ملک میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کے لئے کوشاں مذہبی رہنما

لک میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کو تقویت دینے کی غرض سے آرچ بشپ ہاؤس میں مختلف مذاہب کے ممتاز رہنماؤں کی ایک مشترکہ تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب آرچ بشپ انیل جوزف تھامس’کوٹو‘ کو 1981 میں پادری مقرر کیے جانے کے چالیس سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی تھی ۔اس موقع پر مذہبی رہنماوں میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسرمحمد سلیم انجینئر نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے قدرتی آفات کوویڈ 19-کا سامنا کیا اور اس کی ویکشین تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس سال بھی ملک کو ایک بڑے چیلنجیعنی نفرت کے وائرس کا سامنا ہے جسے معاشرے کے کچھ لوگوں نے پیدا کیا ہے اور یہ وائرس آسانی سے نہیں ختم ہونے والا ہے۔اس کے خاتمے کے لئے ہم مذہبی رہنماؤں کو ملک میں ہم آہنگی اور محبت کو فروغ دینے کے لئے مل کر جدو جہد کرنی ہوگی۔نفرت کے اس خطرناک وائرس کا یہی اصل علاج ہے۔ اس تقریب میں وِشو دھرم سانسد کے صدر اچاریہ سشیل گوسوامی، جین مذہب کے ویویک مونی،گرنتھی گردوارہ بنگلہ صاحب کے چیف گیانی رنجیت سنگھ، ڈاکٹر جان دیال، یہودی ربی اساک مالکار، رام کرشن مشن کے شانت آتما نند، نیشنل مائنارٹی کمیشن کے سابق ممبر اے سی مائیکل، فادر فیلکس جان، آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے شرکت کی۔ان مذہبی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ آج کے موجودہ حالات میں مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔مذہبی پیشوا ملک میں نفرت کے ماحول کو محبت میں بدلنے کا کردار موثر انداز میں ادا کرسکتے ہیں۔لہٰذا انہیں ملک میں بھائی چارہ، امن کی بحالی اور باہمی مضبوط اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرنی ہوگی۔ان رہنماؤں نے آرچ بشپ کو مبارکباد پیش کی اورمعاشرے میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا اوراخلاقی اقدار کو فروغ دینے کے لئے سماج میں مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔نیز امن، انصاف، ترقی اور ملک کی خوشحالی کے لئے دعا کی۔ تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں پھیلی نفرت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر سماج میں جانا ہوگا اور نفرت اور سماج میں تقسیم کی جو ہوا چل رہی ہے اس کے بارے میں بیداری لانی ہوگی۔

وطن سماچار ڈیسک

ملک میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کے لئے کوشاں مذہبی رہنما

 

            نئی دہلی،11فروی:ملک میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کو تقویت دینے کی غرض سے آرچ بشپ ہاؤس میں مختلف مذاہب کے ممتاز رہنماؤں کی ایک مشترکہ تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب آرچ بشپ انیل جوزف تھامس’کوٹو‘ کو 1981 میں پادری مقرر کیے جانے  کے چالیس سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی تھی ۔اس موقع پر مذہبی رہنماوں میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسرمحمد سلیم انجینئر نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے قدرتی آفات کوویڈ 19-کا سامنا کیا اور اس کی ویکشین تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس سال بھی ملک کو ایک بڑے چیلنجیعنی نفرت کے وائرس کا سامنا ہے جسے معاشرے کے کچھ لوگوں نے پیدا کیا ہے اور یہ وائرس آسانی سے نہیں ختم ہونے والا ہے۔اس کے خاتمے کے لئے ہم مذہبی رہنماؤں کو ملک میں ہم آہنگی اور محبت کو فروغ دینے کے لئے مل کر جدو جہد کرنی ہوگی۔نفرت کے اس خطرناک وائرس کا یہی اصل علاج ہے۔ اس تقریب میں وِشو دھرم سانسد کے صدر اچاریہ سشیل گوسوامی، جین مذہب کے ویویک مونی،گرنتھی گردوارہ بنگلہ صاحب کے چیف گیانی رنجیت سنگھ، ڈاکٹر جان دیال، یہودی ربی اساک مالکار، رام کرشن مشن کے شانت آتما نند، نیشنل مائنارٹی کمیشن کے سابق ممبر اے سی مائیکل، فادر فیلکس جان، آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے شرکت کی۔ان مذہبی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ آج کے موجودہ حالات میں مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔مذہبی پیشوا ملک میں نفرت کے ماحول کو محبت میں بدلنے کا کردار موثر انداز میں ادا کرسکتے ہیں۔لہٰذا انہیں ملک میں بھائی چارہ، امن کی بحالی اور باہمی مضبوط اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرنی ہوگی۔ان رہنماؤں نے آرچ بشپ کو مبارکباد پیش کی اورمعاشرے میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا اوراخلاقی اقدار کو فروغ دینے کے لئے سماج میں مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔نیز امن، انصاف، ترقی اور ملک کی خوشحالی کے لئے دعا کی۔ تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں پھیلی نفرت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر سماج میں جانا ہوگا اور نفرت اور سماج میں تقسیم کی جو ہوا چل رہی ہے اس کے بارے میں بیداری لانی ہوگی۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.