دعوت پورٹل کے اجراء پر جماعت اسلامی کے ذمہ داران سے کچھ اہم سوال!

واضح رہے کہ مرکز جماعت اسلامی ہند میں منعقد ہفت روزہ دعوت کے افتتاحی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ صحافت اندھیرے میں چلنے والے مسافروں کے ہاتھ میں مشعل کے مانند ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ راستے کے اتار چڑھاؤ اور دشمن و موذی جانوروں کے پیتروں سے واقف اور روشناس ہوتا ہے۔ اس مشعل اور ٹارچ کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں صحافت کو مختلف چیلنجیز درپیش ہیں۔ post-truthاورpost-human rights کا ولولہ پوری دنیا میں مچا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں سچائی پوری طرح سے دب رہی ہے۔ خبروں اور انفارمیشن کا ہجوم ہے۔ اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ سچائی اور حق کی آواز کو مظبوتی دی جائے اور اسے بلند کیا جائے۔ امیر جماعت نے کہا کے دعوت ان تقاضوں کی تکمیل کرے گا۔

وطن سماچار ڈیسک

نئی دہلی:ہفت روزہ دعوت کے افتتاحی تقریب میں امیر جماعت اسلامی ہند انجینئر سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ دعوت کے طویل سفر میں جن اعلیٰ قدروں اور صحافت کے جن اعلیٰ معیار کو بر قرار رکھا گیا ہے، ان کی پاسبانی ہوگی اور نئے تقاضوں، جن کے پیش نظر نئے ہفت روزہ کی لانچنگ کی گئی ہے، اس کی تکمیل ہوگی۔

اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جماعت کے ذمہ داران سے یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ کیا پرانے لوگ ان تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے؟ اگر نہیں تو پھر ان کو جماعت سے جوڑا کیوں گیا؟ سوال یہ ہے کہ ایک جھٹکے میں کسی کو یہ کہہ دینا کہ کل سے ہم آپ کی خدمات نہیں لیں گے اور یہ کہہ کر آپ میڈیا سے دور ہوجائیں اور کوئی جواب تک دینے والا نہ ہو تو بہر حال سوال اٹھتا ہے۔ یہ چیز یہ بتاتی ہے کہ کہیں نہ کہیں آپ کسی ایسی پالیسی پر کام کررہے ہیں جو بہر حال کل کو آپ کے لئے بھی خطر ناک ہوسکتی ہے۔

Dawat weekly launching program 2.jpg

 اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی ہند نے اپنے ذمہ داران کو نوٹس تک نہیں دیا اور ایک دن نوٹس بورڈ پر یہ نوٹس چسپاں کر دیاگیاکہ جماعت اسلامی ہند کا سہ روز دعوت اب نہیں چلے گا اور اسے بند کیا جارہا ہے، مع السلام۔ سوال یہ ہے کہ اگر بند کرنا اور نئے سرے سے اس کو شروع کرنا تھا تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر اس کی تشہیر کیوں کی گئی کہ دعوت اب تو بند ہی ہورہا ہے؟ اس کی میڈیا میں وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟کیا اس تشہیر کے ذریعہ پیسہ کمانا مقصد تھا یا کوئی اور؟ اگر پیسہ کمانا مقصد نہیں تھا اور دعوت شروع کرنے کا نئے سرے سے ارادہ بھی تھا تو یہ سب پروپیگنڈہ کیوں؟

اطلاعات کے مطابق پرانی ٹیم میں تو ایسے لوگ بھی تھے جو نہ صرف دعوت کے نئے سسٹم پر سوفیصد کھرے اترتے ہیں بلکہ دعوت کے نئے فارمیٹ کے اہل تھے؟ جماعت اسلامی ہند کو یہ سوچنا ہوگاکہ کہیں وہ تحریک سے ہٹ ایک تنظیم تو نہیں بن گئی ہے۔ جماعت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کل اس نے گارڈ حضرات کو ایک جھٹکے میں منع کیا اس کے بعد آج دعوت کے ذمہ داران کو منع کردیا۔ کل کانتی اور پرسوں انڈیا ٹومارو(کیوں کہ یہ بھی بالکل پرفارم نہیں کرپا رہا ہے) اور نرسوں کسی اور ٹیم کو باہر کا راستہ دکھایا جاسکتاہے۔اگر اس فیصلے کے ذریعہ پرانے لوگوں کو ہٹا کر نئے لوگوں کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ نئے لوگوں کو نئے اعتبار سے فیڈ کیا جائے گا اور مودودی کی سوچ سے ہٹا کر جماعت کے 12ہزار پڑھے لکھے ذمہ داران کی نئے سرے سے فیڈنگ کی جائے گی تو کہیں نہ کہیں سوال پیدا ہوگا اور پھر جماعت کا مستقبل کیا ہوگا یہ خود جماعت کو سوچنا ہوگا۔

