Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

یہودیوں پر ساشا الھم کی پہلی ہندوستانی شارٹ فلم

یہ ایک یہودی نوجوان کی کہانی ہے جو فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ایک مسلم عورت اور اس کی جوان بیٹی کی حفاظت کرتا ہے۔ ساشا الھم کے مطابق، ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، وہاں بہت حد تک نفرتوں کو کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کے ان کے پاس کچھ اور پروجیکٹ بھی ہیں، جس کی شوٹنگ بہت جلد ممبئی شروع ہونے والی ہے۔ساشا الھم نے بتایا یہ دور تجربوں کا دور ہے۔ فلموں سے زیادہ مسبولیت شارٹ فلموں کو مل رہی ہے۔ یہ شارٹ فلموں کا زمانہ ہے۔ جلدہی یہ فلم غیر ممالک کے مختلف چینلوں پر بھی دکھا ئی جائے گی۔

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

پریس ریلیز: ابھی حال میں پوکٹ فلم کے تعاون سے یوٹیوب پر ساشا الہم کی پہلی شارٹ مووی’میں یہودی ہوں‘ کو ریلیز کیا گیا ہے۔ اس فلم کا پروموشن آن لائن ڈسٹریبیوشن پارٹنر پاکٹ فلم نے کیا ہے۔ جہاں صرف فلموں کے  بلند معیار کو ہی دیکھا پرکھا جاتا ہے۔ اس فلم کی کہانی بھی ساشا الہم نے لکھی ہے ساتھ ہی فلمساز اور ہدایتکار کے فرائض بھی انجام دیے ہیں۔ موسیقی تباچکے اور سوربھ کی ہے۔ ایڈیٹر نکھل اگنی ہوتری ہیں اور اداکاری کے فرائض اپرواسنگھ، نکی نیگی، رشمی سہانی نے انجام دیے ہیں۔ اس فلم کو اب تک اے اے بی انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں بہترین ہندوستانی مختصر فلم ایوارڈ، کلٹ کریٹک مووی ایوارڈ، کلکتہ انٹر نیشنل کلٹ فلم فیسٹول کی طرف سے بہترین فلم میکر ایوارڈ اور مذہب پر مبنی بہترین فلم کا ایوارڈ دیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ لیک ویو انٹرنیشنل فلم فیسٹول کی طرف سے بیسٹ اسکرین رائٹر کا ایوارڈ بھی ساشا الہم کو مل چکا ہے۔ ساشا الھم کے مطابق ہندوستان میں یہودیوں پر بنی یہ پہلی فلم ہے اور اس فلم کے لئے انہوں نے یہودیوں کی زندگی کو قریب سے جاننے کی کوشش کی ہے۔ اس فلم کا مقصد آپسی بھائی چارگی کو بڑھاوا دینا ہے۔ ساشا الھم نے بتایا کہ یہودیوں پر ہندوستان میں اب تک کوئی کام نہیں ہوا جبکہ یہاں ۵ ہزار یہودی رہتے ہیں۔ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان بہت حد تک مماثلت ہے۔ یہ ایک یہودی نوجوان کی کہانی ہے جو فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ایک مسلم عورت اور اس کی جوان بیٹی کی حفاظت کرتا ہے۔

0251f205-c9b3-4c41-90ee-20b3cd80a707.jpg

ساشا الھم کے مطابق، ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، وہاں بہت حد تک نفرتوں کو کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کے ان کے پاس کچھ اور پروجیکٹ بھی ہیں، جس کی شوٹنگ بہت جلد ممبئی شروع ہونے والی ہے۔ساشا الھم نے بتایا یہ دور تجربوں کا دور ہے۔ فلموں سے زیادہ مسبولیت شارٹ فلموں کو مل رہی ہے۔ یہ شارٹ فلموں کا زمانہ ہے۔ جلدہی یہ فلم غیر ممالک کے مختلف چینلوں پر بھی دکھا ئی جائے گی۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.