نہیں بن سکی۔ آج گاندھی کو نوٹ پر چھپی تصویر اور صفائی مہم تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ان کے نام پر سیاسی مفادات سادھنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن ان کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔

بھارت صوفی سنتوں کی سر زمین ہے۔ یہاں مہاویر، گوتم بدھ، بھلے شاہ، کبیر، بابا فرید، داتا گنج بخش علی حضوری، سنت روداس، گرو نانک، معین الدین چشتی، سوامی ویویکا نند جیسی عظیم شخصیات نے جنم لیا۔ انہوں نے روحانیت کے ذریعہ سماج کو نئی سمت دی۔ امن، شانتی، یکجہتی، رواداری، یکسانیت اور ایک دوسرے کو عزت دینے کا سبق پڑھایا۔ اس کی وجہ سے تکثیریت کے باوجود لوگوں میں اتحاد، محبت، اخوت اور مدد کا جزبہ پیدا ہوا۔ ساتھ مل کر خوشی منانے کی روایت نے گنگا جمنی تہذیب کی شکل اختیار کر لی۔ اس لئے دنیا نے بھارت کو سونے کی چڑیا اور دیوتاؤں کا مقام مانا جہاں سب کیلئے جگہ تھی۔ یہاں جو بھی آیا اس کا کھلے دل سے استقبال ہوا۔ وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کسی کو غیر نہیں مانا کیونکہ ہمارا ’واسو دیوا کٹمب کم‘ میں  یقین رہا ہے۔چاروں طرف مندر، مسجد، گردوارے اور چرچ ہیں۔ جو پیار، شانتی، خوشی کا پیغام دیتے ہیں۔ بھارت نے سدا دیا ہی دیا ہے، دنیا کو آج بھی امید ہے کہ ایک بار پھر بھارت امن، اتحاد اور خوشحالی کا راستہ دکھا سکتا ہے۔

روحانی قدروں کو فروغ دینے کا کام آج بھی جاری ہے۔ برہما کماری تنظیم خاموشی سے اس خدمت کو انجام دے رہی ہے۔ 140 ممالک میں ان کے 8 ہزار سے زیادہ مراکز میں 40 ہزار سے زیادہ بہنیں اس کام کو کر رہی ہیں۔ یہ واحد ادارہ ہے جس کا انتظام خواتین کے ہاتھ میں ہے۔ برہما کماری کے بین الاقوامی مرکز ماؤنٹ آبو میں میڈیا کے ذمہ دار کرونا بھائی نے بتایا کہ ہم ایک ایشور میں دھیان لگانے کی تعلیم دیتے ہیں۔ خود کو جاننا اور تلاش کرنا ہی روحانیت ہے۔ اپنی زندگی کو بدل کر ہی دوسروں کو بدلنے کا کام کیا جا سکتا ہے۔ صبر سے رویئے اور سلوک میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے۔ 1936 میں بنی اس تنظیم کے فاونڈر نے طے کیا کہ خواتین کو بااختیار ہونا چاہئے۔ اگر گھر کو سدھارنا ہے تو گھر کی ماں کو تعلیم یافتہ بنانا ہوگا۔ انہیں جینے کا طریقہ اور اخلاقی اقدار سکھانی ہوں گی۔ آج بہنیں اس تعلیم کو سیکھ کر اپنی زندگی سے پوری دنیا میں دوسروں کو بدلنے کا کام کر رہی ہیں۔ آپ بدلیں گے تو گھر بدلے گا، اجتماعی تبدیلی سے سماجی بدلاو کی امید کی جا سکتی ہے۔ یہ تبدیلی روحانیت کی تعلیم کے ذریعہ ممکن ہے۔

