مسلمانوں کو صبر کرنے کی ضرورت ہے

قرآن کریم میں اس تعلق سے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’ اچھائی ور برائی ایک جیسی نہیں ہوتیں، برائی کا اچھائی کے ساتھ جواب دو، پھر جو جھگڑے باز ہے وہ ایک قریبی دوست میں بدل جائے گا‘‘ (سورہ نمبر 41 آیت نمبر 34)۔ اسلام کا یہ ایک مستقل پیغام ہے، جس کی مسلمان پیروی کرتے ہیں۔ دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دینی چاہئے۔ مذکورہ موضوع کی تائید میں اور بہت سی آیتیں ہیںجن کے مطابق مسلمان اپنے روزمرہ کے معاملات میں عمل کا پابند ہے۔ اس طرح قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو پیرس میں جس طرح استاذ کے ہاتھ کاٹنے کا معاملہ آیا اور پرتشدد عمل ہوا، قرآن اور پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں۔ یہ واضح طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے، کہ اگر کوئی خاکہ سازی کی نمائش جیسے سانحات کا تشدد سے جواب دیتا ہے تووہ اس کا ذاتی فعل ہوتا ہے ، مزید یہ کہ ایساشخص لازمی طور پر اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا اور نہ ہی مسلم سماج میں اس عمل کا کوئی جواز تلاش کیا جاسکتا ہے۔

گیسٹ کالم

مسلمانوں کو صبر کرنے کی ضرورت ہے

مکرمی!

 

پیرس کے سرقلم کرنے کا حالیہ واقعہ، آزاد خیال ترقی پسندانہ انداز، آزادی اظہار اور تقریرجیسے جمہوری اقدار کے پیرامیٹر کے تحت جدید طرز زندگی اور اس کی اسلام یا پیغمبر کی مطابقت کے بارے میں بحث کو جنم دیتا ہے۔اگر چہ ہرایک مذہب اسلام اور اس کے عوامی مظہرکی مخصوص نوعیت پر متفق ہے، لیکن جب فرق کی قبولیت کی بات آتی ہے تو تحفظات پھوٹنا شروع ہوجاتے ہیں اور ہم سنتے ہیں کہ اسلام کو سفاکیت اور روایت پسندی کا مترادف کرنے کے گرچہ دلائل ہیں، تاہم ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میںہیں جو اسلام کے امن، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے بنیادی پیغام پر متفق ہیں۔ اسلاموفوبیا کے عروج ، جہاد کے ناجائز استعمال، مسلم دنیا میں افراتفری اور اسلام کوامن اور جمہوری نظام کے منافی قرار دینے میں مستقل میڈیاکا مہم چلانا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عجیب وغریب نقاشوں کی تصویر کشی اوران کے کردار و شخصیت کے بارے میں ہتک آمیز اور توہین آمیز تقریریں کرنا، دھمکی آمیزاور انتقامی ردعمل کو بھڑکانے والاہے۔

 

 

یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس طرح کی توہین اور اشتعال انگیزیاں جاری رہیں گی اور مسلمانوں کو ان کے ساتھ اچھے سلوک سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مخالفین جس انداز میں ہمارے ساتھ برا برتاؤ کرتے ہیں ہمیں اسی منفی انداز میں سلوک نہیں کرنا چاہئے۔ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس طرح کی توہین رسالتؐ سے کسی بھی طور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی اور قابل احترام مقام میں کوئی گراوٹ نہیں آنے والی، کیونکہ اس طرح کی توہین رسالت کا پروپیگنڈاداستان گوئی کا ایک حصہ ہیں، جوجھوٹی اور بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیںاور یہ بات مسلمانوں کو جدیدیت اور سیکولرزم سے نااہل ثابت کرنے کی داستان ہے۔تاہم اس طرح کی توہین رسول اکرمؐ کی زندگی میں آئے روز پیش آنیوالے واقعات تھے، لیکن دوسری طرف آپؐ کا کردار، شفقت اوررواداری عظیم اخلاقیات کی عکاسی کرتا ہے، آپؐ نے ہر اشتعال انگیزی اور توہین کا عمدہ جواب دیااور اس کے ذریعہ دنیا کو ایک ایسا پیغام دیا جو آپ کی گرویدہ ہوگئی ۔

 

 

 

قرآن کریم میں اس تعلق سے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’ اچھائی ور برائی ایک جیسی نہیں ہوتیں، برائی کا اچھائی کے ساتھ جواب دو، پھر جو جھگڑے باز ہے وہ ایک قریبی دوست میں بدل جائے گا‘‘ (سورہ نمبر 41 آیت نمبر 34)۔ اسلام کا یہ ایک مستقل پیغام ہے، جس کی مسلمان پیروی کرتے ہیں۔ دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دینی چاہئے۔ مذکورہ موضوع کی تائید میں اور بہت سی آیتیں ہیںجن کے مطابق مسلمان اپنے روزمرہ کے معاملات میں عمل کا پابند ہے۔ اس طرح قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو پیرس میں جس طرح استاذ کے ہاتھ کاٹنے کا معاملہ آیا اور پرتشدد عمل ہوا، قرآن اور پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں۔ یہ واضح طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے، کہ اگر کوئی خاکہ سازی کی نمائش جیسے سانحات کا تشدد سے جواب دیتا ہے تووہ اس کا ذاتی فعل ہوتا ہے ، مزید یہ کہ ایساشخص لازمی طور پر اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا اور نہ ہی مسلم سماج میں اس عمل کا کوئی جواز تلاش کیا جاسکتا ہے۔

محمد ہاشم

 چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی- 6

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.