پاکستان کی سیاست ہمسایہ ممالک کیلئے خطرہ

یہ ایک کھلی سچائی ہے کہ آئی ایس آئی (انٹر سروسیز انٹیلی جنس ،پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی) پاکستان کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال رہی ہے جس سے ایک باقاعدہ سویلین حکومت کی زیر نگرانی فوج ملک پر مکمل کنٹرول رکھ سکے۔اس سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا آئی ایس آئی پاکستان اور اس کے سیاسی سربراہوں کو جنگی زون کی طرح مانتی ہے۔وزیر اعظم ملٹری ہیڈ کے مشورے پر جس طرح آئی ایس آئی سربراہ کو نامزد کرتے ہیں اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کی وفاداری سویلین حکومت کیلئے بدل جاتی ہوگی۔اس کی وجہ سے فوجی سربراہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اپنے انتظامات اور خواہش کی تکمیل کیلئے وہ کس کی امیدوں پر کھرا اترے ملک کی یا جس نے اس کو اس اہم منصب پر بٹھایاہے۔

وطن سماچار ڈیسک

پاکستان کی سیاست ہمسایہ ممالک کیلئے خطرہ

مکرمی!

یہ ایک کھلی سچائی ہے کہ آئی ایس آئی (انٹر سروسیز انٹیلی جنس ،پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی) پاکستان کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال رہی ہے جس سے ایک باقاعدہ سویلین حکومت کی زیر نگرانی فوج ملک پر مکمل کنٹرول رکھ سکے۔اس سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا آئی ایس آئی پاکستان اور اس کے سیاسی سربراہوں کو جنگی زون کی طرح مانتی ہے۔وزیر اعظم ملٹری ہیڈ کے مشورے پر جس طرح آئی ایس آئی سربراہ کو نامزد کرتے ہیں اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کی وفاداری سویلین حکومت کیلئے بدل جاتی ہوگی۔اس کی وجہ سے فوجی سربراہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اپنے انتظامات اور خواہش کی تکمیل کیلئے وہ کس کی امیدوں پر کھرا اترے ملک کی یا جس نے اس کو اس اہم منصب پر بٹھایاہے۔

 

 آیاوہ اپنے تمام تراقدامات کس کی خوشنودی کیلئے کرے۔پاکستان کے سابق جنرل ایوب خان نے آئی ایس آئی کو غیر معمولی اختیارات اور ایوارڈز دیئے تھے اور اس کو پورے ملک میں اپنے حریفوں کو دبانے کیلئے استعمال کیا۔آئی ایس آئی نے جنرل ایوب خان کی نوازشات اور مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے جرمنی تاناشاہ ہٹلر کے ایس ایس پولیس کی طرح خود کو ڈیولپ کیا۔

 

اپنے ملک پر امکانی خطرات پر کام کرنے کے بجائے آئی ایس آئی نے اپنے سیاسی منصوبے پر تخمینے والے خطروں پر کام کرنا شروع کردیا۔90کی دہائی کے اوائل میں سی آئی اے نے آئی ایس آئی کی مدد سے سوویت یونین کیخلاف لڑنے کیلئے مجاہدین (طالبان) کو تیار کرنے اورانھیں مسلح کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کئے۔ آئی ایس آئی نے نتیجے کے طور پر دوہرا کھیل کھیلا اور اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلئے ہر طرح کی امداد (نقد ، فوجی پوشاک ، اسلحہ ، ہارڈ ویئر اور اسی طرح کی بہت ساری چیزیں) میں سی آئی اے کے شیر کا حصہ استعمال کیا۔

 

 

وادی کشمیر اور باقی ہندوستان میں خوف پر مبنی جارحانہ حملوں کی تیاری کی اور اسلحے ،خطرناک منصوبے اور انجام دہی نیز بہت کچھ استعمال کیا گیا۔ سی آئی اے کی فوجی امدادکا بہت تھوڑا سا حصہ روس سے لڑنے والے طالبان پر خرچ کیاگیا۔ 1990 کی دہائی تک پاکستان کے اندر آئی ایس آئی اتنی ناقابل یقین تھی کہ کسی کو بھی اس کی مرضی کیخلاف جانے کی جرأت نہیں تھی۔

 

حتی کہ پاکستانی حکومت بھی اس کیخلاف بے بس ہے کیونکہ یہ عوامی اتھارٹی سے کہیں زیادہ مستحکم پوزیشن بناچکی ہے۔آئی ایس آئی نے خود مختاری کے بعدخود کو اس طرح  مضبوط کیا کہ سیاسی اور فوجی انتظامیہ اپنی عوامی سلامتی کیلئے اس کومستقل خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ افسران بااختیار ہیں اور مالی مدد کی وجہ سے آئی ایس آئی نے دنیا بھر میں اپنا جال بچھا رکھا ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں جو ملک اپنی انٹیلی جنس کے زیر اثر ہو اس پر کبھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آئی ایس آئی جیسا ادارہ بغیر کسی عوامی احتساب کے خلل ڈالنے والی سرگرمیاں انجام دیتاہے۔

 

 پاکستان جیسی اسلامی ریاست جو ایک جنونی تنظیم کے کنٹرول میں ہے ، وہ جمہوری ہندوستان کیلئے مشکلات پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ، جبکہ بھارت ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرارہا ہے۔

 

محمد ہاشم

چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی- 6

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.