کرونا بھائی نے بتایا کہ ہم مذہب، زبان، رنگ اور علاقے کی بات نہیں کرتے۔ نہ ہی عقیدہ یا رسم و رواج پر بات کی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں سب آتے ہیں، ہم کسی کا مذہب نہیں بدلتے، ہاں من ضرور بدلتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایک ایشور، ایک دنیا اور ایک خاندان ہے۔ جب ہم سب ایک ہیں اور سب کو ایک ہی ایشور نے پیدا کیا ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا۔ ہم مانتے ہیں کہ ایک ایشور کا دھیان کرنے سے ہی امن اور اتحاد پیدا ہوگا۔ اتحاد ہوگا تو پھر خوشحالی اپنے آپ آئے گی۔ ہماری بہنیں دھیان کرنا سکھاتی ہیں، شروع میں ذہن بھٹکتا ہے۔ منٹوں میں کہاں کہاں گھوم آتا ہے، مگر جب سیکھ جاتے ہیں تو خود دھیان کرنے لگتے ہیں۔ ہم دس لاکھ خاندانوں کا پتہ دے سکتے ہیں جن کی زندگی میں اس تعلیم سے تبدیلی آئی ہے۔

ستمبر کے آخر میں برہما کماری میں منعقد ہوئے گلوبل سمٹ کا ماؤنٹ آبو میں نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو نے افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا انتخاب ہے کہ ہم دنیا میں دہشت گردی، خون خرابہ چاہتے ہیں یا امن شانتی۔ امن کیلئے پورے عالم کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ اس ضمن میں برہما کماریز کا کام قابل قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خیال پہلے انسان کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ میڈی ٹیشن (راج یوگ) روحانیت کے علم کے ذریعہ دنیا میں سچی شانتی، ایکتا، ہم آہنگی اور خود مختاری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ روحانیت میں وہ طاقت ہے جو دنیا کو اتحاد کے دھاگے میں باندھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روحانیت انسان کی اندر باہر سے صفائی کرتی ہے۔ من صاف ہوگا تو خیال بھی اچھے آئیں گے۔ اس کا نیچر میں دل لگے گا تو وہ اس سے کھلواڑ کرنے سے بچے گا۔ اور ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔ برہما کماریز ماحولیات کے تحفظ کے لئے بھی اہم کام کر رہی ہے۔ اختتامی اجلاس میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ کئی ممالک آپس میں لڑ رہے ہیں، تشدد کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں جنگ کا تناؤ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں بھارت امن، یکجہتی اور خوشحالی کا پیغام دے رہا ہے۔ انہوں نوجوانوں کو روحانیت سے جوڑنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ برہما کماری نے اسکول، کالجوں کے نصاب میں اقدار کی تعلیم کو شامل کیا ہے۔ اس سے نوجوانوں کا روحانیت کی طرف رجحان بڑھے گا۔ ان کو نئی راہ ملے گی۔ نوجوانوں کی طاقت کو یہ ادارہ صحیح سمت میں لگا رہا ہے۔ انہیں روحانیت سے جوڑ کر سماج سدھار کے کاموں سے جوڑ رہا ہے۔ یہاں سے تعلیم لے کر جو نوجوان تیار ہو رہے ہیں۔ ان سے ملک کا مستقبل بہتر ہوگا اور نئے بھارت کی تعمیر ہوگی۔

اس وقت دنیا کو پیار کی ضرورت ہے۔ لوگوں کے بیچ کام کرنے سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ صوفیا کرام نے عوام کے درمیان پیار، محبت، اخوت اور یکجہتی کی جو روایت قائم کی تھی۔ ہم نے اسے آگے بڑھانے کے بجائے ان کے نام پر کاروبار شروع کر دیا۔ پیار کا کاروبار چھوڑ دیا جس کی وجہ سے آج ہم سے کوئی  پیار نہیں کرتا۔ ہم اپنوں کے ہی بیچ بیگانے ہو کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کو محبت سے جیتنے والے خود نفرت کا شکار ہو رہے ہیں۔ کاش اپنے رویہ کی تبدیلی پر غور کرنے کو تیار ہوں۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.