محبت کے طوفان نے بجھادیئے نفرتوں کے چراغ

تین ریاستوں میں کانگریس کی جیت اور بی جے پی کی شکست پر عوامی رد عمل

وطن سماچار ڈیسک

پٹنہ 13؍دسمبر :راجستھان ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ،تلنگانہ اور میوزورم کے ہوش مند ،ذی شعور اور سیاسی بصیرت کے حامل عوام نے جمہوری طریقے اپناکر فسطائیت اور اقتدارکے نشے میں چورو مغرورطاقت کا سرکچل کر سیکولر اقدار کا پرچم لہرا دیاہے اور ساری دنیا کو یہ بتا دیاہے کہ باطل ،ڈھونگی اور حقوق غصب کرنے والے نفرت کے طوفان میں ابھی اتنی طاقت نہیں کہ گنگاجمنی ،خیر سگالی او رباہمی محبت کے چراغوں کو بجھا سکیں۔ان پانچ ریاستوں کی عوام خصوصامسلمانوں نے جس اتحاد ویکجہتی او ربیدار مغزی کا مظاہرہ کیا ہے وہ جمہوریت کی بقا اور قانون کی بالادستی کے لئے روشن ثابت ہونگے ۔پانچوں ریاستوں کے عوام نے فرقہ پرست عناصر کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب ہم ہندوستانی عوام کو زیادہ دنوں تک بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے ،اب ہم بیدار ہوچکے ہیں ، ہمیں کوئی بھی سیاسی جماعت عوامی مسائل سے بھٹکاکر ہندومسلم ، مندرمسجد اور سماج کو بانٹنے کی نفرت پر مبنی سیاست میں نہیں الجھاسکتی ہے ۔پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے تنائج پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن او راسلامک پیس فاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیئرمین مولانا سید طارق انور نے کیا۔اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی او ران کے حواری ملک کے فطری سیکولر عوام کو بانٹنے اور مذہبی جذباتیت وجنون کو ابال کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہر ناجائز ہتھکنڈے اپناتے جارہے ہیں لیکن ان پانچوں ریاستوں کے عوام قابل مبارکباد ہیں کہ جنہوں نے ان کے غرور پر خاک ڈالتے ہوئے ایسا سبق سکھایا ہے کہ وہ منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہے ۔
کانگریس کی شاندار واپسی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جیت کا جو آغاز تین اہم ریاستوں سے کیا ہے وہ آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے عام انتخابات تک جاری رہے گا۔انہو ں نے کہا پانچوں ریاستوں خاص طورسے راجستھان ،مدھیہ پردیش ،تلنگانہ اور چھتیس گڑھ میں پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کے اتحاد ویکجہتی کی بدولت کانگریس اور ٹی آر ایس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب ان ریاستوں کی نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں پیدا شدہ مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دے او رآبادی کے تناسب سے اقتدار میں مسلمانوں کی حصہ داری کو یقینی بنائے ۔
بہار کے نوجوان سماجی کارکن اور مسلم یوتھ موومنٹ کے ریاستی سکریٹری ارشاد انور نے پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کو خوش آئنداور جمہوریت کی جیت بتاتے ہوئے کہا کہ عوام نے ایک خاص آدمی کی من کی بات سنتے سنتے اب اپنی من کی بات کا اظہار کردیا ہے اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو اقتدار کی چابی سپردکرکے انہیں یہ باور کرادیا ہے کہ ہم کسی کے کھوکھلے وعدے اور اندیکھے اجالے میں زیادہ دنوں تک اپنا سیاسی استحصال برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ بی جے پی نے اپنی انتخابی تشہیری مہم میں مندرمسجد یہاں تک کہ ایک دیوتاکو دلت بتلاکر دلت کارڈکھیلنے کی گھنونی سازش بھی کی مگر اب کی بار ان کی ساری عیاری ،مکاری اور سیاسی شعبدہ بازی دھری کی دھری رہ گئی اور پانچوں ریاستوں کے نتائج نے یہ بھی واضح کردیا کہ ملک کی اکثریت نفرت وتشد،فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت کو پھیلانے والی جماعت کو پسند نہیں کرتی ہے ۔
سیمانچل مدرسہ ایجوکیشن فورم کے جنرل سکریٹری مولانا اورنگ زیب کلیم قاسمی نے راجستھان ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،تلنگانہ اور میوزورم کے نتائج پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے او راپنی عوام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے عوامی مقبولیت کھوتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا بی جے پی کے ذریعہ سارے حربے استعمال کرنے کے باوجود بھی اس کی شکست فاش اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب بی جے پی کیلئے اچھے دن نہیں آنے والے ہیں ۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.