Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

پاکستان نوشتہ دیوارکو دیکھے

گیسٹ کالم

محمد ہاشم چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی

 

!مکرمی

 

 افغانستان کی پوزیشنسے تعلق رکھنے والی مغربی طاقتوں کی نظر میں اہم جغرافیائی مقام پرہونے کے باوجوداگرپاکستان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں وہ کس اوقات پر پہنچ چکاہے تو اس کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کوسمجھنا ازحد ضروری ہے کہ جغرافیائی اہم مقام پر ہونے اور جنگ زدہ افغانستان  سے امریکی فوجوں کے انخلاء کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی حیثیت کے باوجود وہ عالمی برادری میں اکیلا کھڑا ہے۔کشمیر ی مراعات سے متعلق دفعہ370 کی منسوخی کے بعد اسلام آباد نے دنیا میں گرچہ زورو شور سے واویلا مچایا تاہم دنیا نے اس کی چیخ وپکارپر کوئی توجہ نہیں دی۔ دفعہ کی منسوخی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی مہر لگنے کے بعدہوئی جو جموں وکشمیر کے عوام کو خصوصی مراعات دیتی تھی، اب ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں منقسم کردیاگیا ہے جو لداخ اور جموں وکشمیرپر مشتمل ہے۔

اب یہ کام بین الاقوامی برادری کا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے بارے میں پاکستان کے متضاد موقف کو دیکھے۔ جموں وکشمیر کوعارضی بنیاد پر خصوصی مراعات دہندہ بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو پاکستان نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اب وہ اسی دفعہ کی منسوخی کو ایک ایشوبنانے کی کوشش کررہا ہے۔ عالمی برادری نے منصفانہ طو رپر بھارت کے’اندرونی معاملہ‘کا موقف اختیار کیا ہے کیونکہ جموں وکشمیر بھارت کا جزولاینفک تھا، ہے اور رہے گا۔ اسلام آباد اب اپنے عوام کو اس جھانسے میں بہلا پھسلا کر بیوقوف بنارہا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ دفعہ کی منسوخی کے پہلے دن سے یکجہتی کا مظاہرہ کررہا ہے۔یہ بہت بڑی گمراہی پھیلانے والی بات ہے، جہاں تک پاکستان کا معاملہ ہے تو وہ کشمیریوں کیلئے 5 فروری کو ’یوم یکجہتی کشمیر‘ مناتا رہا ہے کیونکہ وہ کشمیرکی علاحدگی کے اپنے کاز پر پابند عہد ہے جبکہ کشمیر کی سچائی یہ ہے کہ وہ بھارت کی ایک ریاست ہے اور اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح ملک سے متحد ہے۔

پاکستان کیلئے یہ وقت دیوار پر لکھی ہوئی عبارت کو بغور دیکھنے کا ہے اوراس کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندرونی مسائل پرخصوصی توجہ مرکوز کرے بجائے اس کے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے معاملات میں ٹانگ اڑائے کیونکہ اس کے اندرونی معاملات زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ اسے اب یہ حرکت چھوڑدینی چاہئے۔ حالیہ 5 اگست 2019 کوجموں وکشمیر کو خوصی رعایت دینے والی بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو صدر جمہوریہ ہند کے ایک حکم سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ دراصل کشمیر گھاٹی برسوں سے تشدد اور آزادی کی چیخ وپکار میں مبتلا تھی اور حالیہ دنوں دفعہ کی منسوخی کے بعدسے وہاں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ مرکزی سرکار نے حالانکہ عید کے موقع پر کئی پابندیاں ہٹالی تھیں، تاہم اس کے بعد سے دفعہ 144 کانفاذ ہے۔

 

وضاحت نامہ :یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے ۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سےوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے ۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.