واضح رہے کہ مرکز جماعت اسلامی ہند میں منعقد ہفت روزہ دعوت کے افتتاحی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ صحافت اندھیرے میں چلنے والے مسافروں کے ہاتھ میں مشعل کے مانند ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ راستے کے اتار چڑھاؤ اور دشمن و موذی جانوروں  کے پیتروں سے واقف اور روشناس ہوتا ہے۔ اس مشعل اور ٹارچ کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں صحافت کو مختلف چیلنجیز درپیش ہیں۔ post-truthاورpost-human rights  کا ولولہ پوری دنیا میں مچا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں سچائی پوری طرح سے دب رہی ہے۔ خبروں اور انفارمیشن کا ہجوم ہے۔ اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ سچائی اور حق کی آواز کو مظبوتی دی جائے اور اسے بلند کیا جائے۔ امیر جماعت نے کہا کے دعوت ان تقاضوں کی تکمیل کرے گا۔

                اس پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے کہا کہ اخباروں کے مضامین اور خبروں پیشکش کے معیار کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ہم کتنا گر چکے ہیں۔ جو خبریں شائع ہو رہی ہیں وہ نہیں ہونی چاہئیں۔مختلف صوبوں، پارٹیوں، ملک کے اندرونی حصوں  اور بیرونی ممالک میں واقعتاََ کیا ہو رہا، اس کو جاننے کی سخت ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خان نے جماعت کے ذمہ داروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہفت روزہ دعوت کے علاوہ ایک روزنامہ کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بر وقت صحیح خبر سے با خبر کیا جا سکے۔ انہوں اس امید کا اظہار کیا کہ دعوت نیوز پورٹل ان ضرورتوں کو پورا کر سکے گا۔

                جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ میڈیا کی جو اہمیت ہے اس سے ہم سب واقف ہیں۔ آج میڈیا ایک فیصلہ کن طاقت بن گیا ہے۔ جماعت نے نے شروع سے ہی اس بات کو محسوس کیا کہ اپنی بساط کی حد تک اس کا بھی اپنا میڈیا ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ جو لوگ جماعت اور ملت کا نقطہ نظر جاننا چا ہتے ہیں وہ دعوت کو ہی اپنی اصل سوچ سمجھتے ہیں اور یہ کہ دعوت کے ذریعہ جو بات آئے گی وہ ایک لحاظ سے ملت کی ترجمان ہوگی۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ دعوت کی تاریخ ہے کہ اس نے کبھی غیر سنجیدہ باتیں نہیں لکھی۔دعوت ہمیشہ سے سنجیدگی اور دلائل  کے ساتھ بات کرتا رہا ہے، یہ اس کی خصوصیت رہی ہے۔ انہوں نے نئے ہفت روزہ دعوت  کے جاری ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور یہ امید ظاہر کی کہ دعوت ایک نئی شکل میں سامنے آ رہا ہے، جسے ملک اور ملت کا ترجمان ہونا چاہیے۔ دعوت کے متعلق جو اعتبار قائم ہے اسے باقی رہنا چاہیے۔

                دعوت کے سابق چیف ایڈیٹر پرواز رحمانی نے دعوت کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند کا پہلا ترجمان الانصاف تھا۔ جماعت کے ارکان ملک کے مختلف حصوں میں دور دراز علاقوں میں رہتے تھے۔ اس وقت مواصلات کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے 1948میں الانصاف کو جاری کیا گیا۔  1953میں ہفت روزہ دعوت کے نام سے اخبار جاری ہوا۔ 1960میں جماعت اسلامی ہند کا آل انڈیا اجتماع دہلی کے لال قلعہ کے پیریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہوا اس موقع پر یہ طے کیا گیا کہ دعوت کو روزنامہ میں تبدیل کر دیا جائے، جو 1982تک شائع ہوتا رہا۔ اس دوران اس کے ساتھ سہ روزہ بھی شائع ہوتا رہا۔ پڑوسی ملک میں کچھ واقعات ہوئے، ملک میں ایمر جنسی نافذ کی گئی۔ اس دوران آر ایس ایس سے دعوتی ربط و ضبط کو ملک کے دیگر ہفتہ روزہ نے اپنے اپنے انداز سے غلط طور پر تشہیر اور پروپیگنڈہ کیا اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کیں۔ غلط پروپیگنڈہ کی تردید کے لیے ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک ہفت روزہ شائع کیا جائے۔ اس طرح سہ روزہ، روزنامہ اور ہفتہ روزہ کئی سالوں تک ایک ساتھ شائع ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اخبار نکالنے کے لیے سیاسی سر پرستی، طاقت اور پیسہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن دعوت نے حکومت سے کوئی سر پرستی حاصل نہیں کی۔ محدود وسائل کے ساتھ دعوت کو اب تک سینچا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اخبار کی خصوصیت یہ بھی ر ہی ہے کہ جماعت اسلامی ہند کا اخبار کہلانے کے باوجود  اس نے ملت کے تمام تنظیموں، جماعتوں اور اداروں کو اپنے کالموں میں جگہ دی۔دعوت نے مسلکوں سے اوپر اٹھ کر کام کیا اور مثبت تبصرہ بھی کرتا رہا۔

 

دعوت ہفت روزہ کے اجرا کے موقع پر دعوت کا نیوز پورٹل (dawatnews.net) اور انڈرائڈ ایپ بھی لانچ ہوا۔ افتتاحی پروگرام میں جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داروں کے علاوہ دہلی کی اہم شخصیات اور سینئر صحافی بھی موجود تھے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.